قسط چہارم
حل اور لائحۂ عمل، زوال سے عروج تک
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
اب سوال یہ نہیں کہ ہم کہاں گر گئے،
اصل سوال یہ ہے:
کیا ہم نے اٹھنے کا ارادہ بھی کیا ہے؟
اقبال جیسے ہی آج ہم سے پوچھ رہے ہوں:
“کب تلک اے قوم! تو خوابِ غفلت میں پڑی رہے گی؟
کیا تجھے یاد ہے کہ تو صرف تاریخ نہیں، ذمہ داری بھی ہے؟”
ہم نے تین اقساط میں اپنی بدصورتی دیکھ لی،
اب آئینہ توڑنے کا عذر باقی نہیں رہا۔
اب یا تو اصلاح ہوگی—
یا پھر زوال کو تقدیر کہہ کر قبول کرنا ہوگا۔
قرآن ہمیں ایک واضح اصول دیتا ہے:
“إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ”
یعنی تبدیلی باہر سے نہیں آتی،
یہ اندر سے پھوٹتی ہے۔
پہلا مرحلہ: فکری انقلاب (سوچ کی اصلاح)
اقبال کا پہلا وار فکر پر تھا۔
وہ پوچھتے ہیں:
“دل مردہ، دل نہیں ہے — اسے زندہ کر دوبارہ”
ہمیں سب سے پہلے یہ طے کرنا ہوگا:
کیا ہم واقعی اللہ کے بندے ہیں یا صرف مسلمان کہلانا کافی سمجھتے ہیں؟
عملی نکتہ:
دین کو رسم نہیں، مقصد سمجھا جائے
حلال و حرام کو “مجبوری” کے ترازو میں نہ تولا جائے
ہر فرد خود سے یہ سوال کرے:
اگر یہی عمل قیامت میں پیش ہو تو کیا میں سر اٹھا سکوں گا؟
دوسرا مرحلہ: اخلاقی احیاء (کردار کی واپسی)
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
“میں مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں”
اقبال کا سوال ہے:
“مسلم ہے تو تقدیر ہے تیری شمشیر
کیوں تیرے ہاتھ میں ہے صرف تسبیح؟”
تسبیح ہاتھ میں ہو مگر ہاتھ صاف نہ ہوں،
یہ دینداری نہیں، خودفریبی ہے۔
عملی نکتہ:
جھوٹ کو ہر قیمت پر جھوٹ کہا جائے
رشوت کو “سہولت” نہیں، زہر سمجھا جائے
کاروبار، ملازمت اور سیاست—ہر جگہ اخلاق کو دین کا حصہ مانا جائے
تیسرا مرحلہ: اجتماعی ذمہ داری (نظام کی اصلاح)
قرآن کہتا ہے:
“كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ… تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ”
امتِ خیر ہونا صرف نعرہ نہیں،
یہ ذمہ داری ہے—خاموش نہ رہنے کی۔
عملی نکتہ:
ظلم پر غیر جانبداری ترک کی جائے
سچ بولنے والوں کا ساتھ دیا جائے
احتساب صرف کمزور کے لیے نہیں، طاقتور کے لیے بھی مانگا جائے
چوتھا مرحلہ: نئی نسل کی درست تشکیل
اقبال کی سب سے بڑی فکر نوجوان تھا۔
وہ پوچھتے ہیں:
“جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے
مرا عشق، میری نظر بخش دے”
ہم اگر بچوں کو صرف کامیاب نہیں بلکہ صالح نہ بنا سکے تو
ہم ایک اور بحران تیار کر رہے ہیں۔
عملی نکتہ:
بچوں کو صرف نماز نہیں، سچائی سکھائیں
ڈگری کے ساتھ دیانت سکھائیں
والدین خود نمونہ بنیں، خطیب نہیں
آخری سوال (اقبالی انداز میں):
کیا ہم واقعی بدلنا چاہتے ہیں؟
یا صرف وعظ سن کر مطمئن ہو جانا ہی کافی ہے؟
یاد رکھیں!
قومیں نعروں سے نہیں،
قربانی سے اٹھتی ہیں۔
اگر ہم نے آج اپنی ذات، اپنے گھر اور اپنے دائرے سے اصلاح شروع کر دی
تو یہی زوال—
کل کا عروج بن سکتا ہے۔
ورنہ تاریخ ہمیں بھی ایک سطر میں سمیٹ دے گی:
“یہ وہ لوگ تھے جنہیں حق ملا، مگر ہمت نہ ملی”۔
اختتامی نوٹ
یہ سلسلہ طنز تھا تاکہ نیند ٹوٹے،
یہ قسط راستہ ہے تاکہ قدم اٹھے۔
اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے:
آئینہ توڑنا ہے یا خود کو بنانا ہے؟ ✍️
No comments:
Post a Comment