Saturday, 21 February 2026

قرآن و سنت کی روشنی میں اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

قرآن و سنت کی روشنی میں اللہ تعالٰی کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

کیا ہم واقعی مطیع ہیں یا صرف مذہبی رسومات کے پابند؟

آج کا مسلمان بظاہر دین سے وابستہ ہے، مگر ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے:

کیا ہماری زندگی واقعی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہے؟

ہم عبادات ادا کرتے ہیں، مذہبی ایام مناتے ہیں، مگر کیا ہمارے فیصلے، ہماری ترجیحات، ہمارا معاشی طرزِ عمل اور ہماری سماجی روش بھی قرآن و سنت کے تابع ہے؟

اسلام کوئی جزوی مذہبی نظام نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس کی بنیاد دو اٹل اصولوں پر قائم ہے:

اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت

رسولِ اکرم ﷺ کی کامل اتباع

قرآن مجید اعلان کرتا ہے:

“اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے تو یقیناً وہ بڑی کامیابی حاصل کر لے گا” (الاحزاب: 71)

یہاں کامیابی کا معیار نہ دولت ہے، نہ طاقت، نہ شہرت — بلکہ دوہری اطاعت ہے۔

اطاعتِ الٰہی: محض اقرار نہیں، عملی انقلاب

قرآنِ حکیم اہلِ ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے:

“اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو” (النساء: 59)

اطاعت کا مفہوم صرف زبانی دعویٰ نہیں بلکہ عملی التزام ہے۔ اس کے تقاضے یہ ہیں کہ:

ہماری انفرادی زندگی اللہ کے احکام کے تابع ہو

ہمارے خاندانی فیصلے شریعت کے مطابق ہوں

ہمارے معاشی معاملات حلال و حرام کے اصولوں پر قائم ہوں

ہمارا سیاسی و سماجی نظام عدل و انصاف پر مبنی ہو

ہمارا ڈیجیٹل رویہ بھی اخلاقی اصولوں کا پابند ہو

آج کے دور میں اطاعتِ الٰہی کا مطلب یہ بھی ہے کہ:

ہم سوشل میڈیا پر کردار کشی سے بچیں

مالی معاملات میں شفافیت اختیار کریں

جھوٹے بیانیے اور فکری انتشار کا حصہ نہ بنیں

نوجوان نسل کو دین اور عقل کے امتزاج سے رہنمائی دیں

اطاعت دراصل ایک ہمہ گیر اخلاقی و فکری انقلاب کا نام ہے۔

اتباعِ رسول ﷺ: سنت ہی عملی معیار ہے

اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت کو رسول ﷺ کی اطاعت سے جدا نہیں کیا۔ ارشاد ہے:

“جس نے رسول کی اطاعت کی، تحقیق اس نے اللہ کی اطاعت کی” (النساء: 80)

یہ اعلان واضح کرتا ہے کہ Muhammad ﷺ کی سنت وحیِ الٰہی کی عملی تعبیر ہے۔ آپ ﷺ قرآن کے شارح بھی ہیں اور زندہ نمونہ بھی۔

اسی لیے فرمایا گیا:

“تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ زندگی ہے” (الاحزاب: 21)

اتباعِ رسول ﷺ کا مطلب ہے:

عبادات میں سنت کی پیروی

معاملات میں دیانت

قیادت میں امانت

اختلاف میں تحمل

معاشرت میں رحمت

دعوت میں حکمت

سیرتِ نبوی ﷺ دراصل ایک مکمل سماجی ماڈل ہے جس میں روحانیت، عدل، اخلاق اور حکمت یکجا نظر آتے ہیں۔

سنت سے دوری: فکری اور تہذیبی بحران

حدیث میں سخت تنبیہ آئی ہے:

“جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں”

یہ روایت صحیح بخاری میں مذکور ہے اور اس میں ایک واضح پیغام پوشیدہ ہے:

قرآن کا دعویٰ اور سنت سے بے نیازی دراصل ایک فکری تضاد ہے۔

تاریخی طور پر جب امت نے سنت کو نظر انداز کیا تو:

فکری انتشار بڑھا

فرقہ واریت نے جنم لیا

اخلاقی معیار کمزور ہوئے

اجتماعی وحدت متاثر ہوئی

آج بھی یہی منظرنامہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔

اطاعت و اتباع: زندگی کے ہر شعبے میں

اسلام عبادات تک محدود نہیں۔ یہ مکمل تہذیبی نظام ہے:

شعبہ

قرآنی و نبوی معیار

سیاست

عدل و امانت

معیشت

دیانت و شفافیت

معاشرت

حیا و احترام

تعلیم

علم و حکمت

اختلاف

برداشت و مکالمہ

حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، اگر تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب اور میری سنت”

یہ اعلان دراصل امت کے لیے دائمی فکری چارٹر ہے۔

عصرِ حاضر کا چیلنج: تہذیبی یلغار اور شناختی بحران

ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں:

نظریاتی الجھنیں عام ہیں

سوشل میڈیا بیانیہ تشکیل دے رہا ہے

مادّی ترقی کو کامیابی سمجھ لیا گیا ہے

نوجوان شناختی بحران کا شکار ہیں

ایسے میں قرآن و سنت کی طرف رجوع محض مذہبی شعار نہیں بلکہ تہذیبی بقا کی شرط ہے۔

اگر فرد اپنی ذات میں اور معاشرہ اپنے نظام میں اطاعتِ الٰہی اور اتباعِ رسول ﷺ کو معیار بنا لے تو:

عدلِ اجتماعی قائم ہو سکتا ہے

کرپشن کم ہو سکتی ہے

خاندانی نظام مضبوط ہو سکتا ہے

فکری وحدت پیدا ہو سکتی ہے

روحانی استحکام میسر آ سکتا ہے

عملی اقدامات: ہم کیا کریں؟

روزانہ قرآنِ حکیم کا مطالعہ مع فہم

سنتِ نبوی ﷺ کے کسی ایک پہلو کو عملاً اختیار کرنا

اپنے معاشی معاملات کا جائزہ لینا

سوشل میڈیا پر اخلاقی ذمہ داری کا شعور پیدا کرنا

نوجوان نسل کو دلیل اور محبت سے دین سمجھانا

اصلاح ہمیشہ فرد سے شروع ہوتی ہے، پھر معاشرہ بدلتا ہے۔

نتیجہ: کامیابی کا حقیقی معیار

قرآن و سنت کا پیغام بالکل واضح ہے:

اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کی اتباع ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ یہی ایمان کی تکمیل، عمل کی اصلاح اور دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم:

اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کریں

نبی کریم ﷺ کے نقشِ قدم کو عملی معیار بنائیں

دین کو جزوی نہیں بلکہ مکمل نظامِ حیات کے طور پر اختیار کریں

اسی میں ہماری عزت، بقا اور کامیابی مضمر ہے۔

قارئین کے لیے سوال

کیا ہم اپنی زندگی کے کسی ایک شعبے کا سنجیدہ جائزہ لے کر آج سے اطاعت و اتباع کی طرف ایک عملی قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں؟

No comments:

Post a Comment