قرآن و سنت کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع: ایک ہمہ گیر تہذیبی و فکری مطالعہ
تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
تمہید: مذہبی وابستگی یا حقیقی اطاعت؟
عصرِ حاضر کا مسلمان بظاہر مذہبی شعائر سے وابستہ نظر آتا ہے۔ مساجد آباد ہیں، صلاۃ اور صوم کا اہتمام موجود ہے، مذہبی ایام کا احترام بھی کیا جاتا ہے۔ مگر ایک بنیادی اور فیصلہ کن سوال اپنی جگہ قائم ہے:
کیا ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی واقعی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہے، یا ہم دین کو محض رسومات تک محدود کر چکے ہیں؟
اسلام ایک جزوی یا محض روحانی مذہب نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر ضابطۂ حیات ہے، جس کی بنیاد دو ناقابلِ تفریق اصولوں پر قائم ہے:
اطاعتِ الٰہی
اتباعِ رسول ﷺ
قرآنِ حکیم اعلان کرتا ہے:
“اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے تو یقیناً وہ بڑی کامیابی حاصل کر لے گا” (الأحزاب: 71)
یہاں کامیابی کا معیار دولت، اقتدار یا شہرت نہیں بلکہ دوہری اطاعت ہے — جو ایمان کو عمل میں ڈھالتی ہے اور عقیدہ کو نظامِ زندگی میں تبدیل کرتی ہے۔
اطاعتِ الٰہی: ایمان سے نظام تک
قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
“اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور تم میں سے صاحبانِ امر کی” (النساء: 59)
یہ آیت اسلامی نظمِ اجتماعی کی اساس فراہم کرتی ہے۔ اطاعت کا مفہوم محض زبانی اقرار نہیں بلکہ عملی التزام، اخلاقی شعور اور فکری وابستگی ہے۔ اطاعتِ الٰہی کے تقاضے درج ذیل جہات میں ظاہر ہوتے ہیں:
1. انفرادی سطح
کردار میں دیانت
نیت میں اخلاص
حلال و حرام کی تمییز
عبادات میں خشوع و استقامت
2. خاندانی سطح
نکاح، وراثت اور تربیت میں شریعت کی پاسداری
عورت اور مرد کے حقوق کا توازن
والدین اور اولاد کے باہمی حقوق کی ادائیگی
3. معاشی و سماجی سطح
سود، دھوکہ اور استحصال سے اجتناب
امانت و شفافیت
عدلِ اجتماعی کا قیام
4. ڈیجیٹل اور فکری سطح
ڈیجیٹل عہد میں اطاعت کا مفہوم مزید وسعت اختیار کر چکا ہے:
سوشل میڈیا پر کردار کشی سے گریز
جھوٹے بیانیے اور فکری انتشار سے اجتناب
تحقیق کے بغیر معلومات کی ترسیل سے احتراز
علمی دیانت اور فکری ذمہ داری کا مظاہرہ
گویا اطاعتِ الٰہی ایک ہمہ جہت اخلاقی و فکری انقلاب کا نام ہے، جو فرد سے شروع ہو کر ریاست تک پہنچتا ہے۔
اتباعِ رسول ﷺ: سنت بطور عملی تعبیرِ وحی
قرآنِ حکیم میں ارشاد ہے:
“جس نے رسول کی اطاعت کی، تحقیق اس نے اللہ کی اطاعت کی” (النساء: 80)
یہ اعلان واضح کرتا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کی سنت محض تاریخی روایت نہیں بلکہ وحیِ الٰہی کی عملی تعبیر ہے۔ آپ ﷺ قرآن کے شارح بھی ہیں اور مجسم تفسیر بھی۔
مزید فرمایا گیا:
“تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ زندگی ہے” (الأحزاب: 21)
اتباعِ رسول ﷺ کے عملی مظاہر درج ذیل ہیں:
عبادات میں سنت کی پیروی
قیادت میں امانت اور مشاورت
اختلاف میں تحمل اور مکالمہ
معاشرت میں رحمت اور عفو
دعوت میں حکمت اور تدریج
جہادِ نفس میں صبر اور استقامت
سیرتِ نبوی ﷺ ایک ایسا جامع سماجی ماڈل پیش کرتی ہے جس میں روحانیت، قانون، اخلاق، سیاست اور معیشت ایک مربوط نظام کی صورت میں جلوہ گر ہیں۔
سنت سے دوری: فکری و تہذیبی بحران کا آغاز
صحیح بخاری میں مذکور روایت میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں”
یہ تنبیہ اس امر کی وضاحت کرتی ہے کہ قرآن کا دعویٰ اور سنت سے بے نیازی دراصل فکری تضاد ہے۔
تاریخی تجربہ گواہ ہے کہ جب امت نے سنت کو عملی زندگی سے دور کیا تو:
فرقہ واریت نے جنم لیا
فکری انتشار بڑھا
اخلاقی معیار کمزور ہوئے
اجتماعی وحدت متاثر ہوئی
آج بھی تہذیبی یلغار، شناختی بحران اور فکری انتشار اسی خلا کی علامات ہیں۔
اطاعت و اتباع: تہذیبی بقا کی شرط
حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، اگر تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت”
یہ اعلان دراصل امت کے لیے دائمی فکری و تہذیبی چارٹر ہے۔
عصرِ حاضر کے چیلنجز —
سیکولر مادّیت
اخلاقی نسبیت
ڈیجیٹل فتنہ
سیاسی مفادات
فکری ابہام
— ان سب کا پائیدار حل قرآن و سنت کی طرف سنجیدہ اور علمی رجوع میں مضمر ہے۔
عصرِ حاضر کے لیے عملی حکمتِ عملی
قرآنِ حکیم کا روزانہ مطالعہ مع فہم
سنتِ نبوی ﷺ کے کسی ایک پہلو کو تدریجاً اپنی زندگی میں نافذ کرنا
معاشی معاملات کا شرعی جائزہ لینا
ڈیجیٹل اخلاقیات کی پاسداری
نوجوان نسل کو دلیل، حکمت اور محبت سے دین کی طرف مائل کرنا
علمی اداروں میں قرآن و سنت کے تحقیقی مطالعے کو فروغ دینا
اصلاح کا آغاز فرد سے ہوتا ہے، مگر اس کا اثر معاشرے تک پہنچتا ہے۔
نتیجہ: حقیقی کامیابی کا معیار
قرآن و سنت کا پیغام دو ٹوک ہے:
اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ یہی ایمان کی تکمیل، عمل کی اصلاح، تہذیبی استحکام اور دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔
اگر مسلمان فرد اور امت اجتماعی سطح پر ان دو اصولوں کو معیار بنا لے تو:
عدلِ اجتماعی قائم ہو سکتا ہے
کرپشن میں کمی آ سکتی ہے
خاندانی نظام مضبوط ہو سکتا ہے
فکری وحدت پیدا ہو سکتی ہے
روحانی سکون اور تہذیبی اعتماد بحال ہو سکتا ہے
فکری دعوت
آج ہر صاحبِ شعور کے لیے یہ سوال لمحۂ فکریہ ہے:
کیا ہم اپنی زندگی کے کسی ایک شعبے کا سنجیدہ احتساب کر کے اطاعتِ الٰہی اور اتباعِ رسول ﷺ کی طرف عملی قدم بڑھانے کے لیے تیار ہیں؟
یہی قدم ہماری انفرادی اصلاح، اجتماعی بقا اور عالمی سطح پر باوقار اسلامی شناخت کی بنیاد بن سکتا ہے۔
No comments:
Post a Comment