Monday, 12 January 2026

اقوام و ادیان عالم اور ہم اور ہمارا اسلام

اقوام و ادیان عالم اور ہم اور ہمارا اسلام
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی۔
انسانی معاشرے کی تشکیل میں اقوام اور ادیان کا تنوع اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نشانی ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: "اور ہم نے تمہیں قبیلوں اور قوموں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔" (الحجرات:13) یہ آیت عالمی تنوع کو شناخت اور باہمی تعارف کا ذریعہ قرار دیتی ہے، تفاخر اور تفاوت کا نہیں۔
آج کی عالمی دنیا میں سات ارب سے زائد انسان ہزاروں قومیتوں، ثقافتوں اور مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسلام اسی انسانی تنوع کو فطری قرار دیتے ہوئے بین المذہب ہم آہنگی اور باہمی احترام کی تعلیم دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ انصاف، رواداری اور حسن سلوک کی بنیاد پر تعلقات استوار کئے جائیں۔ مدینہ کے معاشرے میں یہودیوں اور دیگر گروہوں کے ساتھ معاہدات اس کی روشن مثال ہیں۔
ہمارے دور کا اہم چیلنج عالمگیریت کے زیر اثر ثقافتی تصادم اور مذہبی انتہا پسندی ہے۔ اسلام ان چیلنجوں کا حل امن، رواداری اور مکالمہ کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ قرآن مجید کا فرمان ہے: "تم اہل کتاب سے اچھے طریقے سے بحث کرو۔" (العنکبوت:46) یہی وہ بنیاد ہے جس پر بین المذاہب ہم آہنگی کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔
ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اسلام کی اصل تعلیمات کی روشنی میں دوسرے ادیان اور اقوام کے ساتھ تعلقات استوار کریں۔ اسلام دوسروں پر فوقیت جتانے کا نہیں بلکہ خدمت انسانیت اور اخلاقی برتری کا درس دیتا ہے۔ ہمیں اپنے عمل اور اخلاق سے اسلام کی عالمگیر رحمت اور عدل کا پرچار کرنا چاہیے، نہ کہ تنگ نظری اور تعصب سے۔
دنیا بھر میں مسلمان اقلیتوں کے حقوق کا مسئلہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ اسلام کی تعلیمات ہمیں یہ حکم دیتی ہیں کہ جہاں ہم اکثریت میں ہوں، وہاں اقلیتوں کے حقوق کا تحرب کریں، اور جہاں اقلیت میں ہوں، وہاں پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر کاربند رہیں۔
اختتام پر، ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام کا مقصد انسانوں کے درمیان نفرتوں کی دیواریں کھڑی کرنا نہیں، بلکہ محبت، اخوت اور باہمی احترام کے پُل تعمیر کرنا ہے۔ اللہ تعالٰی کی یہی منشا ہے کہ اس کی مخلوق باہمی احترام اور صلح کل کے ساتھ رہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے اسلام کو اسی روشن، روادار اور انسانیت دوست تصور کے ساتھ پیش کریں جو اس کے بنیادی ماخذ قرآن و سنت میں عطا ہوا ہے۔
یہی وہ اسلام ہے جو نہ صرف ہمارے لیے رحمت ہے بلکہ پوری انسانیت کے لیے امن و سلامتی کا پیغام لے کر آیا ہے اللہ رب العالمین ہے اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و بارک و سلم رحمۃ للعالمین۔ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و بارک و سلم ہیں۔

No comments:

Post a Comment