Monday, 12 January 2026

امت کے عروج و زوال کی کہانی: اقبال کی زبانی

 امت کے عروج و زوال کی کہانی: اقبال کی زبانی

از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی 

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ امت مسلمہ کے عظیم مفکر اور شاعر تھے جن کی فکر قرآن و سنت کے نور سے منور تھی۔ انھوں نے اپنی شاعری اور نثر میں امت کے عروج و زوال کے اسباب کو گہرائی سے بیان کیا ہے۔ اقبال کے نزدیک امت کا عروج اس وقت تھا جب وہ قرآن کے اصولوں پر کاربند تھی، جب علم و عمل کا توازن تھا، اور جب مسلمان خودی اور خودشناسی کے زیور سے آراستہ تھے۔


عروج کے سنہری دور کی یاد


اقبال نے مسلمانوں کے اس دور عروج کو یاد کیا جب وہ علم و حکمت کے داعی تھے، جب قرطبہ اور بغداد علم کے مراکز تھے، اور جب مسلم سائنسدانوں اور مفکرین نے انسانی تہذیب کو نئی راہیں دکھائیں۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمان "لا إله إلا الله" کے تصور توحید کی عملی تفسیر پیش کر رہے تھے۔ اقبال فرماتے ہیں:


"تمھاری تہذیر اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی

جو شاخ نازک پر آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگا"


یہ شعر درحقیقت اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جب امت اپنے اصولوں سے دور ہوتی ہے تو وہ اپنے ہی ہاتھوں زوال کی طرف بڑھتی ہے۔


زوال کے اسباب


اقبال نے امت کے زوال کے متعدد اسباب بیان کیے ہیں جن میں سب سے اہم قرآن سے دوری، تقلید جامد، علم کی بجائے جہل کی پیروی، اور خودی کی موت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ مسلمان نے مغرب کی تقلید میں اپنی شناخت کھودی ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: "إِنَّ اللّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ" (الرعد:11)۔ یعنی اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدلے۔


اقبال نے زوال کا ایک بڑا سبب عمل کی بجائے خواب دیکھنے کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان نے تقدیر کے نام پر کاہلی اور بے عملی کو اپنا لیا ہے، حالانکہ قرآن واضح طور پر عمل اور کوشش کی ترغیب دیتا ہے۔


اقبال کا پیغام امید اور عمل کا


اقبال کا پیغام ناامیدی کا نہیں بلکہ امید اور عمل کا پیغام ہے۔ وہ مسلمانوں کو جھنجھوڑتے ہوئے کہتے ہیں:


"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے"


یہ "خودی" کا تصور درحقیقت قرآن کے تصور "تقویٰ" اور "عزم" کی عملی تفسیر ہے۔ اقبال چاہتے تھے کہ مسلمان اپنی انفرادی اور اجتماعی خودی کو پہچانیں، اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں، اور قرآن و سنت کی روشنی میں ایک نئی شمع فروزاں کریں۔


قرآن و سنت کی روشنی میں راہ نجات


قرآن مجید میں قوموں کے عروج و زوال کا ایک واضح قانون بیان کیا گیا ہے۔ سورہ آل عمران میں ارشاد ہے: "وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ" (آیت:139)۔ یعنی تم ہرگز کمزور نہ پڑو اور نہ غم کرو اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔


اقبال نے اسی قرآنی تعلیم کو اپنے کلام میں پیش کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ امت مسلمہ اپنے عروج کو تب ہی دوبارہ حاصل کر سکتی ہے جب:


1. قرآن کو زندگی کا مرکز و محور بنایا جائے

2. سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنایا جائے

3. علم و عمل کا توازن قائم کیا جائے

4. خودی اور خود اعتمادی کو پروان چڑھایا جائے

5. وحدت امت کا تصور زندہ کیا جائے


اقبال کے افکار کی آج کے دور میں معنویت


آج جب امت مسلمہ انتشار اور چیلنجز کا شکار ہے، اقبال کا پیغام پہلے سے زیادہ متعلقہ ہے۔ انھوں نے ہمیں یاد دلایا کہ ہماری طاقت ہماری وحدت، ہمارا ایمان، اور ہمارا عمل ہے۔ ہمیں مغرب کی بے جا تقلید کی بجائے اپنے دینی و تہذیبی اصولوں کی طرف لوٹنا ہوگا۔

سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اعتدال، علم، اور عمل کی تعلیم دی ہے۔ اقبال کی فکر درحقیقت اسی سنت کی عصری تشریح ہے۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ زوال دائمی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مرحلہ ہے جس سے نکلنے کے لیے ہمیں اپنے اندر تبدیلی لانی ہوگی۔

نتیجہ

اقبال کی زبانی امت کے عروج و زوال کی کہانی درحقیقت خود شناسی، خود احتسابی، اور خود سازی کی کہانی ہے۔ یہ قرآن و سنت کے اصولوں کی طرف رجوع کی دعوت ہے۔ امت مسلمہ اپنا کھویا ہوا مقام تب ہی حاصل کر سکتی ہے جب وہ اقبال کے پیغام کو سمجھے اور قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے فرد اور معاشرے کی تعمیر نو کرے۔ یہی اقبال کا خواب تھا اور یہی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

"مومن کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے اس کی

یا خود اس میں گم ہے ہر چہرۂ نورانی اس کا"

No comments:

Post a Comment