قہقہوں کے ساتھ شرمندگی اور ضمیر کی گرفت کے ساتھ:
قسط دوم
مسجدیں بھری، دل خالی — ہماری اجتماعی منافقت
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
اگر مسجدوں کی آبادی سے قومیں بنتی ہوتیں تو ہم اس وقت سپر پاور ہوتے۔
اگر نعرے، بینر، تقاریر اور مذہبی سلوگن ترقی کا پیمانہ ہوتے تو ہمیں آئی ایم ایف نہیں، آئی ایم ایف کو ہم سے قرض لینا پڑتا۔
مگر افسوس! مسجدیں بھری ہیں، دل خالی ہیں، اور کردار تو جیسے کہیں لاپتہ ہو گیا ہو۔
ہم ایک عجیب قوم ہیں۔
فجر میں صفیں سیدھی،
دفتر میں فائلیں ٹیڑھی۔
نماز میں خشوع،
معاملات میں خنجر۔
مسجد میں “بھائی بھائی”،
بازار میں “کٹ تھروٹ کمپیٹیشن”!
ہم نے اجتماعی منافقت کو اس قدر مہارت سے اپنایا ہے کہ اب سچ بولنے والا ہمیں بدتمیز لگتا ہے اور جھوٹ بولنے والا “سمجھدار”۔ جو ایماندار ہو، وہ “نادان”؛ اور جو مکار ہو، وہ “قابل”۔
یہ وہ اخلاقی الٹ پھیر ہے جسے قرآن نے نفاق کہا اور ہم نے اسمارٹنیس۔
قرآن کہتا ہے:
“كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّهِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ”
اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ تم کہو کچھ اور کرو کچھ اور۔
اور ہم؟
ہم نے اس آیت کو فریم کر کے دیوار پر لگا دیا—عمل کے لیے نہیں، سجاوٹ کے لیے!
ہماری اجتماعی زندگی میں مذہب اکثر ڈھال بن جاتا ہے، اخلاق نہیں۔
دھوکہ دینا ہو تو قسم اللہ کی،
ناجائز کام ہو تو استغفار زبان پر،
اور لوٹ مار کے بعد شکرانے کے نفل!
یعنی گناہ بھی پیکج میں، توبہ بھی پیکج میں۔
ہم جلسوں میں عدلِ عمرؓ کے قصے سناتے ہیں،
اور گلی میں کمزور کا حق دبا کر کہتے ہیں:
“بھائی! زمانہ ہی ایسا ہے!”
گویا زمانہ قیامت کے دن ہمارے ساتھ کھڑا ہو کر گواہی دے گا!
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
“منافق کی تین نشانیاں ہیں…”
اور ہم نے وہ حدیث پڑھ کر سوچا:
“الحمدللہ! تین ہی تو ہیں، ہم تو دس دس پوری کر رہے ہیں!”
یہ اجتماعی منافقت صرف افراد تک محدود نہیں،
ادارے بیمار ہیں،
نظام کھوکھلا ہے،
اور قوم خود کو بزرگ سمجھ کر سو رہی ہے۔
اب ذرا علاج کی طرف آئیں—مگر یاد رہے:
یہ دوا کڑوی ہے، شوگر کو نہیں بخشتی، اور بہانے کو مار دیتی ہے۔
پہلا علاج:
دین کو رسومات سے نکال کر معاملات میں لانا ہوگا۔
نماز اگر جھوٹ نہیں روکتی تو مسئلہ نماز میں نہیں، نمازی میں ہے۔
دوسرا علاج:
اجتماعی احتساب۔
وہ احتساب نہیں جو صرف کمزور پر لاگو ہو،
بلکہ وہ جو طاقتور کی نیندیں اڑا دے۔
تیسرا علاج:
سچ بولنے کی اجتماعی ہمت۔
وہ سچ جو دوست بھی ناراض کرے،
رشتہ دار بھی،
اور شاید وقتی نقصان بھی دے—مگر قوم بچا لے۔
یہ قسط یہاں ختم ہو رہی ہے،
مگر مرض ابھی باقی ہے۔
✍️
No comments:
Post a Comment