ہماری معاشرتی خرابیاں اور ان کا مؤثر علاج
از: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
ہماری حالت اب یہ ہو چکی ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی پاکستان یا عالمِ اسلام کا “معاشرتی ایکسرے” کر لے تو رپورٹ میں لکھے:
“یہ قوم بیمار نہیں، عادتاً بیمار ہے۔ علاج موجود ہے، مگر مریض پرہیز سے الرجک ہے!”
ہم دن کا آغاز جھوٹ سے کرتے ہیں، کاروبار دھوکے سے چلاتے ہیں، نماز جلدی میں نپٹاتے ہیں، اور رات کو اللہ سے شکوہ کرتے ہیں:
“یا اللہ! حالات کیوں خراب ہیں؟”
گویا حالات کسی پڑوسی نے بگاڑے ہوں، اور ہم تو صرف تبصرہ نگار ہوں!
غربت ہے، مگر ایمانداری اس سے زیادہ نایاب۔
کرپشن ہے، مگر شرمندگی صفر۔
ناانصافی ہے، مگر احتجاج صرف واٹس ایپ اسٹیٹس تک محدود۔
اور ہم سب بڑے فخر سے کہتے ہیں:
“اصل مسئلہ تو حکمران ہیں!”
بھائی! حکمران کہاں سے آئے؟ آسمان سے نازل ہوئے تھے یا ہماری ہی گلیوں کی پیداوار ہیں؟
ہم نے دین کو بھی “حسبِ سہولت پیکج” بنا لیا ہے۔
نماز؟ جب فرصت ہو۔
روزہ؟ جب ڈاکٹر اجازت دے۔
صدقہ؟ جب تصویر اچھی بن جائے۔
عدل؟ جب سامنے والا کمزور ہو۔
قرآن کہتا ہے:
“وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ”
اور ہم نے اس آیت کا عملی ترجمہ یہ کر لیا ہے:
“اللہ کو بھولو، خود کو بھی بھولو، پھر ہر خرابی کا الزام کسی اور پر ڈال دو!”
معاشرتی اخلاق کا یہ عالم ہے کہ
• دکاندار ترازو ہلکا رکھتا ہے اور تسبیح بھاری
• افسر فائل روکے رکھتا ہے اور عمرے کی تیاری مکمل
• سیاستدان عوام کو بیچتا ہے اور نعرہ لگاتا ہے: “خدمت!”
اگر نبی کریم ﷺ آج ہمارے معاشرے کا دورہ فرما لیں تو شاید یہ نہ پوچھیں:
“تم نے دین چھوڑ کیوں دیا؟”
بلکہ یہ سوال کریں:
“تم نے شرم کہاں گم کر دی؟”
اب ذرا علاج بھی سن لیجیے، ورنہ کہیں یہ کالم بھی صرف ہنسی کا انجکشن بن کر نہ رہ جائے۔
پہلا علاج:
اپنی ذات کی اصلاح۔
نماز کو ورزش نہ سمجھیں، روزے کو ڈائٹ پلان نہ بنائیں، اور دین کو صرف جمعہ کا خطبہ نہ سمجھیں۔ دین طرزِ زندگی ہے، اسٹیٹس اپڈیٹ نہیں۔
دوسرا علاج:
اجتماعی اصلاح۔
قانون سب کے لیے برابر ہو—چاہے وہ غریب ہو یا “بڑا آدمی”۔
کرپشن کو “مجبوری” نہ کہیں، یہ کھلی بددیانتی ہے۔
اور یاد رکھیں: رشوت لینے والا بھی مجرم ہے، دینے والا بھی “معصوم نہیں”۔
تیسرا علاج:
تعلیم۔
ایسی تعلیم جو صرف نوکری نہ دے، بلکہ انسان بنائے۔
ڈگری کے ساتھ ضمیر بھی دے، ورنہ پی ایچ ڈی چور ہی پیدا ہوں گے۔
آخر میں بس اتنا ہی کہنا ہے:
ہم نے اگر اب بھی قرآن و سنت کی طرف واپسی کو سنجیدہ نہ لیا تو پھر تیار رہیے—
زوال کو بھی ہم قومی روایت بنا لیں گے،
اور آنے والی نسلیں ہم پر ہنس کر کہیں گی:
“یہ وہ لوگ تھے جن کے پاس ہدایت بھی تھی، موقع بھی…
مگر انہوں نے بہانہ منتخب کیا!”
یہ کالم طنز ہے، مزاح ہے، قہقہہ ہے—
مگر اصل میں یہ ایک آئینہ ہے۔
اب فیصلہ آپ کا ہے:
آئینہ توڑنا ہے یا چہرہ درست کرنا ہے؟ ✍️
No comments:
Post a Comment