Friday, 2 January 2026

نسلی خلیج: قرآن و سنت کی روشنی میں ایک علمی جائزہ

 نسلی خلیج: قرآن و سنت کی روشنی میں ایک علمی جائزہ

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی ارائیں، کراچی۔

نسلی خلیج یا Generation Gap کوئی نیا تصور نہیں، بلکہ یہ انسانی معاشروں کا ایک تاریخی واقعہ ہے۔ تاہم، عصرِ حاضر میں تیز رفتار سماجی و تکنیکی تبدیلیوں نے اس خلیج کو گہرا اور وسیع کر دیا ہے۔ اسلام، بطور ایک کامل اور عالمگیر دین، اس سماجی مظہر کو نظرانداز نہیں کرتا۔ قرآن مجید اور سنتِ نبویہ میں ایسے واضح اصول اور رہنما خطوط موجود ہیں جو نہ صرف اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں، بلکہ اس سے پیدا ہونے والے چیلنجز کےحکیمانہ حل بھی پیش کرتے ہیں۔

1. اختلاف کی پیشین گوئی اور ہدایت کا معیار

نبی اکرم ﷺ نے اپنی ظاہری حیاتِ مبارکہ میں ہی مستقبل میں رونما ہونے والے شدید اختلافات کی نشاندہی فرمائی۔ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"عنقریب تم لوگ میرے بعد سخت اختلاف دیکھو گے، تو تم میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا، اس کو اپنے دانتوں سے مضبوطی سے تھامے رہنا، اور دین میں نئی باتوں (بدعات) سے اپنے آپ کو بچانا"۔

یہ حدیث دو اہم نکات کی طرف رہنمائی کرتی ہے: اول، اختلافات کا ہونا ایک فطری اور متوقع امر ہے۔ دوم، ایسے حالات میں راہِ نجات سنتِ نبوی اور سنتِ خلفائے راشدین کی مضبوطی سے پیروی میں ہے۔ اس سے یہ بنیادی اسلامی اصول واضح ہوتا ہے کہ ہر دور کے اختلافات اور نئے چیلنجز کا معیاری حل قرآن و سنت کی طرف رجوع ہے، نہ کہ ان سے دوری، انحراف و روگردانی۔

2. فطرت: مشترکہ انسانی بنیاد

قرآن مجید انسان کی فطرت کو تمام نسلوں کے درمیان ایک پائیدار مشترکہ بنیاد کے طور پر پیش کرتا ہے۔ فطرت سے مراد وہ خاص نوعیت کی تخلیق ہے جس پر اللہ تعالٰی نے ہر انسان کو پیدا کیا، جو اسے خیر و حق کی طرف مائل کرتی ہے۔

"فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ" (الروم:30)

(پس آپ یکسو ہو کر اپنا رخ دین کی طرف متوجہ رکھیے۔ اللہ تعالٰی کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہو سکتی)۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ بنیادی انسانی اقدار اور خالق کائنات کو پہچاننے کا رجحان ہر نسل کی فطرت میں ودیعت کردہ ہے۔ نسلِ نو اور نسلِ قدیم کے درمیان ظاہری اختلافات کے باوجود، یہ فطری بنیاد ایک پل کا کام دے سکتی ہے۔ مسئلہ اس فطرت پر باقی رہنے یا اسے ماحول و تربیت کے اثرات سے ڈھانپ لینے کا ہے۔ علامہ راغب اصفہانی کے مطابق فطرت کا مطلب ہے کسی شے کو ایسی جدید کیفیت پر پیدا کرنا جس سے کوئی فعل صادر ہو۔ نسلی اختلاف اسی فطری بنیاد پر تعمیر شدہ اجتماعی تجربات اور حالات کے بدلنے کا نتیجہ ہے۔

3. اسباب و عوامل: شرعی نقطہ نظر

قرآن و سنت کی روشنی میں نسلی خلیج کے کچھ بنیادی اسباب درج ذیل ہیں:

· علمی کوتاہی اور جہالت: نئی نسل کے جائز سوالات کو نظرانداز کرنا یا انہیں نیت پر حملہ آور ہو کر دبانا، جیسا کہ بعض مذہبی حلقوں میں دیکھا جاتا ہے، سنتِ نبوی کے خلاف ہے۔ قرآن حکیم ایسے حالات میں "فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ" (النحل:43) (اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لو) کا حکم دیتا ہے۔ نبی ﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سوالات کو تحمل سے سنتے اور تفہیم کے ساتھ جواب دیتے تھے۔

· بدعات اور روایات میں خلط مبحث: نسلِ قدیم کبھی کبھار رسم و رواج یا ثقافتی امور کو دین کا لازمی حصہ بنا دیتی ہے۔ حدیث میں "إِيَّاكُمْ وَالْأُمُورَ الْمُحْدَثَاتِ فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ" (نئی ایجاد شدہ امور سے بچو، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے) کی صریح تنبیہ ہے۔ نئی نسل اکثر ان غیر شرعی رسوم پر اعتراض کرتی ہے، جسے بزرگ نادانستہ طور پر دین پر حملہ سمجھ لیتے ہیں۔

· حُکم و اطاعت میں توازن کا فقدان: اسلام والدین کی اطاعت اور بزرگوں کے احترام پر زور دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی سکھاتا ہے کہ "لاَ طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ" (خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں)۔ دونوں نسلوں کا فرض ہے کہ وہ معاملات کو قرآن و سنت کی کسوٹی پر پرکھیں۔

4. حل کی طرف: قرآن و سنت کی رہنمائی

اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اسلام عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے:

· حکمت اور مفاہمت کی دعوت: قرآن ہر امت کے لیے جداگانہ شعائر قرار دیتا ہے اور اختلاف کی صورت میں "وَادْعُ إِلَىٰ رَبِّكَ" (اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو) پر زور دیتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ نسلِ نو کو حکمت، موعظۂ حسنہ اور منطقی دلیل کے ساتھ سمجھایا جائے، جبر و تحقیر کے ساتھ نہیں۔

· مکالمہ اور گفتگو کا فروغ: سنتِ نبویہ میں صحابہ کرام اور نبی ﷺ کے درمیان ہونے والے آزادانہ مکالمات اس کی زندہ مثال ہیں۔ نئی نسل کے سوالات کو "فہم و تدبر کے ساتھ سننا" اور قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دینا خلیج پاٹنے کا اولین ذریعہ ہے۔

· فطری بنیادوں پر ارتباط: دونوں نسلوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا رشتہ محض خونی یا رسمی نہیں، بلکہ فطری اور ایمانی ہے۔ اللہ کی تخلیق کردہ فطرت اور اسلام کے مشترکہ دامن میں سب یکجا ہیں۔

خلاصہ اور راہِ مستقبل

نسلی خلیج کوئی ناقابلِ عبور سمندر نہیں، بلکہ ایک ایسا دریا ہے جس پر قرآن و سنت کے اصولوں سے مضبوط پُل تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ اس کا حل نئی نسل کو مذہب سے دور کرنے یا پرانی نسل کے تجربے کو مسترد کرنے میں نہیں، بلکہ "فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ" (اگر تمہارا کسی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ تبارک و تعالٰی اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و بارک و سلم کی طرف لوٹا دو) (النساء:59) کے حکم پر عمل کرنے میں ہے۔

دونوں نسلوں کا فرض ہے کہ وہ صبر، تحمل اور باہمی احترام سے کام لیں۔ بزرگ اپنے علم و تجربے کو نرمی اور حکمت سے نئی نسل تک پہنچائیں، اور نوجوان پرانی نسل کے فہم و اخلاص کا احترام کرتے ہوئے قرآن و سنت سے براہِ راست استفادہ کریں۔ اسی مشترکہ فکری کاوش سے وہ خلیج پُر ہو سکتی ہے جو درحقیقت فکری جمود اور باہمی گفتگو کے فقدان نے پیدا کی ہے۔ رب کریم ہمیں اور ہماری آئندہ نسلوں کو قرآن و سنت پر صدق نیت و خلوص قلب سے قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اللہم آمین ثم آمین برحمتک یا ارحم الراحمین بحق رحمۃ للعالمین صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و بارک و سلم۔

No comments:

Post a Comment