آخری قسط: پاکستان کا فیصلہ کن موڑ، اسلامی ریاست یا دائمی بحران؟
(خلاصہ، قومی لائحۂ عمل اور حتمی انتخاب)
از قلم: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی
تمہید: اب ابہام کی کوئی گنجائش نہیں
اس طویل تحقیقی سلسلے میں ہم نے ثابت کیا کہ:
اسلام آئین میں موجود ہے
نفاذ کا راستہ بھی آئین میں موجود ہے
مسئلہ نہ شریعت کا ہے، نہ قانون کا
اصل مسئلہ ہے:
ارادے کی کمی اور طاقتور طبقات کی مزاحمت
اب سوال یہ نہیں رہا کہ: “اسلام نافذ ہو سکتا ہے یا نہیں؟”
سوال یہ ہے کہ:
کیا ہم اسے نافذ کرنا چاہتے بھی ہیں یا نہیں؟
دو راستے — ایک انتخاب
آج پاکستان کے سامنے صرف دو راستے ہیں:
راستہ اوّل: موجودہ نظام کا تسلسل
یہ وہ راستہ ہے جہاں:
اسلام دیباچے میں رہے
سود معیشت پر حاوی رہے
احتساب کمزور تک محدود رہے
طاقتور مقدس گائے بنے رہیں
اس راستے کا انجام:
معاشی دیوالیہ پن
اخلاقی زوال
سیاسی عدم استحکام
ریاستی بے توقیری
یہ راستہ ہم پچھتر سال سے آزما چکے ہیں۔
راستہ دوم: اسلامی آئینی تطہیر اور نفاذ
یہ وہ راستہ ہے جہاں:
حاکمیتِ الٰہیہ عملی حقیقت بنے
قانون سب پر یکساں لاگو ہو
معیشت سود سے پاک ہو
طاقت جواب دہ ہو
ریاست ماں بنے، آقا نہیں
یہ کوئی انقلاب نہیں
یہ آئین کی اپنی روح کی طرف واپسی ہے۔
اب “کس کو” کیا کرنا ہے؟
1️⃣ حکمران طبقہ
اسلام کو نعرہ نہیں، قانون بنائے
اپنے احتساب سے آغاز کرے
اختیارات کو امانت سمجھے
حضرت عمرؓ کا معیار سامنے رکھے،
نہ کہ جدید آمریتوں کا۔
2️⃣ عدلیہ
اسلامی دفعات کو محض حوالہ نہیں، فیصلے کی بنیاد بنائے
طاقتور کے سامنے کھڑی ہو
تاریخ کے کٹہرے میں سرخرو ہو
عدل اگر طاقتور سے نہ ٹکرائے
تو وہ عدل نہیں—مصلحت ہے۔
3️⃣ علما و اہلِ علم
درباروں اور مسلکی خول سے نکلیں
اسلام کو نظامِ عدل کے طور پر پیش کریں
حق بات حکمران کے سامنے کہیں
ورنہ:
خاموشی بھی جرم میں شراکت ہے۔
4️⃣ میڈیا اور دانشور
اسلام کو خوف کی علامت بنا کر پیش نہ کریں
مغرب کی نقالی کو نجات نہ کہیں
قوم کو فکری خود اعتمادی دیں
5️⃣ عوام — اصل فیصلہ یہاں ہے
اسلام:
بندوق سے نافذ نہیں ہوتا
عوامی تائید سے نافذ ہوتا ہے
اگر عوام:
ظلم پر خاموش
سود پر راضی
ناانصافی پر مطمئن
رہیں گے تو:
کوئی نظام نہیں بچے گا—اسلامی بھی نہیں۔
اقبال کا سوال — آج بھی زندہ
“اگر ملک ہاتھوں سے جاتا ہے تو جائے
تو بہتر ہے کہ باقی نہ رہے نامِ خودی”
اسلامی ریاست کا مطالبہ:
کسی پارٹی کا منشور نہیں
کسی گروہ کی اجارہ داری نہیں
یہ قوم کی خودی کا سوال ہے۔
آخری کلمات: یہ تحریر نہیں، شہادت ہے
یہ سلسلہ:
کسی فرد کے خلاف نہیں
کسی ادارے کے خلاف نہیں
بلکہ:
دوہرے معیار، طبقاتی نظام اور جعلی اسلام کے خلاف فکری شہادت ہے۔
اب:
دلیل پوری ہو چکی
راستہ واضح ہو چکا
عذر باقی نہیں رہا
فیصلہ اب:
ریاست نے کرنا ہے—اور قوم نے بھی
قلم نے اپنا فرض ادا کر دیا
اللہ تعالٰی ہمیں:
حق کو حق سمجھ کر قبول کرنے
اور باطل کو باطل سمجھ کر رد کرنے
کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہم آمین برحمتک یا ارحم الراحمین
وما علینا إلا البلاغ المبین
No comments:
Post a Comment