ہماری معاشرتی خرابیاں اور ان کا مؤثر علاج
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
آج مسلم معاشرہ اخلاقی، سماجی اور تہذیبی زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں گر چکا ہے۔ ہمارے اجتماعی بدن پر ناسور پھوٹ پڑے ہیں، ہماری اجتماعی شخصیت انتشار کا شکار ہے، اور ہمارا اجتماعی ضمیر بے حسی کی نیند سوتا ہے۔ ہر طرف بدامنی، بددیانتی، خودغرضی، عدیم الاحتیاطی اور بے راہ روی کا دور دورہ ہے۔ یہ المیہ اس لیے ہے کہ ہم نے اپنے وجود کی اساس، قرآن و سنت سے رشتہ استوار کرنا چھوڑ دیا ہے۔
بنیادی خرابیاں
ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا ناسور قرآن و سنت سے روگردانی ہے۔ ہم نے شریعت کے زریں اصولوں کو رسمی عبادات تک محدود کر دیا ہے جبکہ معاملات، معاشرت اور اخلاقیات کو دنیوی اصولوں پر چلانا شروع کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں:
۱. اخلاقی انحطاط: جھوٹ، دھوکہ، خیانت، وعدہ خلافی عام ہو گئی ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جان و مال میں محفوظ رہیں۔" (ترمذی) کیا ہم میں یہ صفت باقی ہے؟
۲. معاشی ناانصافی: سود، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی ہمارے معاشی نظام میں رچ بس گئی ہے۔ قرآن واضع فرماتا ہے: "اور ناپ تول میں کمی مت کرو" (المطففین: ۱)۔
۳. سماجی بے حسی: ہماری رگوں میں اخوت و ہمدردی کا خون جم گیا ہے۔ امیر غریب کی تفریق، قبیلہ پرستی، خاندانی تعصبات نے معاشرے کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔
۴. علمی پسماندگی: ہم نے قرآن کے "اقرأ" کے حکم کو بھلا دیا، جبکہ رسولﷺ نے فرمایا: "علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔" (ابن ماجہ)
زوال کی وجوہات
اس زوال کی بنیادی وجہ قرآن و سنت سے عملی بیزاری ہے۔ ہم نمازیں پڑھتے ہیں مگر اس کے اخلاقی تقاضے پورے نہیں کرتے۔ ہم روزے رکھتے ہیں مگر تقویٰ حاصل نہیں کرتے۔ ہم زکوٰۃ دیتے ہیں مگر معاشرے سے مفلسی نہیں مٹاتے۔ ہمارا دین رسمی عبادات کا مجموعہ بن کر رہ گیا ہے، جبکہ زندگی کے دیگر شعبوں میں ہم مغرب کے فلسفے اور اقدار کے غلام ہیں۔
مؤثر علاج
اس زوال سے نکلنے کا واحد راستہ قرآن و سنت کی طرف رجوع ہے۔ علاج کے تین مراحل ہیں:
۱. انفرادی اصلاح: ہر مسلمان اپنے اندر جائزہ لے، اپنی عبادات کو روح و جان سے ادا کرے، اپنے اخلاق کو سنوارے، اپنے معاملات میں دیانتدار بنے۔ قرآن فرماتا ہے: "بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔" (الرعد: ۱۱)
۲. تعلیمی انقلاب: ہمیں ایسی تعلیمی نظام قائم کرنا ہوگا جو قرآن و سنت کو مرکز و محور بنائے، جو نسل نو کو اسلام کے جامع تصور حیات سے روشناس کرائے۔
۳. معاشرتی بیداری: مساجد کو محض نماز کی جگہ نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح کے مراکز بنانا ہوگا۔ علماء کو چاہیے کہ معاشرتی مسائل پر قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی کریں۔
فیصلہ کن موڑ
امت مسلمہ آج ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ یا تو ہم اپنے اصل ماخذ کی طرف لوٹیں، اپنی پہچان بحال کریں، اور دنیا میں عدل و انصاف کے علمبردار بنیں، یا پھر مزید زوال و پستی میں گرتے چلے جائیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اس امت نے قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھاما، دنیا کی قیادت کی، اور جب بھی اس سے دور ہوئی، ذلت و شکست سے دوچار ہوئی۔
اے مسلمانو! اٹھو، اپنے فرائض کو پہچانو، اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبیﷺ کی سنت کو اپنا راہنما بناؤ۔ یہی ہماری نجات، ہماری عزت اور ہماری کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ خواب غفلت سے بیدار ہو جائیں، اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں، اور ایک بار پھر قرآن و سنت کی تجدید احیاء کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔
اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں معاشرے کی اصلاح کےلیے جہد مسلسل کرنے کی توفیق بخشے، اور ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرے۔ آمین۔
No comments:
Post a Comment