Sunday, 4 January 2026

پاکستان میں سیاسی و معاشی عدم استحکام، موجودہ بحران کا پس منظر۔

 پاکستان میں سیاسی و معاشی عدم استحکام، موجودہ بحران کا پس منظر۔

تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے نمایاں پہلو عدم استحکام ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے آٹھ سالوں میں ہی سات وزرائے اعظم کا تختہ الٹ دیا گیا، جس پر بھارت کے وزیراعظم نہرو نے طنزیہ کہا تھا کہ وہ اتنی دھوتیاں نہیں بدلتے جتنے پاکستان میں وزیراعظم تبدیل ہوتے ہیں۔ یہ عدم استحکام آج تک جاری ہے اور اس نے معیشت کو تباہ کن بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس ابتلا کی جڑیں گہری تاریخی، ساختی اور نظامی خرابیوں میں پیوست ہیں۔

سیاسی عدم استحکام کے تاریخی و ساختی اسباب

پاکستان کی سیاسی عدم استحکام کی سب سے بڑی وجہ جمہوریت کا پودا جڑ نہ پکڑ سکنا ہے۔ فوجی مداخلت کے سلسلے نے اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

فوجی آمریتوں کا تسلسل: جنرل ایوب خان (1958)، جنرل آغا یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق (1977)، اور جنرل پرویز مشرف (1999) کی فوجی مداخلتوں نے جمہوری عمل کو بار بار کچل ڈالا۔ 1970 کے آزاد و منصفانہ انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کیا جانا اور اس کے نتیجے میں ملک کے دولخت ہونے کا المیہ، سیاسی عدم استحکام کی سب سے بڑی وجہ بنا۔

جمہوری کمزوریاں: فوجی مداخلت کے علاوہ، جمہوری حکومتیں بھی پالیسی تسلسل اور شفاف حکمرانی قائم کرنے میں ناکام رہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت کا فقدان، رول ماڈل رہنماؤں کی کمی اور غیرمعمولی سطح کی کرپشن نے عوامی اعتماد کو مجروح کیا ہے۔

عدالتی نظام کی کمزوری: کمزور عدالتی نظام اور آئین و قانون کی حکمرانی کا فقدان بھی استحکام کے حصول میں رکاوٹ بنا رہاا ہے۔

معاشی بحران: محرکات اور نقصانات

سیاسی انتشار نے معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم ہو چکا ہے، جو معاشی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

بھاری قرضہ اور مالیاتی بحران: پاکستان کا بیرونی قرض 125.7 بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ حکومت کی ٹیکس وصولی کی صلاحیت دنیا میں سب سے کم ممالک میں سے ہے، جہاں ٹیکس کا GDP تناسب صرف 10% ہے۔ اس کی اہم وجہ زمین اور زرعی آمدنی پر ٹیکس نہ لگایا جانا اور طاقتور کاروباری مفادات کے سامنے جھکنا ہے۔

مہنگائی اور زرمبادلہ کے ذخائر کا بحران: مئی 2023 میں افراط زر 38% کی ریکارڈ بلندی پر پہنچ گیا تھا۔ زرمبادلہ کے ذخائر جون 2023 میں محض 4 بلین ڈالر رہ گئے تھے، جو ایک ماہ کے درآمدی بلوں کے لیے بھی ناکافی تھے۔ پاکستان آئی ایم ایف سے اپنا 23 واں بیل آؤٹ پیکیج حاصل کر چکا ہے، جو اس کے معاشی انتظام کی ناکامی کی علامت ہے۔

انسانی ترقی کی پسماندگی: 80% سے زائد آبادی صاف پانی سے محروم ہے۔ 60% سے زیادہ بچے اور مائیں غذائی قلت کا شکار ہیں۔ صحت اور تعلیم پر حکومتی اخراج دنیا کے بدترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

سیاسی و معاشی عدم استحکام کا باہمی تعلق

سیاسی اور معاشی عدم استحکام ایک دوسرے کو تقویت دینے والا چکر بن چکے ہیں۔

· سیاسی انتشار معیشت کو تباہ کرتا ہے: سیاسی جماعتوں کی آپس کی محاذ آرائی اور عدم رواداری نے ایسا ماحول بنا دیا ہے جہاں طویل مدتی معاشی پالیسیاں بنانا ناممکن ہو گیا ہے۔ جب سرمایہ کاروں کو سیاسی صورتحال غیر یقینی نظر آتی ہے، تو وہ ملک میں سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں۔

· معاشی بدحالی سیاسی کشیدگی بڑھاتی ہے: مہنگائی، بیروزگاری اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے مزید سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔

"گری اکانومی" کا دوہرا کردار: غیر رسمی معیشت (گری اکانومی) اور بیرون ملک سے آنے والی رقوم (ریمٹینسز) قیاس آرائی کے مطابق مختصر مدت میں استحکام فراہم کرتی ہیں، کیونکہ یہ لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کرتی ہیں۔ تاہم، طویل مدت میں یہی عوامل منظم معیشت کی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں اور ریاست کی آمدنی بڑھانے کی صلاحیت کو کمزور کرتے ہیں۔

راستہِ نکل: تجاویز اور امید کی کرن

اس دلدل سے نکلنے کے لیے بنیادی اور ہمہ جہت اصلاحات کی ضرورت ہے۔

· قومی مفاہمت کا معاہدہ: تمام اہم سیاسی قوتوں کو معیشت، قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ہو گا۔ اس سے پالیسیوں میں تسلسل یقینی بنایا جا سکے گا۔

جمہوری اداروں کی مضبوطی: پارلیمنٹ، الیکشن کمیشن اور عدلیہ کو حقیقی خود مختاری دلانا ضروری ہے۔ مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا ہو گا تاکہ عوامی مسائل کا حل قریب ہو۔

معاشی اصلاحات: ٹیکس نیٹ وسیع کرنے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات کرنے، اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

تعلیم اور انصاف پر سرمایہ کاری: عوام کا پسماندہ سیاسی شعور دراصل تعلیم کی کمی کا نتیجہ ہے۔ انصاف کے مؤثر نظام کے بغیر معاشرے میں اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔

ایک ریسرچ رپورٹ (Pak-StaM) اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ مختصر مدتی "استحکام" کے بعض ذرائع (جیسے سرپرستی کا نظام یا غیر رسمی معیشت) طویل مدتی ترقی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اس لیے، اصلاحات کا مقصد صرف موجودہ بحران سے نمٹنا نہیں، بلکہ ایسا لچکدار ڈھانچہ تعمیر کرنا ہونا چاہیے جو مستقبل کے جھٹکوں کو برداشت کر سکے۔

پاکستان کا بحران اتنا گہرا اور پیچیدہ ہے کہ اس کا کوئی فوری یا آسان حل نہیں۔ تاہم، اس کے لیے قومی یکجہتی، عوامی شعور اور اصلاحات پر غیر متزلزل عزم درکار ہے۔ قوم کو اپنی خامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اجتماعی طور پر انہیں دور کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ جیسا کہ قرآن پاک میں سورۃ النحل میں بیان کیا گیا ہے، نعمتوں کی ناشکری اور احکام کی نافرمانی ہی معاشرے پر بھوک اور خوف مسلط کرنے کا باعث بنتی ہے۔ استحکام کی راہ انصاف، حکمرانی کی ذمہ داری اور عوامی بہبود کے اصولوں پر عمل درآمد سے ہی نکل سکتی ہے۔ صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کےلیے!

No comments:

Post a Comment