حل اور لائحۂ عمل: زکوٰۃ کو رسم سے نظام تک کیسے لایا جائے؟
(قسط چہارم)
از قلم: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
تنقید کافی نہیں، اب سوال حل کا ہے۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ زکوٰۃ قرآن کے مطابق ادا ہو تو چند اصول طے کرنا ہوں گے۔
اوّل:
زکوٰۃ کو ریاستی ظلم سے آزاد کرنا ہوگا۔ جب تک زکوٰۃ شریعت کے مطابق وصول اور تقسیم نہیں ہوتی، صاحبِ نصاب خود ذمہ دار ہے۔
دوم:
زکوٰۃ کی تقسیم شخصی علم اور دیانت کے ساتھ ہو۔ قریبی مستحقین، سفید پوش، مقروض، بیروزگار—یہ سب ترجیحی حق دار ہیں۔
سوم:
مؤلّفۃ القلوب کو زندہ کیا جائے۔ غریب مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت، نو مسلموں کی کفالت اور فکری محاذ پر کام کرنے والوں کی مدد کی جائے۔
چہارم:
فی سبیل اللہ کے مفہوم کو وسعت دی جائے۔ تعلیم، دعوت، میڈیا اور فکری جدوجہد کو زکوٰۃ کے دائرے میں لایا جائے۔
پنجم:
ہر ادائیگی میں تملیک یقینی بنائی جائے۔ نمائشی خیرات سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی۔
اگر زکوٰۃ قرآن کے مطابق ادا ہو جائے تو:
غربت کم ہو سکتی ہے،
ایمان محفوظ ہو سکتا ہے،
اور معاشرہ سنبھل سکتا ہے۔
ورنہ ہم زکوٰۃ دیتے رہیں گے
اور امت بکھرتی رہے گی۔
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
No comments:
Post a Comment