Saturday, 3 January 2026

آئین پاکستان کے مطابق، قرآن و سنت پر مبنی نظام

 آئین پاکستان کے مطابق، قرآن و سنت پر مبنی نظام

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی ارائیں، کراچی

آئین پاکستان کے مطابق، قرآن و سنت پر مبنی نظام قائم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، جبکہ سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ سود (ربا) اس کے صریحاً خلاف ہے۔ سود کے خاتمے کے لیے حالیہ آئینی ترمیم اور عدالتی فیصلے ایک تاریخی عہد ہیں، لیکن عملی نفاذ میں کئی پیچیدگیاں حائل ہیں۔

📜 آئین پاکستان کی روشنی میں شرعی نظام کا عہد

آئین پاکستان (1973ء) پاکستان کو ایک اسلامی جمہوریہ قرار دیتا ہے اور قرآن و سنت کو قانون سازی کی بنیاد بناتا ہے۔ اس سلسلے میں کلیدی آئینی دفعات درج ذیل ہیں:

· ریاستی مذہب: آرٹیکل 2 کے تحت اسلام پاکستان کا ریاستی مذہب ہے۔

· قرآن و سنت کی بالادستی: آرٹیکل 227 کے مطابق، تمام موجودہ اور مستقبل کے قوانین قرآن و سنت میں دیے گئے اسلامی احکامات کے مطابق ہونے چاہئیں۔ کوئی قانون ان کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا۔

· قرارداد مقاصد: آئین کے دیباچے کے طور پر شامل ہے، جس میں اللہ کی حاکمیت اعلٰی تسلیم کی گئی ہے اور یہ عہد کیا گیا ہے کہ مسلمان اپنی زندگیاں قرآن و سنت کے مطابق گزار سکیں گے۔

⚖️ سودی نظام کے خلاف عدالتی جدوجہد کا تاریخی سفر

سود کے خلاف قانونی جنگ کا آغاز 1980ء کی دہائی میں ہوا۔ اس سفر کے اہم سنگ میل یہ ہیں:

· 1991 کا تاریخی فیصلہ: وفاقی شرعی عدالت نے اپنے فیصلے میں ہر قسم کے سود کو حرام قرار دیا اور حکومت کو 30 جون 1992 تک سودی قوانین ختم کرنے کی ہدایت کی۔

· 1999/2000 میں تصدیق: سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بینچ نے 1991 کے فیصلے کی توثیق کی اور سودی نظام کے خاتمے کی نئی ڈیڈ لائن 30 جون 2001 مقرر کی۔

· 2022 کا فیصلہ: وفاقی شرعی عدالت نے ایک بار پھر سودی نظام کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے حکومت کو 2027ء تک اسے ختم کرنے کی ہدایت کی۔

🔄 نئی آئینی ترمیم اور موجودہ قانونی فریم ورک

حالیہ قانونی صورت حال میں ایک اہم پیشرفت آئین کی 26ویں ترمیم ہے، جو 2024 میں منظور ہوئی۔ اس ترمیم کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

· متعین ہدف: ترمیم میں ریاست پر یکم جنوری 2028ء تک ملک سے سود کے خاتمے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔

· سودی نظام کی حیثیت: اس ترمیم کے بعد، سود پر مبنی نظام آئین کے آرٹیکل 2 (اسلام بطور ریاستی مذہب) اور آرٹیکل 227 (قرآن و سنت کے تابع قانون سازی) کے صریحاً خلاف ہو گیا ہے۔

🏛️ اسلامی مالیاتی نظام کے متبادل اور عملی پیشرفت

سودی نظام کے متعارف کیے گئے اسلامی متبادل اثاثوں اور حقیقی تجارت پر مبنی ہیں۔ پاکستان میں ان کی عملی موجودگی درج ذیل ہے:

· اسلامی بینکاری: اسٹیٹ بینک کے مطابق، اسلامی بینکاری کا نظام قرض دینے کے بجائے شراکت (Musharaka)، مضاربہ (Mudaraba)، اور مرابحہ (Murabaha) جیسے عقود پر مبنی ہے۔ پاکستان میں کئی بینک مکمل یا جزوی طور پر اسلامی بینکاری کر رہے ہیں۔

· سٹاک مارکیٹ: پاکستان سٹاک ایکسچینج پر PSX-KMI آل شیئر انڈیکس جیسے اشاریے موجود ہیں، جو 250 سے زائد شرعی اصولوں کے مطابق کمپنیوں کی کارکردگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی بانڈز (سکوک) اور اسلامی مشترکہ فنڈز بھی دستیاب ہیں۔

🚧 سود سے پاک نظام کی طرف منتقلی کے اہم چیلنجز

حکومت نے 2028ء کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔ تاہم، مکمل منتقلی کے لیے درپیش اہم رکاوٹوں میں شامل ہیں:

· بین الاقوامی مالیاتی تعہدات: آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کے ساتھ موجود سود پر مبنی معاہدے، جنہیں تبدیل کرنے کے لیے پیچیدہ مذاکرات درکار ہیں۔

· قانونی و تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی: سٹیٹ بینک سمیت تمام مالیاتی ریگولیٹرز کو اپنے قوانین، ضوابط اور لائسنسنگ شرائط ازسرنو مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔

· معاشی استحکام کا خطرہ: ماہرین کے مطابق، بغیر کافی تیاری کے اچانک تبدیلی معاشی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔

💎 نتیجہ اور سفارشات

آئین پاکستان ایک قرآن و سنت پر مبنی نظام کے قیام کا واضح حکم دیتا ہے اور سود کو اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتا ہے۔ 2028ء کی آئینی ڈیڈ لائن ایک مثبت اور ضروری اقدام ہے، جس کا انحصار مندرجہ ذیل اقدامات پر ہوگا:

1. مربوط حکمت عملی: حکومت کو سٹیٹ بینک، مالیاتی اداروں اور علماء کے اشتراک سے ایک واضح، مرحلہ وار روڈ میپ جاری کرنا چاہیے۔

2. عوامی شعور اور تعلیم: عوام اور کاروباری طبقے کو اسلامی مالیاتی مصنوعات کے فوائد اور عملی استعمال سے آگاہ کرنا۔

3. بین الاقوامی رابطہ کاری: پہلے سے اسلامی مالیاتی نظام رکھنے والے ممالک (جیسے ملائیشیا، ایران) کے ساتھ تجربات کا تبادلہ اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ متبادل طریقوں پر بات چیت۔

اس تبدیلی کا اصل امتحان یہ ہو گا کہ آیا ریاست آئین کے عہد کو پورا کرتے ہوئے صرف قانونی ڈیڈ لائن مقرر کرتی ہے یا عملی سیاسی و معاشی وسائل بھی مہیا کرتی ہے۔ یہ بہرحال اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہمارے کثیر الجہت ریاستی، سیاسی، معاشی، معاشرتی مسائل و مصائب کا واحد حل فقط قرآن و سنت پر مبنی منصفانہ حکومتی و انتظامی اور عدالتی نظام کے نفاذ، غلبے اور بالادستی قائم کرنے میں میں ہی پوشیدہ ہے، یا الٰہی تو اپنے فضل و کرم اور رحمت سے ہمارے منتخب عوامی نمائندگان اور حکمرانوں کو اس حقیقت کے ادراک کی توفیق نصیب فرما، اللہم آمین یا ارحم الراحمین

No comments:

Post a Comment