اتباعِ رسول ﷺ اور بدعت کا مفہوم
آیتِ محبتِ الٰہی کی روشنی میں
تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
تمہید: محبت کا دعویٰ یا عملی ثبوت؟
دینِ اسلام میں اللہ تعالیٰ سے محبت محض ایک جذباتی کیفیت یا روحانی دعویٰ نہیں، بلکہ ایک عملی عہد ہے۔ قرآنِ حکیم نے اس محبت کے لیے ایک واضح اور قطعی معیار مقرر کر دیا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید کی سورۃ آلِ عمران میں ارشاد ہوتا ہے:
﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ﴾
(آلِ عمران: 31)
مفہوم:
“(اے نبی ﷺ!) فرما دیجئے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔”
یہ آیت دراصل ایمان کے دعوے کو عمل کی کسوٹی پر پرکھنے کا معیار ہے۔ اللہ کی محبت کا راستہ صرف اور صرف اتباعِ رسول ﷺ سے ہو کر گزرتا ہے۔
محبتِ الٰہی کا قرآنی معیار
یہ آیت اپنے اسلوب اور پیغام دونوں اعتبار سے انقلابی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ:
محبتِ الٰہی کا دعویٰ کافی نہیں
جذباتی وابستگی کافی نہیں
صرف نعت خوانی یا تقریری جوش کافی نہیں
بلکہ عملی اتباع ہی اصل معیار ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرت، سنت اور منہج وہ آئینہ ہے جس میں ایک مومن اپنی محبت کی صداقت دیکھ سکتا ہے۔ اگر زندگی کے فیصلے، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق سب سنت کے تابع ہوں تو یہی سچی محبت ہے۔
اتباعِ رسول ﷺ: مغفرت اور قربِ الٰہی کا راستہ
آیتِ مذکورہ میں اتباع کے دو عظیم ثمرات بیان کیے گئے ہیں:
اللہ کی محبت
گناہوں کی مغفرت
یہ دونوں نعمتیں ہر صاحبِ ایمان کی سب سے بڑی تمنا ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ سنتِ نبوی ﷺ محض فقہی رہنمائی نہیں بلکہ بندے اور رب کے تعلق کی بنیاد ہے۔
جس قدر اتباع مضبوط ہو گی:
روحانیت میں اضافہ ہو گا
اعمال میں اخلاص آئے گا
دل میں سکون پیدا ہو گا
اور معاشرے میں اعتدال قائم ہو گا
بدعت کیا ہے؟ ایک علمی و متوازن فہم
اتباعِ رسول ﷺ کے باب میں “بدعت” کا مسئلہ نہایت اہم ہے۔ بدعت سے مراد دین میں ایسی نئی بات کا اضافہ ہے:
جس کی اصل قرآن میں نہ ہو
سنتِ نبوی ﷺ میں نہ ہو
اور صحابۂ کرامؓ کے تعامل میں نہ ہو
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے۔”
(بخاری، مسلم)
یہ حدیث ہمیں دین میں احتیاط اور سنجیدگی کا درس دیتی ہے۔ دین انسانی تجربات کا میدان نہیں بلکہ وحی کی امانت ہے۔
بدعت کا فکری و روحانی نقصان
بدعت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ:
یہ سنت کی جگہ لے لیتی ہے
دین کی اصل روح دھندلا دیتی ہے
اور رفتہ رفتہ امت کو اصل منہج سے دور کر دیتی ہے
اکثر بدعات نیکی اور ثواب کے نام پر ایجاد ہوتی ہیں، مگر جب کسی عمل کی بنیاد وحی نہ ہو تو وہ عبادت نہیں بلکہ اضافہ شمار ہوتا ہے۔
دین میں اصل حسن “اتباع” میں ہے، نہ کہ “اختراع” میں۔
سنت: دین کا زندہ اور متوازن نمونہ
رسول اللہ ﷺ کی سنت محض تاریخی واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ عملی زندگی کا مکمل نظام ہے:
عبادات میں توازن
معاشرت میں اعتدال
معاملات میں انصاف
اخلاق میں نرمی
قیادت میں حکمت
صحابۂ کرامؓ کا طرزِ عمل یہی تھا کہ وہ ہر مسئلے میں پہلے یہ دیکھتے کہ نبی ﷺ کا اس بارے میں کیا ارشاد یا عمل ہے۔ یہی طریقہ امت کی وحدت اور سلامتی کا ضامن ہے۔
عصرِ حاضر میں اتباع کی ضرورت
آج امتِ مسلمہ جن فکری انتشار، فرقہ واریت اور روحانی کمزوریوں کا شکار ہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ:
محبتِ رسول ﷺ کو جذباتی نعروں تک محدود کر دیا گیا
جبکہ عملی اتباع کو نظر انداز کر دیا گیا
سوشل میڈیا کے دور میں دین کے نام پر نت نئے رجحانات اور غیر مستند افکار تیزی سے پھیلتے ہیں۔ ایسے ماحول میں آیتِ محبت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ:
اصل معیار صرف قرآن و سنت ہیں۔
جدید تناظر میں چند عملی رہنما اصول
1️⃣ عبادات میں تحقیق
ہر عبادت کو سنت کے مطابق ادا کرنے کی کوشش کریں۔
2️⃣ دین میں اعتدال
شدت پسندی اور بے جا نرمی دونوں سنت کے خلاف ہیں۔
3️⃣ علمِ مستند کا حصول
مستند علماء اور معتبر مصادر سے رہنمائی لیں۔
4️⃣ جذبات سے زیادہ دلیل
دین جذباتی وابستگی کا نام نہیں بلکہ وحی کی پیروی کا نام ہے۔
خلاصۂ کلام
آیتِ ﴿اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ﴾ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:
محبت کا معیار اتباع ہے
نجات کا راستہ سنت ہے
مغفرت کا ذریعہ پیرویِ محمدی ﷺ ہے
اور امت کی اصلاح قرآن و سنت کی طرف رجوع میں ہے
بدعت خواہ کتنی ہی خوش نما کیوں نہ ہو، وہ اتباعِ رسول ﷺ کا بدل نہیں بن سکتی۔ حقیقی روحانی بیداری اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے تابع کر دیں۔
اختتامی پیغام
اگر ہم چاہتے ہیں کہ:
اللہ ہم سے محبت کریں
ہمارے گناہ معاف ہوں
اور ہمارا معاشرہ اصلاح کی راہ پر گامزن ہو
تو ہمیں اپنی محبت کو اتباع میں ڈھالنا ہو گا۔ یہی آیتِ محبت کا پیغام ہے، یہی دین کی اصل روح ہے، اور یہی کامیابی کا یقینی راستہ ہے۔
No comments:
Post a Comment