فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ قرآن، سنت اور اسلاف کی روشنی میں خود احتسابی کا قرآنی اصول
تحریر: پروفیسر ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی ارائیں، کراچی
قرآنِ حکیم انسان کی اصلاحِ باطن اور تطہیرِ نفس کے لیے جن بنیادی اصولوں کو واضح کرتا ہے، ان میں ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن اصول یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو نیکی، تقویٰ اور پاکیزگی کا معیار نہ سمجھے۔ سورۃ النجم میں ارشادِ ربانی ہے:
﴿فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَىٰ﴾
یعنی “پس اپنے نفسوں کو پاک قرار نہ دو، وہ خوب جانتا ہے کہ کون تقویٰ اختیار کرنے والا ہے۔”
یہ آیت انسانی نفسیات کے ایک نازک مگر خطرناک پہلو کی نشاندہی کرتی ہے، اور وہ ہے خود ستائی۔ عربی لفظ تزکیہ اگرچہ لغوی اعتبار سے پاکیزگی اور نشوونما کے معنوں میں آتا ہے، مگر جب انسان خود اپنے لیے تزکیہ کرے تو یہ دعویٰ، غرور اور روحانی خود فریبی میں بدل جاتا ہے۔ قرآن اسی خود فریبی کو جڑ سے کاٹ دیتا ہے۔
یہ اصول صرف سورۃ النجم تک محدود نہیں۔ سورۃ النساء میں فرمایا گیا:
﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُمْ ۚ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ﴾
“کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے آپ کو پاکیزہ ٹھہراتے ہیں؟ بلکہ اللہ ہی ہے جو جسے چاہتا ہے پاکیزہ بناتا ہے۔”
یہاں واضح کر دیا گیا کہ تزکیہ کا اختیار بندے کے پاس نہیں بلکہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
نبی اکرم ﷺ کی سنت بھی اسی قرآنی منہج کی ترجمان ہے۔ صحیح مسلم میں روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کی حد سے زیادہ تعریف کی تو آپ ﷺ نے فرمایا:
“تم نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی۔”
اسی طرح آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کی تعریف ناگزیر ہو تو یوں کہو: “میں اسے ایسا ہی سمجھتا ہوں، مگر اللہ بہتر جانتا ہے، اور میں اللہ کے مقابلے میں کسی کو پاک نہیں ٹھہراتا۔”
یہ تعلیم دراصل اسی آیت کی عملی تفسیر ہے۔
اسلافِ امت کا طرزِ عمل بھی اس باب میں نہایت قابلِ رہنمائی ہے۔ حضرت عمر بن خطابؓ فرمایا کرتے تھے:
“اگر ایک منادی آسمان سے اعلان کر دے کہ سب لوگ جنت میں جائیں گے سوائے ایک کے، تو مجھے اندیشہ ہوگا کہ وہ میں ہی ہوں؛ اور اگر اعلان ہو کہ سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے، تو امید رکھوں گا کہ وہ میں ہوں۔”
یہی وہ کیفیت ہے جسے حقیقی تقویٰ کہا جاتا ہے۔
امام حسن بصریؒ فرماتے ہیں:
“مومن اپنے نفس کو ہمیشہ موردِ الزام ٹھہراتا ہے، اور منافق اپنے نفس کو ہر عیب سے پاک سمجھتا ہے۔”
گویا خود احتسابی ایمان کی علامت ہے، اور خود ستائی نفاق کی نشانی۔
اس آیت کا ایک اہم تحقیقی پہلو یہ ہے کہ اسلام میں اخلاقی عدالت انسان کے ہاتھ میں نہیں دی گئی۔ بندہ اعمال کرتا ہے، مگر فیصلہ اللہ کے سپرد ہے۔ اسی لیے تقویٰ کو کسی ظاہری لباس، جماعت، مسلک یا دعوے سے نہیں باندھا گیا بلکہ دل کے اخلاص سے مشروط کیا گیا ہے، جیسا کہ حدیثِ نبوی ﷺ ہے:
“بے شک اللہ تمہاری صورتوں اور مال کو نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔”
(صحیح مسلم)
آج کے مذہبی اور سماجی ماحول میں اس آیت کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے، جہاں افراد اور گروہ خود کو حق کا واحد علمبردار اور دوسروں کو گمراہ قرار دینے میں جلدی کرتے ہیں۔ قرآن اس رویّے کی نفی کرتے ہوئے ہمیں عاجزی، سکوت اور خود احتسابی کا درس دیتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ
﴿فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ﴾
ایک جامع اخلاقی ضابطہ ہے جو انسان کو غرور سے بچاتا، نیت کو خالص کرتا اور تقویٰ کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔ یہی وہ فکر ہے جو فرد کو صالح اور معاشرے کو متوازن بناتی ہے، اور یہی قرآن، سنت اور اسلاف کا متفقہ منہج ہے۔ واللہ و رسولہ اعلم باالصواب
No comments:
Post a Comment