Monday, 12 January 2026

زینة آفرینِ کائنات، نورِ مجسم، شافعِ یومِ الجزا ﷺ

 زینة آفرینِ کائنات، نورِ مجسم، شافعِ یومِ الجزا ﷺ

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی۔

قرآنِ حکیم کا ارشاد ہے: ”لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ“ (الاحزاب: 21)۔ یہ آیتِ مبارکہ محض ایک اخلاقی تعلیم نہیں، بلکہ ربّ کائنات کا وہ پیمانہ ہے جس پر انسانیت کی کامل نمونہ سازی کی گئی ہے۔ ”اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ“ کے الفاظ میں جہاں نبی ﷺ کی حیاتِ طیبہ کو ”بہترین نمونہ“ قرار دیا گیا ہے، وہیں یہ بھی اشارہ ہے کہ یہ نمونہ ہر زمان، ہر معاشرت اور ہر انسانی سطح کے لیے قابلِ عمل اور قابلِ تقلید ہے۔ آج کے انتشار زدہ دور میں جب انسانیت ”رول ماڈل“ کی تلاش میں سرگرداں ہے، قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ کامل رول ماڈل صرف اور صرف محمد مصطفی ﷺ کی ذاتِ گرامی ہے۔

”اُسْوَۃٌ“ کا مفہوم: محض نقل نہیں، تعمیر ہے

”اُسْوَۃٌ“ کا لفظ عربی زبان میں صرف ”نقل“ یا ”تقلید“ کے معنوں میں نہیں آتا، بلکہ اس میں ”تعمیر“، ”تشکیل“ اور ”نمونہ سازی“ کے گہرے مفہوم پوشیدہ ہیں۔ گویا حضور ﷺ کی سیرت محض کسی رسم یا رواج کی نقل نہیں، بلکہ انسان کے اندرونی اور بیرونی وجود کی تعمیر نو کا ایک جامع منصوبہ ہے۔ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان جیسے محققین نے اپنی تصانیف (جیسے ”ہمہ قرآن در شان محمد ﷺ“) میں اس نکتہ کو واضح کیا ہے کہ قرآن میں ”اُسْوَۃٌ“ کا لفظ صرف نبی ﷺ کے لیے استعمال ہوا—جو اس کے انفرادی مقام کی دلیل ہے۔

سیرتِ نبوی ﷺ: عملی تفسیرِ قرآن

نبی ﷺ کی حیاتِ مبارکہ درحقیقت قرآنِ مجید کی عملی تفسیر تھی۔ آپ ﷺ کا ہر قول، ہر فعل اور ہر تقریر قرآن کے اصولوں کی مجسم تصویر تھی۔ مثلاً:

1. عدل اور رحمت کا توازن: فتحِ مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے ظلم کرنے والوں کے لیے عام معافی کا اعلان فرمایا، مگر ساتھ ہی قانون کی بالادستی قائم رکھی۔

2. معاشرتی انصاف: غلاموں، عورتوں اور کمزور طبقات کے حقوق کا تحفظ آپ ﷺ کی سیرت کا مرکزی نقطہ تھا۔

3. علم کی فضیلت: آپ ﷺ نے فرمایا: ”علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔“ یہ تعلیم آج کے سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں بھی اسی طرح قابلِ عمل ہے۔

جدید دور میں اسوۂ حسنہ کی معنویت

آج کا انسان مادیت، تنہائی اور بے معنویت کا شکار ہے۔ نبی ﷺ کی سیرت اس کا علاج پیش کرتی ہے:

· معاشی توازن: آپ ﷺ نے کسبِ حلال پر زور دیا مگر دولت کے انبار لگانے سے منع فرمایا۔

· بین المذاہب ہم آہنگی: مدینہ کے میثاق میں یہودیوں اور دیگر گروہوں کے حقوق کا تحفظ آپ ﷺ کی دوراندیشی کا ثبوت ہے۔

· ذاتی تزکیہ: آپ ﷺ نے نفسانی خواہشات پر قابو پانے کی تعلیم دی، جو جدید دور کے ”سٹریس“ کا بہترین علاج ہے۔

اختتامیہ:

نبی ﷺ کی سیرت محض تاریخی واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک زندہ و جاری تعلیمات کا خزینہ ہے۔ ”اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو—خاندانی تعلقات، تجارتی معاملات، جنگی حکمت عملی، انتظامی صلاحیتیں—ہمارے لیے راہنما اصول ہیں۔ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان جیسے علما نے اپنی تحقیقات (جیسے ”اقبال اور قرآن“) میں یہ واضح کیا ہے کہ اقبال جیسے مفکر بھی نبی ﷺ کی سیرت کو ”انسانی کمال کا معیار“ سمجھتے تھے۔

مختصر تجاویز برائے عمل

1. سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ مستقل بنیادوں پر کریں۔

2. نبی ﷺ کے اخلاق (صداقت، امانت، رحمت) کو اپنی روزمرہ زندگی میں نافذ کریں۔

3. نبی ﷺ کی سنتوں (نماز، روزہ، تلاوت) کو اجتماعی طور پر زندہ کرنے کی کوشش کریں۔

آخری بات

نبی ﷺ کی سیرت محض عقیدت کا موضوع نہیں، بلکہ ایک عملی دستور العمل ہے۔ جس طرح ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان نے اپنی تحقیقات میں قرآن و سنت کو جدید ذہن کے لیے قابلِ فہم بنایا، اسی طرح ہمیں بھی اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگیوں میں اتارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یاد رکھیں: آپ ﷺ کی پیروی محض آخرت کی کامیابی ہی نہیں، بلکہ دنیا میں بھی کامیابی و سکون کی ضامن ہے۔

No comments:

Post a Comment