مؤلّفۃ القلوب: منسوخ نہیں، ہماری بے حسی کا شکار
(قسط دوم)
از قلم: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
زکوٰۃ کے مصارف میں سب سے زیادہ غلط بیانی مؤلّفۃ القلوب کے بارے میں کی گئی۔ یہ کہنا کہ یہ مصرف منسوخ ہو چکا ہے، نہ قرآن سے ثابت ہے، نہ سنت سے۔
رسول اللہ ﷺ نے مؤلّفۃ القلوب کو زکوٰۃ دی۔ مقصد واضح تھا:
دشمنی کم کرنا،
کمزور ایمان کو سہارا دینا،
نئے مسلمانوں کو سنبھالنا۔
حضرت عمرؓ نے حالات بدلنے پر یہ وظائف بند کیے۔ یہ نسخ نہیں تھا، وقتی فیصلہ تھا۔ امام رازی سمیت اکابر علماء نے واضح لکھا ہے کہ یہ مصرف ضرورت کے وقت آج بھی زندہ ہے۔
آج سوال یہ ہے:
جب غربت ایمان چھین رہی ہو،
جب نو مسلم فاقوں سے کفر کی طرف لوٹ رہے ہوں،
جب عالمی طاقتیں پیسوں سے عقائد خرید رہی ہوں—
تو کیا مؤلّفۃ القلوب غیر ضروری ہو چکا ہے؟
پانچواں مصرف وفی الرقاب ہے۔ غلامی ختم نہیں ہوئی، صرف شکل بدل گئی ہے۔ قرضوں میں جکڑے لوگ، قید و جبر کا شکار مسلمان، مظلوم اقلیتیں—یہ سب اسی مصرف میں آتے ہیں۔
چھٹا مصرف غارمین ہیں، یعنی مقروض۔ اسلام قرض دار کو مجرم نہیں، مظلوم سمجھتا ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں سب سے پہلے اسی کو کچلا جاتا ہے۔
زکوٰۃ کا دائرہ بہت وسیع ہے، مگر ہم نے اسے خود تنگ کر دیا ہے۔
اصل مسئلہ شرحِ زکوٰۃ کا نہیں، نیت اور نظام کا ہے۔
حل اور لائحۂ عمل: زکوٰۃ کو رسم سے نظام تک کیسے لایا جائے؟
(قسط چہارم)
از قلم: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
تنقید کافی نہیں، اب سوال حل کا ہے۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ زکوٰۃ قرآن کے مطابق ادا ہو تو چند اصول طے کرنا ہوں گے۔
اوّل:
زکوٰۃ کو ریاستی ظلم سے آزاد کرنا ہوگا۔ جب تک زکوٰۃ شریعت کے مطابق وصول اور تقسیم نہیں ہوتی، صاحبِ نصاب خود ذمہ دار ہے۔
دوم:
زکوٰۃ کی تقسیم شخصی علم اور دیانت کے ساتھ ہو۔ قریبی مستحقین، سفید پوش، مقروض، بیروزگار—یہ سب ترجیحی حق دار ہیں۔
سوم:
مؤلّفۃ القلوب کو زندہ کیا جائے۔ غریب مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت، نو مسلموں کی کفالت اور فکری محاذ پر کام کرنے والوں کی مدد کی جائے۔
چہارم:
فی سبیل اللہ کے مفہوم کو وسعت دی جائے۔ تعلیم، دعوت، میڈیا اور فکری جدوجہد کو زکوٰۃ کے دائرے میں لایا جائے۔
پنجم:
ہر ادائیگی میں تملیک یقینی بنائی جائے۔ نمائشی خیرات سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی۔
اگر زکوٰۃ قرآن کے مطابق ادا ہو جائے تو:
غربت کم ہو سکتی ہے،
ایمان محفوظ ہو سکتا ہے،
اور معاشرہ سنبھل سکتا ہے۔
ورنہ ہم زکوٰۃ دیتے رہیں گے
اور امت بکھرتی رہے گی۔
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
No comments:
Post a Comment