دجالی فتنہ اور معاصر سیاسی بیانیہ، پی ٹی آئی کے تناظر میں ایک علمی و تحقیقی جائزہ۔
تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی۔
اسلامی عقائد میں فتنۂ دجال کو قیامت سے قبل رونما ہونے والا سب سے بڑا فکری و اخلاقی فتنہ قرار دیا گیا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
“حضرت آدمؑ کی تخلیق سے قیامت تک دجال سے بڑا کوئی فتنہ نہیں”
(صحیح مسلم)
یہ حدیث اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ دجالی فتنہ محض ایک فرد یا تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر فکری یلغار ہے، جو مختلف ادوار میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی رہی ہے۔ دجال کا بنیادی ہتھیار تلوار نہیں بلکہ فریب، پروپیگنڈا، حق و باطل کی آمیزش اور ذہنی تسلط ہے۔
دجالی فتنہ: قرآن و سنت کی روشنی میں
قرآن مجید فتنہ کو محض انتشار نہیں بلکہ آزمائش اور گمراہی کا ذریعہ قرار دیتا ہے:
“أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ”
(العنکبوت: 2)
احادیثِ نبویہ میں دجالی فتنہ کی نمایاں علامات بیان ہوئی ہیں، جن میں حق کو باطل اور باطل کو حق بنا کر پیش کرنا
غیر معمولی دعوے اور کرشماتی خطابت، شخصیت کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کرنا، عوامی جذبات، خوف اور امید سے کھیلنا، معاشرتی تقسیم اور بداعتمادی کو ہوا دینا، یہ تمام علامات ہمیں متنبہ کرتی ہیں کہ ہر دور کا مؤمن ناموں کے بجائے طرزِ فکر کو پرکھے۔ سیاست اور فتنہ: اسلامی معیار
اسلام میں سیاست عبادت نہیں بلکہ امانت ہے۔ قرآن کا اصولی حکم ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا”
(النساء: 58) جب سیاست اصلاح کے بجائے جذباتی استیصال، مسلسل محاذ آرائی اور سچ جھوٹ کے ملغوبے پر قائم ہو جائے تو وہ معاشرے کو عدل کے بجائے فتنہ کی طرف لے جاتی ہے۔ اسی لیے صحابۂ کرامؓ فتنوں کے زمانے میں خاموشی، احتیاط اور اصول پسندی کو ترجیح دیتے تھے۔
پی ٹی آئی: ایک سیاسی حقیقت، ایک فکری تجزیہ
پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) ایک سیاسی جماعت ہے جس نے احتساب، شفافیت اور تبدیلی کے نعروں کے ساتھ عوامی مقبولیت حاصل کی۔ یہ امر قابلِ اعتراف ہے کہ جماعت نے نوجوانوں کو سیاسی عمل میں متحرک کیا اور روایتی سیاست کو چیلنج کیا، تاہم اس کے سیاسی بیانیے میں چند ایسے پہلو بھی نمایاں ہوئے جن پر سنجیدہ فکری و اخلاقی سوالات اٹھائے گئے۔ ان میں دیگر کے علاوہ شخصیت پرستی کا رجحان نمایاں یے،
اسلام شخصیت پرستی کے بجائے اصول پرستی سکھاتا ہے۔ قرآن واضح کرتا ہے: “وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ” (آل عمران: 144)
جب کسی سیاسی رہنما کو ہر حال میں درست، اور تنقید سے بالا تر سمجھا جائے تو یہ رویہ فکری جمود اور اجتماعی گمراہی کا سبب بن سکتا ہے۔
بیانیے میں مبالغہ اور یک رُخی پن ناپسندیدہ و معیوب عمل ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے” (صحیح مسلم) سیاسی خطابات میں اگر تحقیق کے بجائے جذبات کو بنیاد بنایا جائے تو عوام سچ اور جھوٹ میں تمیز کھو بیٹھتے ہیں، جو ہر فتنہ کا پہلا زینہ ہے۔ ادارہ جاتی تصادم اور سماجی تقسیم کے تناظر میں قرآن مجید متنبہ کرتا ہے: “وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ” (الأنفال: 46)
جب سیاست مستقل تصادم، الزام تراشی اور نفرت کو فروغ دے تو اس کا نتیجہ کمزوری اور انتشار کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ یہ امر پوری دیانت کے ساتھ واضح رہنا چاہیے کہ: کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو دجال یا بعینہٖ دجالی فتنہ قرار دینا نہ شرعی طور پر درست ہے اور نہ علمی طور پر۔
البتہ اگر کسی سیاسی طرزِ عمل میں دجالی فتنوں کی علامات پائی جائیں تو اس پر تنقید کرنا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔ ائمۂ اہلِ سنت کا منہج یہی رہا ہے کہ فتنوں کی نشان دہی کی جائے، افراد کو عقیدے کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔
فتنوں کے دور میں یہ ایک فکری ذمہ داری ہے رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کے زمانے میں قرآن سے وابستگی، خصوصاً سورۂ کہف کی تلاوت کو دجال سے حفاظت کا ذریعہ قرار دیا۔ آج کے دور میں بھی نجات کا راستہ یہی ہے کہ اندھی سیاسی تقلید و عقیدت سے اجتناب برتا جائے، حق بات کو، خواہ اپنے خلاف ہو، قبول کرنا
سیاست کو دین کے اخلاقی اصولوں کا پابند بنانے کے مترادف یے۔ دجال ایک فرد نہیں، فریب کا نظام ہے اور فتنہ کسی جماعت کا نام نہیں، ایک طرزِ فکر و عمل اور رویہ ہے۔ رب کریم ہر ایک کلمہ گو اپنے دین و ایمان کے معاملے میں حساس و مخلص اور سنجیدگی اختیار کرنے والا بنائے، اللہم آمین یا رب العالمین
No comments:
Post a Comment