Monday, 12 January 2026

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَة

 لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَة

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

دنیا تاریخ کے صفحات پلٹتی ہے تو بے شمار عظیم شخصیات سامنے آتی ہیں، مگر جو ہمہ گیر، کامل اور ابدی نمونۂ حیات انسانیت کو میسر آیا، وہ صرف ایک ہے: حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ۔ قرآن مجید کا یہ مختصر مگر جامع اعلان کہ “تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے” درحقیقت پوری انسانی زندگی کا منشور ہے۔ یہ آیت محض عقیدت کا بیان نہیں بلکہ ایک عملی، فکری اور تمدنی دعوت ہے—دعوتِ تقلید، دعوتِ عمل، دعوتِ انقلاب۔

اسوۂ رسول ﷺ کا دائرہ عبادات تک محدود نہیں، بلکہ فرد، خاندان، معاشرہ، معیشت، سیاست، عدل و قضا، اخلاق و کردار—غرض زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جو اس اسوۂ حسنہ سے محروم ہو۔ نبی کریم ﷺ نے مسجد میں سجدہ بھی کیا اور بازار میں دیانت کی بنیاد بھی رکھی؛ گھر میں شوہر و باپ کی حیثیت سے مثالی کردار ادا کیا اور ریاست میں حکمران بن کر عدلِ اجتماعی کا ایسا نمونہ قائم کیا جس پر آج کی مہذب دنیا بھی حیران ہے۔

آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو صرف میلاد کی محفلوں، نعتوں اور سیرت کانفرنسوں تک محدود کر چکے ہیں، جبکہ قرآن ہم سے عملی پیروی کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسوۂ حسنہ کا تقاضا یہ نہیں کہ صرف زبان سے محبت کے دعوے کیے جائیں، بلکہ یہ ہے کہ معاملات میں صدق، تجارت میں امانت، اقتدار میں انصاف، اختلاف میں برداشت اور کمزوری میں صبر کو اپنایا جائے—جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے کر کے دکھایا۔

رسول اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ طاقت اخلاق کے بغیر فساد بن جاتی ہے، اور اخلاق طاقت کے بغیر بے اثر رہتے ہیں۔ مکہ کے تیرہ سالہ دور میں صبر، استقامت اور دعوت بالحکمت کا نمونہ پیش کیا گیا، اور مدینہ میں اقتدار ملنے کے بعد بھی انتقام نہیں بلکہ عفو، ظلم نہیں بلکہ عدل، جبر نہیں بلکہ شوریٰ کو اختیار کیا گیا۔ فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان اس بات کا ثبوت ہے کہ اسوۂ رسول ﷺ اقتدار کے نشے میں چُور ہونے کا نہیں، بلکہ اقتدار کو امانت سمجھنے کا درس دیتا ہے۔

اگر ہم آج اپنے معاشروں پر نظر ڈالیں تو بددیانتی، ناانصافی، کرپشن، طبقاتی تفریق اور اخلاقی زوال ہر سمت نظر آتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس قرآن و سنت موجود ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اسوۂ رسول ﷺ کو اپنی اجتماعی زندگی کا معیار بنایا ہے؟ ہم نماز تو پڑھتے ہیں مگر معاملات میں دھوکہ دیتے ہیں؛ ہم نعت تو پڑھتے ہیں مگر کمزور کا حق غصب کرتے ہیں۔ یہ تضاد اسوۂ حسنہ سے ہماری عملی دوری کا واضح ثبوت ہے۔

اسوۂ رسول ﷺ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اختلاف رائے دشمنی نہیں، اور تنقید بغاوت نہیں۔ آپ ﷺ نے صحابہؓ سے مشاورت کی، ان کی آراء کو اہمیت دی، حتیٰ کہ بعض مواقع پر اپنی رائے کے مقابلے میں اکثریت کی رائے کو اختیار فرمایا۔ آج جب ہم ہر اختلاف کو فتنہ اور ہر سوال کو گستاخی قرار دیتے ہیں تو درحقیقت ہم اسوۂ رسول ﷺ سے انحراف کر رہے ہوتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سیرتِ رسول ﷺ کو محض تاریخ کی کتاب سے نکال کر آئینِ زندگی بنائیں۔ تعلیمی نصاب، عدالتی نظام، معاشی ڈھانچے اور سیاسی رویّوں میں اسوۂ حسنہ کو بنیاد بنایا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو فرد کو بھی سنوارتا ہے اور قوموں کو بھی عروج عطا کرتا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ “لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة” کوئی نعرہ نہیں، بلکہ ایک چیلنج ہے اور یہ چیلنج آج بھی ہمارے سامنے ہے کہ کیا ہم واقعی رسول اللہ ﷺ کو اپنا عملی نمونہ ماننے کے لیے تیار ہیں؟

No comments:

Post a Comment