Monday, 12 January 2026

اقوام و ادیانِ عالم اور ہم اور ہمارا اسلام

 اقوام و ادیانِ عالم اور ہم اور ہمارا اسلام

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی۔

دنیا آج جس تیزی سے گلوبل ولیج میں ڈھل چکی ہے، اس میں اقوام و ادیان کے درمیان تعلقات محض مذہبی مکالمے تک محدود نہیں رہے بلکہ سیاسی، معاشی، تہذیبی اور اخلاقی سطحوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ ہم مسلمان، خصوصاً برصغیر اور پاکستان کے مسلمان، دیگر اقوام و ادیان کے تناظر میں اپنے اسلام کو کس صورت میں پیش کر رہے ہیں، اور عملاً ہمارا اسلام کیسا نظر آتا ہے؟

اسلام، بحیثیتِ دین، ایک آفاقی پیغام رکھتا ہے۔ قرآن مجید انسانیت کو ایک خاندان قرار دیتا ہے: یا ایہا الناس کی صدا رنگ، نسل، قوم اور مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر عدل، رحمت، امانت اور اخلاقِ حسنہ کی دعوت دیتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ مدینہ کی اسلامی ریاست میں یہود، نصاریٰ اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو شہری حقوق، مذہبی آزادی اور جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دی گئی۔ یہ وہ عملی اسلام تھا جس نے اقوامِ عالم کو متاثر کیا اور دل جیتے۔

اس کے برعکس آج عالمی سطح پر اسلام کا جو تاثر ابھرتا ہے، وہ اکثر ہمارے اپنے طرزِ عمل کا نتیجہ ہے۔ مغرب میں اسلاموفوبیا، مشرق میں فرقہ واریت، اور مسلم دنیا میں سیاسی عدم استحکام—ان سب کے پس منظر میں ایک بنیادی سوال پوشیدہ ہے: کیا ہم اسلام کو قرآن و سنت کے مطابق زندہ حقیقت کے طور پر پیش کر رہے ہیں یا اسے محض نعرہ، شناختی کارڈ اور جذباتی وابستگی تک محدود کر چکے ہیں؟

دیگر ادیانِ عالم، خصوصاً عیسائیت، یہودیت، بدھ مت اور ہندو مت، اپنی تعلیمات کے ساتھ ساتھ جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق ادارہ جاتی نظم، تعلیمی و تحقیقی مراکز، سماجی خدمت اور مکالمے کی روایت کو مضبوط کیے ہوئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں مسلم معاشروں میں علمی جمود، اجتہاد سے گریز، اور روایت پرستی نے اسلام کی ہمہ گیر روح کو محدود کر دیا ہے۔ ہم اکثر اپنی کمزوریوں کا ملبہ دوسروں پر ڈال کر مطمئن ہو جاتے ہیں، جبکہ قرآن ہمیں خود احتسابی کی دعوت دیتا ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ غیر مسلم اقوام میں قانون کی پاسداری، وقت کی پابندی، دیانت داری اور اجتماعی نظم ہمیں عملی طور پر زیادہ دکھائی دیتا ہے، حالانکہ یہ سب اقدار اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ وہ کیا ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم کیا بن چکے ہیں؟ اگر اسلام صرف عبادات تک محدود ہو جائے اور عدلِ اجتماعی، معاشی انصاف، انسانی وقار اور اخلاقی ذمہ داری پسِ پشت چلی جائے تو دنیا ہمیں کیسے ایک اعلیٰ دینی نمونہ سمجھے گی؟

تحقیقی زاویے سے دیکھا جائے تو مسئلہ اسلام کا نہیں، مسلمانوں کا ہے؛ دین کا نہیں، دین داروں کے فہم و عمل کا ہے۔ جب ہم اسلام کو فرقہ، مسلک اور گروہ کی عینک سے دیکھتے ہیں تو اس کی آفاقیت مجروح ہوتی ہے۔ اقوام و ادیانِ عالم سے ہمارا تعلق تصادم کا نہیں، تعارف، مکالمے اور اخلاقی برتری کا ہونا چاہیے—وہ برتری جو کردار سے ثابت ہو، خطبات سے نہیں۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر ہم واقعی اسلام کو دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اسے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کرنا ہوگا۔ جب ہمارا عدل بولے گا، ہمارا اخلاق گواہی دے گا اور ہمارا عمل دلیل بنے گا، تب اقوام و ادیانِ عالم ہمارے دین اسلام کو سوالیہ نشان نہیں بلکہ قابلِ تقلید ضابطۂ حیات کے طور پر دیکھیں گی۔ یہی “ہمارا اسلام” ہونا چاہیے اور ہمیں اس کا ایک متاثر کن باکردار رول ماڈل۔

No comments:

Post a Comment