قرآن و سنت کی روشنی میں وجودِ باری تعالٰی، ایک یقینی حقیقت اور الحاد کا فکری تعطل
از قلم: [ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی]
تاریخ: ۴ جنوری ۲۰۲۶
انسانی تاریخ کا مطالعہ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں کرتا ہے کہ اللہ تعالٰی کا تصور اور اس پر ایمان ہر دور اور ہر تہذیب میں بنی نوع انسان کی فطرت کا حصہ رہا ہے۔ جدید تحقیقات اس بات کی گواہ ہیں کہ قدیم ترین انسانی تہذیبوں سے لے کر آج تک، خواہ اللہ تعالٰی کے تصورِ کی شکلیں مختلف رہی ہوں، کسی نہ کسی صورت میں اللہ تبارک و تعالٰی پر یقین انسان کے ساتھ رہا ہے۔ اس کے برعکس الحاد یا اللہ تعالیٰ کے وجود کے انکار کا نظریہ ایک جدید اور غیر فطری رجحان ہے، جو اکثر سطحی فکر، جذباتی ردِ عمل، یا دین کے بارے میں غلط فہمیوں کی بنیاد پر پروان چڑھتا ہے۔ قرآن مجید اور سنتِ نبویہؐ کی واضح تعلیمات اور عقلِ سلیم کی روشنی میں وجودِ باری تعالٰیٰ ایک مسلمہ اور یقینی حقیقت ہے، جبکہ ملحدین کے نظریات فکری تضادات اور منطقی مغالطوں سے بھرپور ہیں۔
فطرتِ انسانی کا آئینہ اور بارِ ثبوت کا سوال بھی خاص اہمیت کا حامل ہے، انسانی فطرت ہمیشہ سے ایک خالق کی تلاش میں رہی ہے۔ وہ کائنات کی ہر شے میں حکمت، توازن اور تخلیق کا شعور رکھتی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی ملحد اس فطری اور تاریخی ایمان کے برخلاف دعویٰ کرے کہ اللہ تعالٰی کا کوئی وجود نہیں، تو منطق اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ بارِ ثبوت اس ملحد پر عائد ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ دعویٰ "خلافِ اصل" ہے۔ جس طرح قانونی طور پر کسی پر جرم کا الزام لگانے والے کو ثبوت پیش کرنا ہوتا ہے، اسی طرح اس فطری اور عالمگیر عقیدے کے انکار کی ذمہ داری بھی ملحد ہی پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے دعوے کی دلیل دے اور اللہ تعالٰی کے بغیر انسان کی وجودی اور نفسیاتی ضروریات پوری کرنے کا کوئی متبادل پیش کرے۔ قرآن مجید نے بھی اسی منطقی مؤقف کو بے مثال انداز میں پیش کیا ہے، ملحدین سے پوچھتے ہوئے: "کیا یہ کسی خالق کے بغیر خود پیدا ہو گئے ہیں؟ یا یہ خود اپنے خالق ہیں؟"۔ یہ سوال الحاد کے بنیادی تعطل کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ قرآن و سنت میں وجودِ باری تعالٰی پر واضح دلائل موجود ہیں، قرآن مجید وجودِ باری تعالیٰ کے لیے صرف جذباتی نہیں بلکہ عقلی اور فکری دلائل دیتا ہے۔ یہ کتاب انسانوں کو بار بار غور و فکر، تدبر اور تعقل کی دعوت دیتی ہے۔ آیاتِ تکوینیہ (کائناتی نشانیاں): قرآن بار بار انسان کو آسمانوں اور زمین کی تخلیق، رات اور دن کے بدلنے، بارش اور نباتات کے اگانے جیسی کائناتی نشانیوں پر غور کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ سب کچھ بے مقصد اور بغیر کسی خالق کے ممکن نہیں ہو سکتا۔ انسانی فطرت کا حوالہ بھی پیش خدمت ہے، قرآن حکیم واضح کرتا ہے کہ ہر انسان کی فطرت میں خالق کو شناخت کرنے کی صلاحیت ودیعت کی گئی ہے۔ مشکل اور پریشانی کے وقت فطری طور پر انسان اسی ایک ذات کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اسی جانب سنتِ نبویؐ سے رہنمائی ملتی ہے، نبی کریم ﷺ نے بھی ایمان کی مضبوطی کے لیے غور و فکر کو بنیاد بنایا۔ آپؐ کے ارشادات اور طرزِ عمل سے یہ درس ملتا ہے کہ کائنات میں پھیلی ہوئی حکمت اور نظم خالقِ یکتا کے وجود کی واضح دلیل ہیں۔
ملحدین کے اہم اعتراضات اور ان کے علمی جوابات بھی پیش خدمت ہیں۔ ملحدین کی طرف سے اٹھائے جانے والے چند بار بار دہرائے جانے والے اعتراضات اور ان کے مختصر جواب درج ذیل ہیں، اعتراض "اگر ہر شے کا خالق ہے، تو اللہ تعالٰی کو کس نے پیدا کیا؟" جواب: یہ سوال ہی بنیادی طور پر flawed ہے، کیونکہ یہ مخلوق (کائنات) کے دائروں کو خالق (اللہ) پر منطبق کرنے کی کوشش ہے۔ اللہ تعالٰی مخلوق نہیں ہے کہ اسے پیدا کیا جاتا۔ وہ "الصمد" ہے، یعنی بے نیاز، جس کی کوئی ابتدا نہیں اور جس پر ہر چیز موقوف ہے۔ حدیثِ نبویؐ میں بھی ایسے وساوس سے بچنے اور "آمَنْتُ بِاللّهِ" کہہ کر ایمان کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت ہے۔ عقلی طور پر، علت و معلول کا سلسلہ کسی ایسی غیر مخلوق اور ازلی علت اولیٰ پر ہی ختم ہو سکتا ہے، جسے ہم اللہ کہتے ہیں۔
ملحدین کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ "سائنس نے اللہ کی ضرورت ختم کر دی ہے۔" جوابا عرض ہے کہ جدید سائنس، جیسے بگ بینگ تھیوری اور تھرموڈائنیمکس کا دوسرا قانون (اینٹروپی)، اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کائنات کی ایک ابتدا ہے اور یہ مسلسل تغیر پذیر ہے۔ سائنس "کیسے" کا جواب دیتی ہے، جبکہ "کیوں" اور "کس نے" کا جواب مابعدالطبیعیات (Metaphysics) اور دین کے دائرے میں آتا ہے۔ خود بعض سائنسدانوں کے "کائنات نے اپنے آپ کو عدم سے پیدا کر لیا" جیسے دعوے منطقی تعطل کا شکار ہیں، کیونکہ "عدم" میں کوئی "قانون" (جیسے کششِ ثقل) موجود ہی نہیں ہو سکتا۔
ان کا تیسرا اعتراض یہ ہے کہ "دین تو پسماندہ سوچ ہے، جو آزاد خیالی کے راستے میں رکاوٹ ہے۔" جواب حاضر ہے کہ یہ اعتراض درحقیقت دین کے حقیقی اور گہرے تصور سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ اسلام غور وفکر، سوال اور تحقیق کا دین ہے۔ مسئلہ اکثر مذہب کے نام پر رائج شدہ رسمیں یا بعض افراد کے انتہا پسندانہ رویے ہوتے ہیں، جنہیں دین کا لبادہ اوڑھا دیا جاتا ہے۔ حقیقی دین انسان کو ذہنی غلامی سے نہیں بلکہ نفس اور جاہلیت کی غلامی سے آزاد کرتا ہے۔
اللہ تعالٰی کے وجود پر ایمان محض ایک جذباتی عقیدہ نہیں، بلکہ عقلِ سلیم، تاریخِ انسانی کے شواہد، کائناتی نظم و ضبط اور وحی الٰہی کی روشنی میں ایک ٹھوس اور یقینی حقیقت ہے۔ ملحدین کے اعتراضات اکثر دین کے غلط تصورات، منطقی مغالطوں یا سائنس کے دائرہ کار کو سمجھنے میں ناکامی پر مبنی ہوتے ہیں۔ قرآن و سنت کی رہنمائی اور صحیح علمی و تحقیقی رویہ اپنا کر ہم نہ صرف اپنے ایمان کو مضبوط بنا سکتے ہیں بلکہ الحاد کے چیلنج کا مدلل، پُر امن اور مؤثر جواب بھی دے سکتے ہیں۔ حقیقی معرفت اور سکونِ قلب اسی میں ہے کہ انسان اپنی فطرت کے مطابق اپنے خالق کی طرف رجوع کرے، جیسا کہ قرآن کا پیغام ہے: "بے شک اس ذات کے کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے، حکم اسی کا ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے" (القصص: 88) دعا ہے کہ اللہ رب العالمین بالعموم ہر انسان اور بالخصوص ہر کلمہ گو کو صدق نیت و خلوص قلب کے ساتھ قرآن و سنت کے احکامات و ہدایات اور تعلیمات کا درست فہم حاصل کرنے ان میں غور و فکر، تفکر و تدبر اور تعمیل و تکمیل، اطاعت و اتباع کی توفیق عطا فرمائے ل، اللہم آمین یا ارحم الراحمین بحق رحمۃ للعالمین صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و بارک و سلم
No comments:
Post a Comment