Monday, 12 January 2026

ہماری معاشرتی خرابیاں اور ان کا مؤثر علاج

 قسط اوّل

ہماری معاشرتی خرابیاں اور ان کا مؤثر علاج

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

خبردار! یہ کالم کمزور دل، وقتی خوش فہمی اور “ہم تو ٹھیک ہیں” کہنے والوں کے لیے نہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ معاشرہ بگڑا ہوا ہے مگر آپ معصوم ہیں، تو بہتر ہے اخبار کا صفحہ بدل لیں—کیونکہ یہ تحریر آئینہ نہیں، ایکس رے مشین ہے، اور اس میں کپڑوں کے ساتھ ساتھ نیتیں بھی نظر آتی ہیں۔

ہم ایک ایسی قوم ہیں جو روز اللہ سے فریاد کرتی ہے:

“یا اللہ! ہمیں بدل دے”

مگر خود بدلنے کی بات آئے تو فوراً کہتی ہے:

“یا اللہ! پہلے حکومت بدل دے!”

ہماری معاشرتی خرابیوں کی فہرست اتنی طویل ہو چکی ہے کہ اگر اسے نصاب میں شامل کر لیا جائے تو بچے بغیر امتحان کے فیل ہو جائیں۔ جھوٹ اب برائی نہیں، اسٹریٹیجی ہے۔ دھوکہ اب گناہ نہیں، کاروباری ذہانت ہے۔ ناانصافی اب جرم نہیں، طاقت کی علامت ہے۔ اور سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ یہ سب کرنے کے بعد ہم خود کو “اچھی امت” بھی سمجھتے ہیں۔

قرآن چیخ چیخ کر کہتا ہے:

“إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ”

مگر ہم نے اس آیت کا ترجمہ یہ کر لیا ہے:

“اللہ سب کچھ بدل دے گا، بس ہمیں آرام سے بیٹھنے دے!”

ہم نے دین کو بھی ایسا بنا لیا ہے جیسے شادی ہال کا مینو—

جو پسند آیا رکھ لیا،

جو مشکل لگا نکال دیا۔

نماز کو وقت کی قیدی بنا دیا،

سچ کو حالات کا غلام،

اور عدل کو طاقتور کی لونڈی۔

بازار میں تول کم ہے مگر تسبیح پوری۔

دفتر میں کام صفر ہے مگر داڑھی مکمل۔

زبان پر “الحمدللہ” ہے مگر ہاتھ میں رشوت۔

اور پھر ہم حیران ہیں کہ دعائیں کیوں واپس آ جاتی ہیں!

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا تھا:

“میں اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں”

اور ہم نے اخلاق کو تکلیف سمجھ کر فارغ کر دیا۔

آج ہمارے بچے والدین سے جھوٹ سیکھتے ہیں،

شاگرد اساتذہ سے شارٹ کٹ،

اور قوم اپنے لیڈروں سے—لوٹ مار!

اب ذرا علاج پر آئیں، مگر پہلے ایک سچ ہضم کر لیں:

یہ بیماری باہر سے نہیں آئی،

یہ وائرس ہم سب کے اندر ہے۔

علاج کا پہلا انجکشن:

اپنی ذات!

جب تک نمازی جھوٹ چھوڑے گا نہیں،

حاجی ذخیرہ اندوزی چھوڑے گا نہیں،

اور روزہ دار زبان پر کنٹرول نہیں کرے گا—

تب تک یہ قوم صرف رمضان بدلتی رہے گی، کردار نہیں۔

یہ قسط یہاں ختم نہیں ہو رہی،

یہ وارننگ ہے۔✍️

No comments:

Post a Comment