علماءِ اسلام کے فرائض اور علماء سوء کا خطرہ
ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اللہ سے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں"
(سورۃ فاطر، آیت 28)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ علم حقیقی کا ثمرہ خوفِ الٰہی اور تقویٰ ہے، نہ کہ محض ڈگریاں یا سندیں۔ وہ لوگ جو اللہ سے نہیں ڈرتے، وہ حقیقی عالم نہیں، چاہے دنیاوی تعلیم میں کتنے بھی ماہر ہوں۔
علماء کی اصل ذمہ داری
قرآن و سنت کی عملی پیروی:
علماء کا فرض ہے کہ وہ قرآن و سنت کے حقیقی پیغام کو سمجھیں اور عمل کریں، اور اسی کی تعلیم دوسروں تک پہنچائیں۔
امت مسلمہ کو متحد رکھنا:
فرقہ واریت، منافرت اور گروہی تعصب سے امت کو بچانا علماء کا منصبی فریضہ ہے۔
اسلامی اصولوں کی تعلیم:
معاشرتی اصلاح، عدل و انصاف، تعلیم و تربیت، حقوق اللہ و حقوق العباد کی تلقین، اور عملی عبادات (نماز، زکوة وغیرہ) کی رہنمائی کرنا۔
عصری علوم و تربیت کی سہولیات:
مسلمانوں کو جدید سائنسز، انجینئرنگ، ہیلتھ اور تحقیق کے مواقع فراہم کرنا تاکہ امت مسلمہ مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ بن سکے۔
علماء سوء کا خطرہ
علماء سوء وہ ہیں جو فرقہ واریت، منافرت اور جھوٹے نظریات پھیلاتے ہیں، اور اپنے ذاتی یا گروہی مفادات کو دین پر ترجیح دیتے ہیں۔
قرآن و سنت کی تعلیم کی بجائے اپنے فرقے کے نظریات کو عام کرتے ہیں۔
مسلمانوں کو تقسیم کرتے اور مذہبی دشمنی پھیلانے میں ملوث ہوتے ہیں۔
حقیقی علم اور تقویٰ کے بغیر صرف مادی یا ذاتی اقتدار کے خواہاں رہتے ہیں۔
حقیقی عالم وہ ہے جو اپنے علم کے ذریعے امت کی اصلاح، اتحاد اور خدمت کرے، نہ کہ انتشار اور فرقہ واریت پھیلائے۔
امت مسلمہ کی وحدت
اللہ تعالیٰ نے اسلام کو مکمل دین کے طور پر بھیجا، جس میں قرآن و سنت ہی اولیّت اور حجیت رکھتے ہیں۔ کسی فرقے یا شخص کی رائے کو دین پر فوقیت دینا درست نہیں۔
ہر مسلمان کو صرف مسلم کی حیثیت سے اپنا دین پہچاننا چاہیے۔
فرقوں کی تعصب سے پرہیز کرتے ہوئے، قرآن و سنت اور رسول ﷺ کی اسوۃ حسنہ پر عمل و اتباع ضروری ہے۔
نتیجہ:
حقیقی علماء امت کو قرآن و سنت کے مطابق اتحاد، امن، اصلاح اور ترقی کی راہوں پر لے جاتے ہیں، جبکہ علماء سوء انتشار اور منافرت پھیلاتے ہیں۔ امت مسلمہ کی مضبوطی اور فلاح اسی راستے سے ممکن ہے۔
No comments:
Post a Comment