محبتِ رسول ﷺ: دینِ حق کی شرطِ اول
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی
"محمدﷺ کی محبت دینِ حق کی شرطِ اول ہے، اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے"۔
حفیظ جالندھری کا یہ شعر محبتِ مصطفیٰ ﷺ کی عظمت کو چند الفاظ میں سمو دیتا ہے۔ یہ محبت محض ایک جذبۂ قلبی نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی بنیاد ہے۔ قرآنِ حکیم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: "قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ" (آل عمران: 31)۔ یعنی اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری (رسولﷺ کی) اطاعت کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ اس آیت نے محبتِ رسولﷺ کو محبتِ الٰہی کی شرطِ اول قرار دے دیا۔
حدیثِ نبویﷺ میں ہے: "لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ" (بخاری)۔ یعنی تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ یہ حدیث ایمان کی تکمیل کے لیے محبتِ رسولﷺ کو ناگزیر بناتی ہے۔
آج ہماری اجتماعی زندگی میں محبتِ رسولﷺ کا معیار خطرناک حد تک پست ہو چکا ہے۔ ہم زبانی طور تو آپﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر آپﷺ کی سنتوں کو پسِ پشت ڈال چکے ہیں۔ ہماری معاشرتی رسومات، معاملاتِ تجارت، حتیٰ کہ ہمارے اخلاقی معیارات بھی سنتِ نبویﷺ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم نے محبتِ رسولﷺ کو صرف چند رسمی تقریبات تک محدود کر دیا ہے، جبکہ حقیقتاً یہ محبت ہمارے ہر عمل، ہر فیصلے اور ہر تعلق کی رہنمائی کرنی چاہیے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کے حق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: "النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ" (الاحزاب: 6)۔ یعنی نبیﷺ مومنوں کے لیے ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔ اس حق کی ادائیگی صرف الفاظ کی نذرانہ گذاری سے نہیں، بلکہ آپﷺ کی مکمل اطاعت اور آپﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگی کا نصب العین بنانے سے ہوگی۔
آج مسلم امہ کے زوال کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم نے محبتِ رسولﷺ کے حقیقی تقاضوں کو فراموش کر دیا ہے۔ ہماری سیاست، معیشت، تعلیم اور ثقافت میں سنتِ نبویﷺ کی جگہ مغربی اقدار نے لے لی ہے۔ ہماری نوجوان نسل کے سامنے رسولِ کریمﷺ کی سیرت کا عملی نمونہ نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری قومیں انتشار، ذلت اور پسماندگی کا شکار ہیں۔
محبتِ رسولﷺ کو زندہ کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم آپﷺ کی سنتوں کو اپنے روزمرہ کے معمولات میں شامل کریں۔ آپﷺ کی سچائی، امانت، رحم دلی، عدل اور سخاوت کو اپنائیں۔ آپﷺ کے بتائے ہوئے طریقوں پر کاروبار کریں، آپﷺ کی تعلیمات پر اپنے بچوں کی تربیت کریں، اور آپﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنی اجتماعی پالیسیوں کی بنیاد بنائیں۔
حدیثِ نبویﷺ ہے: "الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ" (بخاری)۔ یعنی انسان قیامت کے دن اسی کے ساتھ ہوگا جس سے اس نے محبت کی۔ اگر ہماری محبت کا مرکز رسولِ کریمﷺ ہوں گے، تو ہماری آخرت بھی سنور جائے گی۔ لیکن اگر ہماری محبت کا معیار ٹی وی کے اسٹار، کرکٹ کے ہیرو یا دنیاوی مال و منصب ہوں گے، تو پھر ہماری آخرت کا کیا ہوگا؟
آئیے، آج ہی عہد کریں کہ ہم محبتِ رسولﷺ کو اپنی زندگی کی اولین شرط بنائیں گے۔ ہم اس محبت کو صرف الفاظ تک محدود نہیں رکھیں گے، بلکہ اطاعت و اتباع کے ذریعے اس کا عملی ثبوت دیں گے۔ کیونکہ اگر محبتِ رسولﷺ میں خامی رہ گئی، تو ہمارا ایمان بھی نامکمل ہے، ہمارا عمل بھی ناقص ہے، اور ہماری آخرت بھی خطرے میں ہے۔
"محمدﷺ کی غلامی ہے سند آزاد ہونے کی، خدا کے دامنِ توحید میں آباد ہونے کی"۔
No comments:
Post a Comment