بنیادی مرض اور اس کا واحد علاج: قرآن و سنت کی طرف رجوع
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
ہماری قومی زندگی کا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل کی لامتناہی فہرست تو بناتے رہتے ہیں، مگر ان کی جڑ تک پہنچنے کی ہمت نہیں کرتے۔ غربت و افلاس، ظلم و ناانصافی، کرپشن، اخلاقی جرائم اور سماجی ناہمواریوں کی یہ کالی گھٹائیں محض اتفاقی حادثات نہیں۔ یہ ہماری اجتماعی زندگی سے قرآن و سنت کی رخصتی کا ناگزیر نتیجہ ہیں۔ ہمارے قیام کے 78 سالہ تجربے نے ایک المناک حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں کر دی ہے: اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آنے والی اس ریاست نے اپنے منشورِ حیات سے عملی بغاوت کر کے اپنا وجود خطرے میں ڈال لیا ہے۔
جڑ کا مرض: ہدایت سے انحراف
اللہ رب العزت نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے قرآن مجید نازل فرمایا اور اسوۂ رسول ﷺ کو عملی نمونہ بنایا۔ یہی دو ذرائع ہماری انفرادی و اجتماعی کامیابی کا پیمانہ ہیں۔ افسوس! ہم نے اپنے نظامِ حیات کو ان الہامی ہدایات سے اس قدر دور کر لیا کہ معاشرے کا ہر شعبہ بحران کا شکار ہو گیا۔ عدالتوں میں انصاف کا ترازو ڈگمگانے لگا، معیشت میں سود اور استحصال نے پنجے گاڑ لیے، سیاست میں امانت و مشاورت کے قرآنی اصولوں کی جگہ مفاد پرستی نے لے لی، اور اخلاقیات کی بنیادیں کھوکھلی ہوتی چلی گئیں۔ قرآن کا واضح حکم ہے: "بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کو پہنچاؤ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے کرو"۔ کیا ہماری 78 سالہ اجتماعی تاریخ اس حکم الٰہی کی پاسداری کا ثبوت پیش کرتی ہے؟
نجات کا واحد راستہ: مکمل رجوع و اطاعت
اصلاحِ احوال کی خواہش رکھنے والے ہر فرد اور ادارے کے لیے راستہ صاف ہے۔ یہ کوئی نئی سکیم یا نسخہ نہیں، بلکہ اپنے ضائع شدہ ورثے کی بازیابی ہے۔ قرآن و سنت کی طرف سچے دل سے رجوع کے بغیر کوئی بھی راستہ کارگر ثابت نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنی انفرادی زندگیوں میں اور اجتماعی نظام میں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے تین بنیادی اقدامات کرنا ہوں گے:
1. احکامِ الٰہیہ کی غیر متعصبانہ تعمیل: اسلام کا تصورِ عدل جامع اور ہمہ گیر ہے۔ قرآن کا فرمان ہے: "اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہنے والے ہو جاؤ، اللہ کے لیے گواہی دیتے ہوئے، خواہ تمہارے اپنے خلاف ہی ہو یا ماں باپ اور رشتہ داروں کے خلاف"۔ اس میں حکمراں اور محکوم، امیر اور غریب، مسلم و غیرمسلم سب کے حقوق یکساں ہیں۔ خلیفۂ راشد حضرت علیؓ کا ایک عیسائی کے ہاتھوں عدالت میں مقدمہ ہار جانا اور اسے اس کا حق دلوانا، ہمارے موجودہ عدالتی اور سماجی نظام کے لیے روشن مثال ہے کہ انصاف کا ترازو کس طرح ہر تعصب سے بالا تر ہونا چاہیے۔
2. امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا اجتماعی نظام: قرآن نے ہمیں "بہترین امت" قرار دیا ہے صرف اس لیے کہ ہم "بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں"۔ یہ محض چند افراد کا کام نہیں، بلکہ پورے معاشرے کا فرضِ منصبی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے جو شخص برائی دیکھے، اسے چاہیے کہ اپنے ہاتھ سے بدل دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر یہ بھی نہ کر سکے تو دل سے برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے"۔ کرپشن، رشوت، بددیانتی اور اخلاقی بے راہ روی جیسی سماجی برائیوں کا مقابلہ اسی اجتماعی اخلاقی جرأت سے ممکن ہے۔
3. حقوق العباد کی ادائیگی پر اصرار: ہمارے معاشرتی انتشار کی ایک بڑی وجہ حقوق کی پامالی ہے۔ ہر فرد دوسرے کا حق مارنے پر تلا ہوا ہے۔ اسلام نے ہر رشتے، ہر معاشرتی طبقے، بلکہ جانداروں اور ماحول تک کے حقوق متعین کیے ہیں۔ نبی پاک ﷺ کا فرمان ہے کہ اصل صلہ رحمی وہ نہیں جو بدلہ دے، بلکہ وہ ہے جس سے تعلق توڑا جائے اور پھر بھی اس سے نیکی سے پیش آئے۔ معاشرے میں محبت، ہمدردی اور اعتماد کی فضا اسی وقت پروان چڑھے گی جب ہم اپنے اوپر عائد حقوقِ العباد کو اتنی اہمیت دیں گے جتنی حقوق اللہ کو دیتے ہیں۔
نبی رحمت ﷺ کا اسوۂ کامل: ہماری رہنمائی کا سرچشمہ
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ ہمارے سامنے مکمل رہنمائی موجود ہے۔ آپ ﷺ نے صرف زبانی تعلیم نہیں دی، بلکہ ہر حکم کو پہلے خود اپنی زندگی میں نافذ فرمایا، قول و فعل میں کوئی تضاد روا نہ رکھا۔ آپ ﷺ نے معاشرے کے ہر فرد کے ساتھ حسنِ سلوک فرمایا، غصہ اور سختی کی بجائے نرمی اور حکمت کو ترجیح دی۔ طائف کے واقعہ میں سنگسار ہونے کے باوجود آپ ﷺ کی استقامت اور قوم کی ہدایت کی دعا، آج کے مصلحین اور رہنماؤں کے لیے ایثار و استقامت کا لازوال سبق ہے۔
اختتامیہ: ایک نئے عہد کا آغاز
78 سالہ تلخ تجربات ہمیں یہ سبق دے چکے ہیں کہ قرآن و سنت سے روگردانی ہمارے تمام مسائل کی جڑ ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بیدار ہوں، اپنے گریبان میں جھانکیں، اور اپنے اصل منبعِ ہدایت کی طرف لوٹیں۔ یہ عمل صرف حکمرانوں یا علماء تک محدود نہیں، بلکہ ہر فرد پر اس کی اپنی حیثیت میں فرض ہے۔ آئیے، اپنے گھر، اپنی دکان، اپنے دفتر، اپنی درسگاہ سے اصلاح کا آغاز کریں۔ امانت دار بنیں، انصاف کریں، حقوق ادا کریں، برائی کے خلاف آواز اٹھائیں۔ یاد رکھیے، جس قوم نے اپنے رب کے احکام کو اپنے معاملات میں زندہ کر لیا، اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا میں بھی سر بلندی عطا فرمائی اور آخرت میں نجات کا وعدہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن و سنت پر مضبوطی سے جم جانے اور حقیقی معنوں میں ایک صالح معاشرہ تشکیل دینے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہم آمین ثم آمین برحمتک یا ارحم الراحمین
No comments:
Post a Comment