خودفریبی کے آخری قلعے پر حملہ ہے:
قسط سوم
ہم خود مسئلہ ہیں — اور خود ہی انکار بھی!
(ایٹمی طنز سیریز)
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
اس قوم کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن نہیں، غربت نہیں، حکمران نہیں—
اس قوم کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسے یقین ہے کہ مسئلہ وہ خود نہیں۔
ہم ہر خرابی کی فائل کسی اور کے نام لگاتے ہیں، اور اپنے ضمیر کو “کل دیکھیں گے” کہہ کر فائل کلوز کر دیتے ہیں۔
مہنگائی بڑھ جائے؟
قصور حکومت کا!
بددیانتی عام ہو؟
زمانہ خراب ہے!
بچے بگڑ جائیں؟
اسکول ذمہ دار!
قوم ڈوب جائے؟
عالمی سازش!
اور ہم؟
ہم تو بس مظلوم تماشائی ہیں، جن کے ہاتھ صاف ہیں، نیت صاف ہے، اور اعمال…
اچھا چھوڑیں، اعمال پر ابھی بات نہ کریں، وہ موضوع حساس ہے!
قرآن اعلان کرتا ہے:
“ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ”
خشکی و تری میں فساد انسانوں کے ہاتھوں کی کمائی ہے۔
مگر ہم نے اس آیت کا ترجمہ کر لیا ہے:
“فساد آیا ہے، مگر کہیں اور سے آیا ہے!”
ہماری خودفریبی کا یہ عالم ہے کہ
رشوت کو “مجبوری”،
جھوٹ کو “حکمت”،
سفارش کو “سماجی تعاون”،
اور لوٹ مار کو “حقِ محنت” کہا جاتا ہے۔
یعنی گناہ بھی اردو لغت بدل کر کرتا ہے، تاکہ برا نہ لگے!
ہم اصلاح کے جلسے کرتے ہیں،
انقلاب کے نعرے لگاتے ہیں،
اور گھر جا کر وہی پرانی حرکتیں دہراتے ہیں۔
یہ انقلاب نہیں، ری سائیکلنگ آف منافقت ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے”
اور ہم نے اجتماعی طور پر جواب دیا:
“جی، مگر میں نہیں!”
یہی وہ مقام ہے جہاں قومیں نہیں، قومیں بننے کے دعوے مرتے ہیں۔
اب آئیے علاج کی آخری، فیصلہ کن خوراک کی طرف—
یہ دوا شربت نہیں، سرجری ہے، اور بغیر اینستھیزیا کے ہے۔
پہلا فیصلہ کن قدم:
قبولِ جرم۔
جب تک ہم یہ نہیں مانیں گے کہ
“میں جھوٹ بولتا ہوں،
میں ناانصافی کرتا ہوں،
میں سہولت کے مطابق دین اپناتا ہوں”
تب تک کوئی اصلاح نہیں—صرف تقریریں ہوں گی۔
دوسرا فیصلہ کن قدم:
خاموش دینداری چھوڑ کر فعال دیانت۔
وہ دیانت جو نوکری بھی خطرے میں ڈالے،
وہ سچ جو تنخواہ کم کرا دے،
اور وہ حق گوئی جو محفلیں ویران کر دے۔
تیسرا فیصلہ کن قدم:
اپنی اگلی نسل کے ساتھ ایمانداری۔
بچوں کو صرف نماز سکھا کر مطمئن نہ ہوں،
انہیں سچ، عدل اور حرام سے نفرت بھی سکھائیں،
ورنہ وہ حافظ بھی ہوں گے اور فراڈی بھی!
یہ قسط کسی کو خوش کرنے کے لیے نہیں لکھی گئی۔
یہ معذرت نامہ نہیں،
یہ چارج شیٹ ہے۔
اگر اب بھی ہم نے آئینہ توڑ دیا،
اور چہرہ درست نہ کیا،
تو یاد رکھیں:
اللہ کسی قوم پر ظلم نہیں کرتا،
قومیں خود اپنے ساتھ زیادتی کرتی ہیں۔✍️
No comments:
Post a Comment