اِنَّ الدِّیْنَ عِندَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ اعلانِ حق، للکارِ ضمیر
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی ارائیں، کراچی
یہ محض ایک قرآنی آیت نہیں، یہ تاریخِ انسانیت کا سب سے بڑا اعلان ہے۔ یہ کسی مناظرانہ بحث کا عنوان نہیں، بلکہ حق و باطل کے درمیان ایک ابدی خطِ امتیاز ہے۔ قرآنِ مجید پوری قوت، پورے یقین اور کامل قطعیت کے ساتھ اعلان کرتا ہے:
“اِنَّ الدِّیْنَ عِندَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ”
یعنی بے شک، یقینی طور پر، اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔
یہ اعلان کسی انسان کا نہیں، کسی قوم کا نہیں، کسی مذہبی گروہ کا نہیں، یہ اعلان ربِّ کائنات کا ہے، وہ رب جو زمین و آسمان کا خالق، انسان کے ظاہر و باطن سے باخبر اور اس کی فطرت کا جاننے والا ہے۔ جب وہ یہ کہہ رہا ہے کہ میرے نزدیک دین صرف اسلام ہے، تو پھر دنیا کی کوئی طاقت، کوئی فلسفہ، کوئی نظریہ اس کے مقابلے میں کھڑا نہیں ہو سکتا۔
اسلام کوئی نیا مذہب نہیں جس کی ابتدا ساتویں صدی میں ہوئی ہو، بلکہ یہ تو وہی دینِ فطرت ہے جو حضرت آدمؑ کے ساتھ زمین پر اترا، جو نوحؑ کی کشتی میں محفوظ رہا، جو ابراہیمؑ کی قربانی میں جھلکا، جو موسیٰؑ کی شریعت میں جلوہ گر ہوا اور جو عیسیٰؑ کی تعلیمات میں زندہ رہا، یہاں تک کہ محمد ﷺ پر آ کر مکمل، جامع اور دائمی صورت اختیار کر گیا۔ سب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا دین ایک تھا، سب کا پیغام ایک تھا، اور وہ پیغام یہی تھا: اللہ کے سامنے مکمل سرِ تسلیم خم کر دو، یہی اسلام ہے۔
یہ آیت ان تمام خوش فہمیوں کو چکناچور کر دیتی ہے جن کے مطابق ہر راستہ حق ہے اور ہر نظریہ نجات کا ذریعہ۔ قرآن دو ٹوک الفاظ میں واضح کرتا ہے کہ حق ایک ہے، اور وہ اللہ کا مقرر کردہ دین ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا:
“وَمَن يَّبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ”
جو اسلام کے سوا کوئی اور راستہ تلاش کرے گا، کسی دوسرے نظریے کی اتباع کرے گا اس سے وہ ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا گویا دوسرے نظاموں، نظریات، ازمون کو ماننے والا خسارے میں رہے گا۔
مگر یہاں ایک اور حقیقت بھی ذہن نشین رہنی چاہیے: اسلام جبر کا نام نہیں، بلکہ دعوت کا دین ہے۔ حق کو واضح کر دینا اسلام کا کام ہے، دلوں کو زبردستی جھکا دینا اس کا طریقہ نہیں۔ اسی لیے قرآن اعلان کرتا ہے:
“لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ”
اسلام دلیل سے بات کرتا ہے، کردار و دلیل سے قائل کرتا ہے، اور اخلاق سے دل جیتتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آج اسلام کو دنیا کس نظر سے دیکھ رہی ہے؟ کیا وہ اسے عدل، امانت، دیانت اور رحمت کے دین کے طور پر جانتی ہے؟ یا ہم نے اپنے اعمال سے اس عظیم دین کی تصویر مسخ کر دی ہے؟ اگر اسلام اللہ تعالٰی کے نزدیک واحد دینِ حق ہے، تو پھر مسلمان کیوں ذلت، انتشار اور پسماندگی کا شکار ہیں؟ اس کا جواب دین میں نہیں، ہمارے دین سے انحراف و روگردانی کے عمل میں ہے۔
ہم نے اسلام کو نعروں تک محدود کر دیا، فرقوں میں بانٹ دیا، رسموں میں قید کر دیا۔ ہم نے قرآن پڑھا مگر سمجھا نہیں، سمجھا مگر اپنایا نہیں، اور اپنایا مگر نافذ نہیں کیا۔ حالانکہ اسلام صرف مسجد کا دین نہیں، یہ بازار، عدالت، ایوانِ اقتدار اور معاشرے کے ہر گوشے کا دین ہے۔ یہ نظامِ عدل بھی ہے، ضابطۂ اخلاق بھی، دستورِ حیات بھی اور منشورِ نجات بھی۔
یہ آیت ہمیں صرف یہ نہیں بتاتی کہ دین کون سا حق ہے، بلکہ یہ ہم سے یہ سوال بھی کرتی ہے:
کیا ہم واقعی اسلام کے نمائندے ہیں؟
کیا ہمارا کردار اسلام کی گواہی دیتا ہے؟
کیا ہماری سیاست، معیشت اور معاشرت اس دین کی عکاس ہے جسے اللہ نے اپنا دین قرار دیا؟
یاد رکھئے! اگر مسلمان خود اسلام کے تقاضوں کو پامال کریں گے تو دنیا کو اسلام کی حقانیت کیسے نظر آئے گی؟ دین کی صداقت دلیل سے کم اور کردار سے زیادہ ثابت ہوتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ “اِنَّ الدِّیْنَ عِندَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ” محض ایک آیت نہیں، یہ ایک دعوت ہے، ایک للکار ہے ضمیر کی پکار ہے، ایک ذمہ داری ہے۔ یہ ہمیں ایمان کے دعوے سے آگے بڑھ کر عمل کی کسوٹی پر آنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ اگر ہم نے اس مطالبے کو قبول کر لیا، تو یہی آیت ہمارے عروج کی بنیاد بنے گی؛ اور اگر ہم نے اسے نظرانداز کیا، تو یہی آیت قیامت کے دن ہمارے خلاف گواہی دے گی۔
اللہ ہمیں اسلام کو ماننے کے ساتھ ساتھ قرآن و سنۃ کے احکامات، اوامر و نواہی، حقوق اللہ و حقوق العباد، اسوۃ حسنہ کے مطابق صراط مستقیم پر چلتے ہوئے جینے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہم آمین یا رب العالمین۔
No comments:
Post a Comment