مصارفِ زکوٰۃ: فریضہ، نظام یا محض رسمی کارروائی؟
(قسط اوّل)
از قلم: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
زکوٰۃ اسلام کا بنیادی ستون ہے، مگر ہمارے ہاں یہی ستون سب سے زیادہ کھوکھلا کر دیا گیا ہے۔ ہم زکوٰۃ دیتے ضرور ہیں، مگر قرآن کے مطابق نہیں۔ کہیں بینکوں کی جبری کٹوتی، کہیں نمائشی تقسیم، اور کہیں فائلوں میں دفن رقوم—یہ سب کچھ ہے، مگر وہ نظام نہیں جو قرآن چاہتا ہے۔
قرآن اعلان کرتا ہے:
إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ… فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ (التوبہ: 60)
یہ آیت صاف بتاتی ہے کہ زکوٰۃ کوئی اختیاری نیکی نہیں، بلکہ فرضِ قطعی ہے، اور اس کے مصارف بھی اللہ نے خود مقرر کر دیے ہیں۔ فقیر، مسکین، عاملین، مؤلّفۃ القلوب، غلاموں کی آزادی، مقروض، فی سبیل اللہ اور مسافر—بس یہی آٹھ راستے ہیں۔
فقہاءِ احناف کے مطابق ان میں سے کسی ایک مصرف میں زکوٰۃ دے دی جائے تو فرض ادا ہو جاتا ہے۔ یہ شریعت کی سہولت ہے، مگر ہم نے اسی سہولت کو لاپرواہی میں بدل دیا۔
سب سے پہلا حق فقیر اور مسکین کا ہے، مگر یہی سب سے زیادہ نظر انداز ہیں۔ ہمارے شہروں میں بھوک خاموش ہے، مگر زکوٰۃ شور کے ساتھ غائب ہو جاتی ہے۔
عاملینِ زکوٰۃ کو زکوٰۃ سے اجرت دینا قرآن کی اجازت ہے، مگر آج یہی اجازت بدعنوانی کا لائسنس بن چکی ہے۔ زکوٰۃ جمع بھی زبردستی، خرچ بھی مرضی سے—یہ شریعت نہیں، استحصال ہے۔
جب ریاست زکوٰۃ کو نہ شرعی طریقے سے وصول کرے اور نہ مستحق تک پہنچائے تو فقہ واضح ہے: صاحبِ نصاب خود زکوٰۃ تقسیم کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ہوش مند لوگ سرکاری نظام سے کنارہ کش ہیں۔
یہاں بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حرمت یاد رکھنا ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے زکوٰۃ کو لوگوں کے مال کا میل کچیل قرار دیا اور اپنی ذات و خاندان کو اس سے الگ رکھا۔ سوال یہ ہے: کیا ہم زکوٰۃ کو واقعی پاک فریضہ سمجھتے بھی ہیں؟
اصل سوال یہی ہے:
ہم زکوٰۃ ادا کر رہے ہیں،
یا صرف فرض اتار رہے ہیں؟
No comments:
Post a Comment