Sunday, 4 January 2026

قرآن و سنت اور عقلِ سلیم کی روشنی میں وجودِ باری تعالٰی اور ملحدین کے نظریات۔

 قرآن و سنت اور عقلِ سلیم کی روشنی میں وجودِ باری تعالٰی اور ملحدین کے نظریات۔

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی۔

انسانی تاریخ میں اللہ تعالٰی کے وجود کا سوال ہمیشہ فکر و نظر کا مرکز رہا ہے۔ ایک طرف وحیِ الٰہی، انبیائے کرامؑ اور اہلِ ایمان ہیں جو خالقِ کائنات کے وجود کو بدیہی حقیقت مانتے ہیں، اور دوسری طرف ملحدین ہیں جو اللہ تعالٰی کے وجود کے انکار یا تشکیک کو عقل و سائنس کے نام پر پیش کرتے ہیں۔ زیرِ نظر کالم میں وجودِ باری تعالٰی کو قرآن، سنتِ نبوی ﷺ اور عقلِ سلیم کی روشنی میں واضح کیا جائے گا اور ملحدین کے بنیادی نظریات کا علمی و تحقیقی جائزہ لیا جائے گا۔

قرآنِ مجید سب سے پہلے انسان کی فطرت سے خطاب کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالٰی ہے: “أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ”

 مفہوم: کیا اللہ کے بارے میں کوئی شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ (ابراہیم: 10)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالٰی کے وجود پر شک خود فطرتِ انسانی کے خلاف ہے۔ انسان کا دل، اس کی باطنی آواز، کسی اعلٰی اور قادر ہستی کی طرف رہنمائی کرتی ہے، جسے قرآن “فطرت اللہ” قرار دیتا ہے۔

ملحدین کا پہلا بڑا دعویٰ یہ ہے کہ کائنات خود بخود وجود میں آ گئی، یا یہ کہ مادہ ازلی ہے۔ عقلِ سلیم اس دعوے کو قبول نہیں کرتی، کیونکہ ہر حادث کے لیے محدث (پیدا کرنے والا) لازم ہے۔ فلسفے اور سائنس کا مسلمہ اصول ہے کہ “ہر اثر کے پیچھے ایک علت ہوتی ہے”۔ اگر کائنات حادث ہے اور جدید سائنس بھی بگ بینگ تھیوری کے ذریعے کائنات کے آغاز کو تسلیم کرتی ہے تو لازماً ایک غیر حادث، ازلی اور قادر ہستی کا ہونا ضروری ہے، جو خود کسی کی محتاج نہ ہو۔ قرآن اسی حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے: “اللَّهُ الصَّمَدُ”

مفہوم: اللہ بے نیاز ہے، سب اسی کے محتاج ہیں۔ (الإخلاص: 2) ملحدین کا دوسرا استدلال یہ ہے کہ چونکہ اللہ تبارک و تعالٰی نظر نہیں آتا، اس لیے اس کا وجود ثابت نہیں۔ یہ دلیل علمی معیار پر پوری نہیں اترتی، کیونکہ کائنات میں بے شمار حقائق ایسے ہیں جو نظر نہیں آتے مگر اپنے آثار سے پہچانے جاتے ہیں، جیسے عقل، کششِ ثقل، شعور اور محبت۔ اگر غیر مرئی قوتوں کو ان کے آثار سے مانا جا سکتا ہے تو خالقِ کائنات کو اس کی عظیم تخلیق سے کیوں نہیں مان لیا جاتا؟ قرآن اسی استدلال کو یوں پیش کرتا ہے: “سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ”

مفہوم: ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے نفسوں میں بھی۔ (فصلت: 53)۔ سنتِ نبوی ﷺ میں بھی وجودِ باری تعالٰی پر عقلی اور فطری دلائل ملتے ہیں۔ ایک بدوی عرب نے کہا: “اونٹ کے پاؤں کے نشان اس کے گزرنے پر دلالت کرتے ہیں، تو آسمان و زمین اپنے خالق پر کیوں دلالت نہ کریں؟” رسول اللہ ﷺ نے اس فطری استدلال کی تائید فرمائی۔ یہ دلیل آج بھی اپنی معنویت رکھتی ہے کہ منظم نظام بغیر ناظم کے ممکن نہیں۔

ملحدین کا تیسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر اللہ کا وجود ہے تو دنیا میں شر اور تکلیف کیوں ہے؟ قرآن اس سوال کا جواب آزمائش اور حکمت کے اصول سے دیتا ہے: “الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ” مفہوم: اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے (الملک: 2)

دنیا دارالامتحان ہے، دارالجزا نہیں۔ تکلیف، بیماری اور مصیبتیں انسان کی تربیت، تطہیر اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اگر دنیا مکمل انصاف کی جگہ ہوتی تو آخرت کا تصور بے معنی ہو جاتا۔

عقلِ سلیم یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ اخلاقیات کا کوئی حتمی معیار ہو۔ ملحدانہ فکر میں خیر و شر محض سماجی معاہدہ بن جاتے ہیں، جن کی کوئی آفاقی بنیاد نہیں۔ اسلام اخلاق کو اللہ تعالٰی کے حکم سے جوڑتا ہے، جو اسے دائمی، منصفانہ اور عالمگیر بناتا ہے۔ اگر اللہ تعالٰی نہ ہو تو ظلم اور عدل میں فرق محض ذاتی پسند و ناپسند رہ جاتا ہے۔ آخر میں یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ وجودِ باری تعالٰی نہ صرف دینی عقیدہ ہے بلکہ عقلی اور فطری حقیقت بھی ہے۔ قرآن عقل کو معطل نہیں کرتا بلکہ دعوت دیتا ہے: “أَفَلَا يَتَفَكَّرُونَ”

مفہوم: کیا یہ غور و فکر نہیں کرتے؟ ملحدین کے اعتراضات وقتی، سطحی اور ناقص فہم پر مبنی ہیں، جبکہ ایمان باللہ کائنات، انسان اور اخلاق سب کو ایک بامقصد اور مربوط نظام میں جوڑ دیتا ہے۔

آج کے فکری انتشار میں ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل کو جذباتی نعروں کے بجائے قرآن، سنت اور عقلِ سلیم پر مبنی مضبوط فکری بنیاد فراہم کی جائے، تاکہ وہ الحاد کے فتنوں کا علمی اور باوقار جواب دے سکیں۔ یہی ایمان کی پختگی اور فکری آزادی کا حقیقی راستہ ہے۔

No comments:

Post a Comment