Monday, 12 January 2026

ہماری معاشرتی خرابیاں اور ان کا مؤثر علاج

 ہماری معاشرتی خرابیاں اور ان کا مؤثر علاج

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

ہماری امت مسلمہ ایک ایسے سنگین دور سے گزر رہی ہے جہاں اخلاقی، معاشرتی اور سیاسی بگاڑ نے روزمرہ زندگی کے ہر گوشے کو متاثر کیا ہے۔ غربت، افلاس، کرپشن، ناانصافی، فرقہ واریت، ظلم، بے حسی، اور معاشرتی بے ہودگی روز کا معمول بن چکی ہے۔ یہ سب مسائل محض معاشرتی زوال کے مظاہر نہیں بلکہ قرآن و سنت سے ہمارے دورِ حاضر میں انحراف اور سرکشی کے لازمی نتائج ہیں۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ"

یعنی جو لوگ اللہ کو بھول گئے، اللہ نے انہیں اپنی ہدایت سے محروم کر دیا، اور وہ اپنی ذات میں گم ہو گئے۔

ہمارے ہاں معاشرتی بدحالی کی جڑیں فرد و اجتماع دونوں سطحوں پر پائی جاتی ہیں۔ انفرادی سطح پر لوگ دینی اصولوں سے منحرف ہو گئے ہیں۔ نماز، روزہ، صدقہ اور عدل جیسے بنیادی ارکان کو صرف رسم و رواج تک محدود کر لیا گیا ہے۔ والدین، اساتذہ اور معاشرتی رہنما اپنے کردار نمونہ کی بجائے دکھاوا یا ذاتی مفاد کی پیروی کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ نئی نسل اخلاقی تربیت سے محروم ہو کر خرافات، جھوٹ، چوری، اور لالچ کی طرف مائل ہو رہی ہے۔

اجتماعی سطح پر ہمارے نظامِ عدل، معیشت، اور سیاست میں کرپشن و ناانصافی کی جڑیں مضبوط ہو گئی ہیں۔ غریب و مظلوم کی داد رسی کے بجائے طاقتور اور دولت مند طبقہ اپنی خواہشات پوری کرنے میں مصروف ہے۔ یہ سب قرآن و سنت کے احکام سے انحراف کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

"إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكارِمَ الأَخْلاقِ"

یعنی میں اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔ اخلاق اور عدل کی خلاف ورزی ہی زوال کی سب سے بڑی علامت ہے۔

ان خرابیاں صرف ملامت اور رنج کا سبب نہیں بن سکتیں، بلکہ ان کا مؤثر علاج ممکن ہے بشرطیکہ ہم سنجیدگی سے قرآن و سنت کی طرف رجوع کریں۔ سب سے پہلا قدم فرد کی اصلاح ہے۔ دل و دماغ کو اللہ کی یاد، نماز، توبہ، اور صدقہ و خیرات سے مشغول کرنا ضروری ہے۔ والدین اور معاشرتی رہنما اپنے کردار سے معاشرے میں نمونہ قائم کریں۔

دوسرا، اجتماعی اصلاح کے لیے عدالتی و حکومتی نظام میں شفافیت اور عدل کو قائم کرنا ضروری ہے۔ کرپشن، ناانصافی اور ظلم کی جڑیں صرف مضبوط قانون، احتساب اور اسلامی اصولوں کے مطابق معاشرتی نگرانی سے ختم کی جا سکتی ہیں۔

تیسرا، تعلیمی نظام کو دین و دنیا کے متوازن اصولوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ علم صرف تکنیکی مہارت تک محدود نہیں بلکہ اخلاق، تقویٰ اور معاشرتی ذمہ داری کی تربیت کا ذریعہ ہونا چاہیے۔

اختتاماً، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امت مسلمہ کی زبوں حالی قرآن و سنت سے روگردانی اور سرکشی کے نتائج ہیں۔ لیکن امید اب بھی باقی ہے۔ اگر ہر فرد اور ادارہ سنجیدگی سے اصلاح کی راہ اختیار کرے، تو اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے معاشرتی زوال روکا جا سکتا ہے اور امت مسلمہ پھر سے طاقت، عزت اور وقار کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔

یاد رکھیں، تبدیلی کا آغاز ہر فرد کے دل سے ہوتا ہے، اور دلوں کی اصلاح ہی معاشرتی اصلاح کی بنیاد ہے۔

No comments:

Post a Comment