Saturday, 27 December 2025

بدعت، نفل، واجب اور فرض میں واضح فرق

 بدعت، نفل، سنۃ، واجب اور فرض میں واضح فرق

تحریر و تحقیق: پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں المعروف غلام مصطفٰی آرائیں، کراچی۔

قرآن و سنۃ سے ثابت صلوٰۃ قائم کرنے کے واضح حکم كو "نماز پڑھنے" میں بدلنے کا عمل بلاشبہ تمام دیگر بدعات سے بڑی اور بدترین بدعت ہے، جس پر کہ ہم سب بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث، سلفی، وہابی، سنی، تبلیغی، جماعتی، عطاری، منہاجی و طاہری وغیرہم مکمل طور پر متفق و متحد ہیں، آئیں تھوڑی دیر کےلیے ذرا اکابر پرستی و مقابر پرستی اور فرقہ پرستی کی خود غرضانہ و محدود سوچ و فکر سے آزاد ہو کر حقائق کی دنیا میں تحمل، خلوص اور سنجیدگی سے تلاش حق کی سچی لگن و جستجو کے ساتھ نظریں دوڑائیں اور غور و فکر کریں کہ کہیں ہم قرآن و سنۃ کے احکامات و ہدایات اور تعلیمات و فرمودات سے روگردانی و انحراف کر کے ملاؤں کے حکم و تعلیم کو دانستہ یا نا دانستہ، ارادی یا غیر ارادی طور پر "حکم اللہ" پر اولیت، فوقیت اور ترجیج دینے اور "حکم الله" کو ترک کر کے "حکم ملا" کی  تعمیل و اطاعت کرنے کے گناہ کبیرہ کے مرتکب تو نہیں ہو رہے؟ 

بلا شبہ دین و ایمان ہی ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے جس کی بہرصورت ہمیں حفاظت کرنی چاہیئے اور ان کےلیے خطرہ بننے والی ہر چیز سے بچنا، پرہیز و اجتناب برتنا چاہیئے یہ ایک دعوت غور و فکر ہے، صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کےلیے۔

ہمیں خوب اچھی طرح جان لینا اور یقین کر لینا چاہیئے کہ دین اسلام فقط قرآن وسنۃ پر مبنی ہے اور وہ مکمل نظام زندگی (ضابطہء حیات) ہے، قرآن و سنۃ میں جس عبادت کو ہر دن رات میں پانچ وقت قائم کرنے کو ہر مؤمن و مسلم پر فرض عین قرار دیا گیا ہے اس کا اصطلاحی نام قرآن و سنۃ ميں صلاة و صلوٰۃ مقرر ہے اور یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کہ ایک مالی عبادت کا نام زکوٰۃ اور ایک بدنی و جسمانی عبادت کا نام حج مقرر فرمایا گیا ہے، جس طرح زکوٰۃ کو اور حج کو کوئی بھی دوسرا نام دے کر انجام دینے سے ان فرائض کی ادائیگی نہیں ہوتی بعینہٖ اسی طرح صلاة و صلوٰۃ کو اسی نام سے قائم کرنا ضروری ہے۔ "نماز پڑھ" کر اس فرض عین کی ادائگی بھی نہیں ہوتی کیونکہ حکم صلوٰۃ قائم کرنے کا دیا گیا ہے، لفظ نماز، قرآن و سنت میں کہیں نہیں آیا ہے اور نہ ہی آئمہ محدثین، مجتہدین، ائمہ فقہاء نے کسی بھی مقام پر لفظ نماز پڑھنا ذکر و بیان یا اختیار کیا ہے۔

 اس کی دوسری دلیل یہ بھی ہے کہ لفظ نماز مجوسیوں کی مشرکانہ پوجا پاٹ کا نام ہے اور جضرت عیسیٰ علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کے جنم سے بھی کئی سو سال پہلے سے لے کر آج آخر دسمبر 2025ء تک  رائج ہے، مجوسی کم و بیش تین ہزار سال سے پانچ تا آٹھ وقتی "نماز پڑھتے" ہیں، اسی لیے قرآن و سنۃ میں کہیں بھی "نماز پڑھنے" کا حکم یا ذکر و بیان نہیں ملتا، بلکہ قرآن و سنۃ میں متعدد مقامات پر یہود و نصارٰی اور صابئین کی موافقت، مشابہت اور مطابقت اختیار کرنے کی سخت ممانعت ثابت ہے۔                                          یاد رہے کہ صلاة الليل جسے صلاة التہجد بھی کہا جاتا ہے وہ فقط رسول الله صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم پر فرض تھی جبکہ امت کےلیے سنت ہے، باقی اس کے فضائل، فیوض و برکات بے انتہاء ہیں اگرچہ کہ فرض صلاة قائم کرنے کا اجر و ثواب بہرحال نفل صلاة قائم کرنے سے ستر گنا زیادہ ہے!

 مؤمنون و مؤمنات اور مسلمون و مسلمات پر پر جن صلوۃ خمسہ کو قائم کرنا فرض عین قرار دیا گیا ہے ان میں صلاة الفجر، صلاة الظہر، صلاة العصر، صلاة المغرب اور صلاة العشاء، صلاة الجمعۃ شامل ہیں جبکہ أن کے علاوہ جنازه، عيد الفطر و عيد الاضحٰی کی صلوة قائم کرنا واجب ہے، صلاة الحاجۃ و صلاة التوبہ اور صلاة الاستسقاء، صلاة الكسوف، صلوة الخسوف، صلاة الاستخارة، صلاة التسبيح وغیرہم سب سنۃ ہیں.ایک اور بات نہایت اہمیت کی حامل ہے اور وہ یہ کہ صلاۃ و صلوٰۃ ايسی عبادات ہیں جو پڑھنے کی چیز یا عمل ہر گز نہیں ہیں بلکہ قرآن مجید میں کم و بیش یا پورے سات سو مرتبہ صلوٰۃ قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہیں ایک جگہ بھی پڑھنے پڑھانے کا کوئی ذکر نہیں ملتا اور اسی طرح سینکڑوں مقامات پر احادیث رسول صلی اللّٰہ عليہ و آلہ و سلم سے بھی صلوٰۃ قائم کرنے کا حکم ہی بخوبی ثابت ہے، نماز پڑھنے کا نہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین، تابعین و تبع تابعین، سلف صالحین، ائمہء فقہاء اربعہ اور اقوال محدثین و مجتہدین و محقیقین سے بھی صلاة قائم کرنا اور اسی کی تعلیم دینا ثابت ہے، ان تمام اسلاف میں سے کسی ایک نے بھی اور بھولے سے بھی کبھی نماز پڑھی نہ ہی لفظ نماز کبھی ان کی زبان سے ادا ہوا اور نہ ہی انہوں نے کبھی کسی شخص کو نماز پڑھنے کی تعلیم و ترغیب دی بلکہ وہ سب کے سب باقاعدگی سے، پابندی کے ساتھ صلوٰۃ خمسہ کی اقامت کو یقینی بناتے اور لازم پکڑتے تھے لہٰذا ہمیں بھی صلاة کو نماز نہیں کہنا چاہیئے اسی طرح قائم کرنے کو پڑھنا بھی نہیں کہنا چاہیئے کیونکہ ایسا کرنے سے قرآن و سنۃ سے روگردانی و انحراف لازم آتا ہے اور دوسری وجہ یہ کہ صلاۃ و صلوٰۃ كو نماز پڑھنا کہنے، بولنے اور سمجھنے سے مجوسیوں کے ساتھ موافقت، مشابہت اور مطابقت بھی لازم آتی ہے جس سے گریز و اجتناب کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے اور یہ ممانعت قرآن و سنۃ سے بخوبی ثابت ہے۔

بلا شک و شبہ ہم سب قران و سنہ اور أسوة حسنۃ کی تعمیل و اطاعت اور اتباع و پیروی کے مکلف (پابند) بنائے گئے ہیں، سوچنا چاہیئے کہ کیا ہم اللہ تعالٰی کے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و بارک و سلم پر نازل کردہ دین پر قائم ہیں یا اس سے انحراف و روگردانی کرتے ہوئے اسے پس پشت ڈال کر اکابر پرست و مقابر پرست اور فرقہ پرست بن گئے یا بن چکے ہیں؟ اللہ تعالٰی اپنے خاص لطف و کرم اور رحمۃ سے ہر کلمہ گو کو فرقہ پرستی، اکابر پرستی و مقابر پرستی کو ترک کر کے قرآن و سنۃ کے احکامات، تعلیمات، ہدایات اور فرمودات کی تکمیل و تعمیل، اطاعت و اتباع اور کامل پیروی کرنے والا بنائے، گمراہی سے بچائے، صراط مستقیم اور اسوۃ حسنہ پر قائم رکھے، اللہم آمین ثم آمین برحمتک یا ارحم الراحمین بحق رحمۃ للعالمین صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و بارک و سلم

بعثت نبوی ﷺ اور نزول اسلام کے بنیادی مقاصد، ایک تحقیقی جائزہ

 بعثت نبوی ﷺ اور نزول اسلام کے بنیادی مقاصد: ایک تحقیقی جائزہ

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں المعروف غلام مصطفٰی آرائیں، کراچی

انسانی تاریخ کا سب سے عظیم اور انقلاب آفرین واقعہ بعثت نبوی ﷺ ہے جس نے نہ صرف جزیرۃ العرب کی تقدیر بدلی بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا ابدی نظام فراہم کیا۔ نزول اسلام کا اصل مقصد محض ایک مذہبی عقیدے کا ظہور نہیں تھا، بلکہ یہ انسانیت کی تکمیل، اجتماعی اصلاح اور ربانی ہدایت کا جامع منصوبہ تھا۔ ذیل میں بعثت نبوی ﷺ کے پانچ اہم مقاصد پر روشنی ڈالی گئی ہے:

1. توحید کی بالادستی اور شرک کے اندھیروں کا خاتمہ

نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت کا اولین اور بنیادی مقصد توحید کی دعوت تھی۔ آپ ﷺ ایک ایسے معاشرے میں مبعوث ہوئے جہاں بت پرستی، نجومیوں اور جھوٹے خداؤں کا دور دورہ تھا۔ انسانیت حقیقی خالق سے کٹ چکی تھی اور خود ساختہ معبودوں کے سامنے سجدہ ریز تھی۔ اسلام نے نہ صرف "لا الہ الا اللہ" کا اعلان کیا بلکہ عقل و فکر کو بت پرستی کی زنجیروں سے آزاد کیا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو) اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو" (النحل: 36)۔ یہ توحید کا تصور محض نظریاتی نہ تھا بلکہ عملی زندگی کے ہر شعبے میں خدا کی حاکمیت کا قیام تھا۔

2. اخلاقی انقلاب اور انسانیت کی تعمیر

بعثت نبوی ﷺ کا دوسرا اہم مقصد اخلاقیات کی بلندی اور انسان کی باطنی اصلاح تھا۔ رسول اللہ ﷺ خود اخلاق عظمیٰ کا مجسم نمونہ تھے اور آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد اخلاقیات کی تکمیل قرار دیا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "میں مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں"۔ جاہلیت کے دور میں ظلم، لاقانونیت، عورت کی تحقیر، شراب نوشی اور قتل و غارت گری عام تھی۔ اسلام نے ان تمام برائیوں کے خاتمے کے لیے ایک جامع اخلاقی نظام دیا جس میں انصاف، رحم، صداقت، امانت اور اخوت کے اصول مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔

3. علم اور عقل کی آزادی

اسلام کی آمد تاریک جاہلیت کے خلاف علم کی تحریک تھی۔ پہلی وحی کا آغاز ہی "پڑھ" کے حکم سے ہوا، جو علم کے حصول کی اہمیت کی طرف واضح اشارہ تھا۔ اسلام نے تخیلاتی اور وہمی عقائد کے بجائے عقل و استدلال کو پروان چڑھایا۔ قرآن مجید بار بار غور و فکر کی دعوت دیتا ہے اور کائنات کی نشانیوں میں تدبر کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ علمی انقلاب صرف مذہبی علوم تک محدود نہ تھا بلکہ اس نے سائنس، طب، فلکیات اور ریاضی جیسے شعبوں میں بھی حیرت انگیز ترقی کا راستہ ہموار کیا۔

4. اجتماعی انصاف اور معاشی توازن

بعثت نبوی ﷺ نے معاشرتی اور معاشی انصاف کے قیام کے لیے بنیادی اصلاحات متعارف کرائیں۔ اسلام نے غلامی کے خاتمے کے لیے مرحلہ وار اقدامات کیے، عورتوں کے حقوق متعین کیے، وراثت کے منصفانہ قوانین بنائے، اور زکوٰۃ و صدقات کے ذریعے معاشرے سے غربت کے خاتمے کا نظام قائم کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے"۔ یہ اجتماعی انصاف کا تصور اسلام کے مرکزی مقاصد میں سے ہے جس کا تعلق فرد کی نجات کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کی فلاح و بہبود سے ہے۔

5. عالمگیر ہدایت اور رحمت للعالمین کا پیغام

نبی کریم ﷺ کو صرف عربوں یا کسی خاص قوم کے لیے نہیں بلکہ ساری انسانیت کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ قرآن میں ارشاد ہے: "اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے" (الانبیاء: 107)۔ یہ عالمگیریت اسلام کے مقاصد کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔ اسلام کا پیغام نسلی، لسانی اور جغرافیائی تعصبات سے بالاتر ہے اور پوری انسانیت کو ایک خدا کی عبادت اور بنی نوع انسان کے طور پر باہمی اخوت و مساوات کی دعوت دیتا ہے۔

نتیجہ

بعثت نبوی ﷺ کے مقاصد کثیر الجہت اور ہمہ گیر ہیں جن میں فرد کی اصلاح سے لے کر معاشرے کی تعمیر، اور عقیدے کی درستگی سے لے کر تہذیب کی تشکیل شامل ہے۔ یہ محض چند رسمی عبادات کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں ہدایت کا ایک مکمل نظام تھا۔ آج بھی جب انسانیت مادہ پرستی، اخلاقی بحران اور روحانی پستی کا شکار ہے، بعثت نبوی ﷺ کے انہی مقاصد کی طرف رجوع ہی اس کے مسائل کا حقیقی حل پیش کر سکتا ہے۔ اسلام کا پیغام زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے اور ہر دور کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بشرطیکہ اسے اس کی صحیح روح میں سمجھا اور اپنایا جائے۔

Wednesday, 22 March 2023

مصارف زکوٰۃ: فریضہ، نظام یا محض رسمی کارروائی؟ (قسط اوّل)

مصارفِ زکوٰۃ: فریضہ، نظام یا محض رسمی کارروائی؟

(قسط اوّل)

از قلم: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

زکوٰۃ اسلام کا بنیادی ستون ہے، مگر ہمارے ہاں یہی ستون سب سے زیادہ کھوکھلا کر دیا گیا ہے۔ ہم زکوٰۃ دیتے ضرور ہیں، مگر قرآن کے مطابق نہیں۔ کہیں بینکوں کی جبری کٹوتی، کہیں نمائشی تقسیم، اور کہیں فائلوں میں دفن رقوم—یہ سب کچھ ہے، مگر وہ نظام نہیں جو قرآن چاہتا ہے۔

قرآن اعلان کرتا ہے:

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ… فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ (التوبہ: 60)

یہ آیت صاف بتاتی ہے کہ زکوٰۃ کوئی اختیاری نیکی نہیں، بلکہ فرضِ قطعی ہے، اور اس کے مصارف بھی اللہ نے خود مقرر کر دیے ہیں۔ فقیر، مسکین، عاملین، مؤلّفۃ القلوب، غلاموں کی آزادی، مقروض، فی سبیل اللہ اور مسافر—بس یہی آٹھ راستے ہیں۔

فقہاءِ احناف کے مطابق ان میں سے کسی ایک مصرف میں زکوٰۃ دے دی جائے تو فرض ادا ہو جاتا ہے۔ یہ شریعت کی سہولت ہے، مگر ہم نے اسی سہولت کو لاپرواہی میں بدل دیا۔

سب سے پہلا حق فقیر اور مسکین کا ہے، مگر یہی سب سے زیادہ نظر انداز ہیں۔ ہمارے شہروں میں بھوک خاموش ہے، مگر زکوٰۃ شور کے ساتھ غائب ہو جاتی ہے۔

عاملینِ زکوٰۃ کو زکوٰۃ سے اجرت دینا قرآن کی اجازت ہے، مگر آج یہی اجازت بدعنوانی کا لائسنس بن چکی ہے۔ زکوٰۃ جمع بھی زبردستی، خرچ بھی مرضی سے—یہ شریعت نہیں، استحصال ہے۔

جب ریاست زکوٰۃ کو نہ شرعی طریقے سے وصول کرے اور نہ مستحق تک پہنچائے تو فقہ واضح ہے: صاحبِ نصاب خود زکوٰۃ تقسیم کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ہوش مند لوگ سرکاری نظام سے کنارہ کش ہیں۔

یہاں بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حرمت یاد رکھنا ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے زکوٰۃ کو لوگوں کے مال کا میل کچیل قرار دیا اور اپنی ذات و خاندان کو اس سے الگ رکھا۔ سوال یہ ہے: کیا ہم زکوٰۃ کو واقعی پاک فریضہ سمجھتے بھی ہیں؟

اصل سوال یہی ہے:

ہم زکوٰۃ ادا کر رہے ہیں،

یا صرف فرض اتار رہے ہیں؟

Friday, 10 March 2023

ہمارے جمیع مسائل و مصائب کا حل اسلامی آئین (قرآن و سنۃ) کے نفاذ میں ہے

 ہمارے جمیع مسائل و مصائب کا حل اسلامی آئین (قرآن و سنۃ) کے نفاذ میں ہے


تحریر: پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں بانی صدر، تحریک نفاذ آئین، قرآن س سنۃ پاکستان


عنوان بالا پر چند قابل عمل و اہم تجاویز پیش خدمت ہیں:

1) پاکستان کے متفقہ اسلامی آئین کے تمام تر آرٹیکلز، سب آرٹیکلز پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے عملاً قرآن و سنت کے احکامات کے مؤثر نفاذ و غلبے اور بالادستی کو یقینی بنایا جائے. 2) قرآن و سنت کے احکامات کے منافی بعض آرٹیکلز کو ترامیم کے ذریعے ممتاز علماء کرام کی مشاورت سے قرآن و سنت کے مطابق بنایا جائے۔ 3) سرمایہ دارانہ، استیصالی، ظالمانہ و غیر منصفانہ سودی نظام معیشت و معاشرت و سیاست کو جڑ سے ختم کیا جائے۔ 4) کفایت شعاری کو ہر سطح پر اختیار کیا جائے۔ 5) تعلیم و صحت کے بجٹ کو دو گنا کیا جائے۔ 6) دفاعی بجت سے غیر جنگی اخراجات میں پچاس فیصد کٹوتی کی جائے. 7) ججز و جنرلز سمیت تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و الاؤنسز، مراعات و سہولیات میں یکسانیت پیدا کی جائے۔ 8)  ہر سرکاری ملازم کو اس کے گریڈ کے مطابق ریٹائرمنٹ پر گھر بنانے کےلیے مقررہ سائز کے پلاٹس دیئے جائیں یا ججز و جنرلز سمیت کسی کو بھی کوئی پلاٹ نہ دیا جائے۔  9) قابل کاشت زرعی و زرخیز زمینوں کو زیر تعمیر ڈی ایچ ایز سمیت تمام ہاؤسنگ پروجیکٹس سے واگزار کروا کے کاشتکاروں کو دے دی جائے۔ 10) سرکاری زمینیں جن کو قابل کاشت بنایا جا سکتا ہو، وہ سولہ ایکڑ فی خاندان بے زمین کسانوں، ہاریوں، مزارعوں کو مفت الاٹ کر دی جائیں۔ 11) انہیں قابل کاشت بنانے کےلیے سولہ تا بتیس لاکھ روپے، قرض حسنہ بیس سالہ کےلیے دیا جائے جو دس سال گزرنے کے بعد اگلے دس سالوں کے دوران مساوی ششماہی یا سالانہ اقساط میں واپس لیا جائے۔ 12) قابل کاشت و زیر کاشت زرعی اراضی پر ہاؤسنگ پروجیکٹس بنانے پر مستقل پابندی عائد کی جائے. 13) ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس، گورنر ہاؤسز، چیف منسٹر ہاؤسز، چیف سیکریٹری ہاؤسز، آئی جی ہاؤسز، کمشنر ہاؤسز، چیف آف آرمی سٹاف ہاؤس، کور کمانڈرز ہاؤسز کے بجٹ میں پچاس فیصد کٹوتی کی جائے۔ 14) تمام ہاؤسز کو فروخت کر دیا جائے، ان سب کےلیے، شہروں سے باہر اور چھاؤنیوں میں، ایک کینال دو کینال، تین اور چار کینال پر مناسب و موزوں نئے ہاؤسز ازسر نو تعمیر کر دییے جائیں۔ 15) 18تا 45 سال تک کی عمر کے غریب و مفلس اور نادار لوگوں کو مختلف فنون بالکل مفت سکھا کر اپنے اپنے فن کے مطابق ذاتی کام کاروبار شروع کرنے کےلیے پانچ تا دس سال کےلیے قرض حسنہ دیا جائے، جس کو وہ اپنے نئے شروع کیے ہوئے کام کاروبار کی بچت سے سہ ماہی یا ششماہی اقساط میں واپس کرنے کے پابند ہوں۔ 16) پانچ تا سولہ سال کی عمر کے تمام پاکستانی بچوں، طلباء و طالبات کی مفت،۔ معیاری، بامقصد تعلیم و تربیت کو بہر صورت یقینی بنایا جائے. 17) سرکاری سکولوں کو اپ گریڈ کر کے پہلی تا بارہویں جماعت، ہائر سیکنڈری سکول بنایا جائے ان میں معیار تعلیم و تربیت اور جمیع سہولیات کو بہترین پرائیویٹ سکول کے برابر بلکہ ان سے بہتر بنائے جانے کو یقینی بنایا جائے. 18) روز مرہ استعمال کی ضروری اشیاء و اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں عام آدمی کےلیے پچاس فیصد تک کمی کو بہر صورت یقینی بنائی جائے. 19) غیر ضروری یعنی اشیاء تعیش کی درآمدات کی حوصلہ شکنی کےلیے ان پر کسٹم ڈیوٹی بڑھائی جائے اور پاکستانی اناج و غلے، تازہ پھلوں سمیت دیگر مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کی ہر ممکن کوشش کی جائے، برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کےلیے انہیں وسائل کے مطابق مناسب مراعات دی جائیں۔ 20) نظام عدل و انصاف میں با مقصد و نتیجہ خیز اصلاحات کی جائیں، غریب و امیر طاقتور و کمزور ہر فرد کو بلاتخصیص و امتیاز اور بغیر کسی تفریق کے فوری و مفت اور یکساں و مساوی انصاف کی آسان ترین فراہمی کو یقینی بنایا جائے، بغرض مذکور ہر شہر و قصبے، گاؤں و چک اور آبادی و علاقے میں قاضی عدالتیں قائم کی جائیں۔ 21) بلدیاتی حکومتوں کو باقاعدہ و منظم، مؤثر، فعال، بامقصد، نتیجہ خیز و فعال اور با اختیار بنایا جائے. 22) تمام تر قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق اور ان کے تابع بنایا جائے اور اسلامی حدود کو عملاً نافذ العمل بنایا جائے. 23) تمام مساجد و مدارس دینیہ عربیہ کو سرکاری تحویل میں لیا جائے اور ان میں قرآن و سنت و اسوۃ حسنۃ، تاریخ اسلام، فقہ سمیت تمام علوم دینیہ متداولہ کی یکساں تعلیم دی جائے فرقہ واریت کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جائے۔ 24) ائمہ مساجد، خطباء و مدرسین کو ان کی تعلیمی اہلیت و ذمہ داریوں کی مناسبت سے، قومی خزانے سے تنخواہیں ادا کی جائیں۔ 25) مساجد و مدارس سے فرقہ وارانہ چھاپ بالکل ختم کر دی جائے۔ فرقہ وارانہ مذہبی شناختی علامات کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے۔  26) سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی بہترین دیکھ بھال، نگہداشت، تیمار داری، مفت علاج و معالجے، ادویات کی مفت فراہمی سمیت دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کو بہتر و یقینی بنایا جائے۔ 27) ہر سطح پر اراکین پارلیمنٹ، وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، ججز، جنرلز، سول و ملٹری بیوروکریٹس کےلیے مفت سفری سہولیات، مفت پیٹرول، مفت بجلی سمیت جمیع مراعات و اخراجات کو نصف کر دیا جائے۔

28) آئین کی تشریح اور سیاسی نوعیت کے تنازعات کے حل کا حق پارلیمنٹ کو یا سپریم کورٹ کے تمام تر ججز پر مشتمل فل بنچ کو تفویض کرنے کےلیے متعلقہ رولز، قوانین میں ضروری ترامیم کی جائیں۔ 29) ہر نوعیت کی کرپشن، جعل سازی، ناقص مصنوعات، ملاوٹ، ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، رشوت ستانی، کمیشن، کک بیکس کو سنگین جرم قرار دیا جائے اور ان الزامات پر مبنی کیسز کا فیصلہ 90 روز میں سنانے کو لازم قرار دینے کےلیے ضروری و درکار قانون سازی کی جائے۔ 30) ہتک عزت defamation قوانین کو مغربی و یورپیئن ممالک کی طرز پر استوار کیا جائے تاکہ بد نیتی پر مبنی جھوٹے، من گھڑت، بے بنیاد الزام تراشی و بہتان طرازی کی روش کا معاشرے سے قلع قمع کیا جا سکے۔ قوی امید ہے کہ ان تیس تجاویز پر مخلصانہ و سنجیدہ عملدرآمد سے ملک و معاشرے میں اصلاحات کا اچھا آغاز کیا جا سکتا ہے۔

معاشی استحکام، سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں

معاشی استحکام، سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں، بانی صدر، تحریک نفاذ آئین، قرآن و سنت پاکستان


اس حقیقت سے کسی طور بھی انحراف نہیں کیا جا سکتا کہ اس وقت پاکستان بہت بدترین معاشی بحران کا شکار ہے، مفلس و نادار، غریب و محنت کش، عام پاکستانیوں کی بڑی اکثریت دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنے سے بھی عاری ہے، مہنگائی جو پہلے ہی بہت زیادہ ہے روز مرہ استعمال کی اشیاء خورد و نوش عام پاکستانیوں کی پہنچ سے باہر ہیں اس پر مستزاد یہ کہ منی بجٹ کے ذریعے مہنگائی میں مزید ہوشربا اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے، درپیش صورتحال کا ایمانداری و دیانتداری کے ساتھ جائزہ لینا ز بس ضروری ہے کہ اس غربت و افلاس، مہنگائی و روز گاری کے اصل اسباب و عوامل اور محرکات کیا ہیں؟

عوام کی بڑی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ موجودہ مشکل ترین معاشی صورتحال سیاست میں جنرلز و ججز کی غیر آئینی و غیر قانونی، مجرمانہ مداخلت کا فطری و لازمی نتیجہ ہے چنانچہ جن جنرلز نے دفاعی بجٹ اور ففتھ جنریشن وار کے نام پر قومی خزانے سے ہزارہا ارب روپے سالانہ لے کر پروجیکٹ عمران خائن پر خرچ کر دیئے، (PML (N اور PPP وغیرہما، قومی سیاسی و دینی جماعتوں اور قائدین کے خلاف بے بنیاد، من گھڑت و لغو، جھوٹے پروپگنڈے، کردار کشی کی مہمات پر خرچ کروائے اور عدلیہ کے بعض ججز کو استعمال کر کے ان کے خلاف بد نیتی پر مبنی جھوٹے، بے بنیاد الزامات لگوا کر انہیں نا اہل کروایا گیا، قید و جرمانے کی غلط و ناجائز سزائیں دلوائی گئیں، RTS بٹھا کر دھونس و دھمکی اور خوف کے ذریعے PTI مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بالجبر و بلیک میلنگ کے ذریعے PTI میں شامل کروایا گیا، بے انتہاء پری پول و پوسٹ پول رگنگ و دھاندلی کروائی گئی، تاکہ جنرلز و ججز کے مشترکہ پروجیکٹ عمران خائن کو قوم و ملک پر زبردستی مسلط کیا جا سکے، قومی خزانے سے کھربوں روپے خرچ کر کے قوم کے اکثر لوگوں کو بدتمیزی کرنے، مغلظات بکنے، بداخلاقی و بدتہذیبی، آئین شکنی، الزام تراشی و بہتان طرازی کے رویوں کا عادی بنایا گیا، ان سارے کرتوتوں کے ذمہ دار تمام عناصر بلا شبہ قومی مجرم ہیں، ان سب کے خلاف آئین پاکستان کے آرٹیکل 6 اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت سنگین غداری و دیگر جرائم کے مقدمات درج کر کے ان سب کو بلاتاخیر گرفتار کر کے متعلقہ عدالتوں سے قرار واقعی و عبرتناک سزائیں دلوانا، ان سب کے اثاثوں کی چھان بین کرنا اور ناجائز و لوٹی ہوئی دولت سے بنائے گئے اثاثوں کو بحق سرکار ضبط کرنا، نیز آئین، قرآن و سنت کے مکمل و مؤثر نفاذ و بالادستی کو یقینی بنانا اور آئندہ جنرلز و ججز کو ایسے ناکام و تباہ کن تجربے و پروجیکٹس شروع کرنے سے روکنا نہایت ضروری ہے، بصورت دیگر ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کی کوئی بھی کوشش کامیاب ہونا بہت مشکل بلکہ نا ممکن ہے۔

Monday, 18 July 2022

قرآن و سنت کے احکامات کی اطاعت ہی اصل عبادت ہے

 *قرآن و سنت کے احکامات کی اطاعت ہی اصل عبادت ہے*


تحریر: پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں، بانی صدر، تحریک نفاذ آئین، قرآن و سنت پاکستان

دین اسلام میں (جو کہ قرآن و سنت پر مبنی ہے) اللہ تعالٰی و رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے احکامات کی اطاعت و اتباع اور تعمیل و تکمیل کو عبادت، جبکہ اللہ تعالٰی کے نازل کردہ احکامات کی نافرمانی و سرکشی انحراف و روگردانی کو برائی، بدی اور معصیت و گناہ قرار دیا گیا ہے، ان حقائق کی جانب ہر کلمہ گو انسان کو پوری طرح متوجہ ہو کر سنجیدگی و اخلاص کے ساتھ غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ملک و معاشرے میں اعمال صالحہ یعنی قرآن و سنت کے منزل من اللہ احکامات و ہدایات، تعلیمات و فرمودات اور پیغامات سے انحراف و روگردانی، نافرمانی و حکم عدولی اور سرکشی کرنے، اللہ تعالٰی کے نازل کردہ احکامات پر انسانی و بشری افکار و نظریات کو ترجیح و فوقیت اور اولیت دینے، فرقہ پرستی و اکابر پرستی کو عملاً اختیار کرنے کے عمومی روش و رویے اور رجحانات آخر کیسے پروان چڑھے ہیں؟ اس کے اسباب و عوامل اور محرکات کیا ہیں؟ 

آلا ما شاء اللہ، ملک و معاشرے اور قوم کے اکثرو بیشتر افراد میں اس ناسور نے کب سے اور کس طرح جڑیں پکڑی ہیں؟  بالعموم یہ یہ روش و رویے اب سرطان کے مرض کی طرح ملک و معاشرے بلکہ پوری امت مسلمہ میں کورونا و طاعون کی وبا کی شکل اختیار کر کے پوری طرح پھیل چکے ہیں، اب بھی اگر ہم نے ان عمومی رویوں کے پھیلاؤ و فروغ کو روکنے کی غرض سے ان کے بنیادی و کلیدی اور اصل اسباب و عوامل، وجوہات و محرکات پر غور و فکر نہ کیا تو یہ خوفناک و خطرناک ترین رویے اور رجحانات ہمیں دنیا و آخرت میں مزید تباہ و برباد، ذلیل و رسوا کر کے معاذ اللہ جہنم کا ایندھن بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑیں گےاور ان کے سدباب و ازالے اور مکمل تدارک و علاج کے لیے پہلے متعلقہ امراض کی تشخیص ضروری ہے اور اس کے بعد ہی اس کا مؤثر علاج و معالجہ ممکن ہے پھر اس سے بچنے کی تدابیر و احتیاط اور پرہیز اختیار کی جا سکتی ہے۔ ہمیں یہ سوچنے کی بھی ضرورت ہے کہ اصلاح احوال کے لیے کیا کیا اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں؟

اس عاجز و ناقص بندہ ناچیز کی دانست میں ان روش و ریوں، رجحانات و برائیوں اور خرابیوں کو پروان چڑھانے میں  مندرجہ ذیل عناصر و شخصیات اور طبقات کا بڑا اہم کردار ہے: ہمارے مفاد پرست و خود غرض، قائدین، فرقہ ساز، فرقہ بند، فرقہ پرست نام نہاد و خود ساختہ مذہبی و دینی پیشوائی کے جھوٹے دعویدار مولوی حضرات، سیاسی و سماجی رہنما و زعماء، پیران کرام و شیخان عظام اور مغرب و یورپ سے مرعوب و متاثر، ذہنی غلامی کے مرض میں مبتلا حکمران و مقتدر اور با اثر طبقات کی عمومی غفلت و لاپرواہی، غیر سنجیدگی و غیر ذمہ داری، عاقبت نااندیشی، فرض ناشناسی، بد اعمالی و بد کرداری کیونکہ لوگ انہی کی رہنمائی میں چلنے کے عادی ہوتے ہیں اور وہ انہیں کو اپنے لیے نمونہء عمل تصور کرتے ہیں اور ان سے متاثر ہوتے ہیں اور انہی کے پیچھے چلتے ہیں۔

  ان سب ہی نے اپنے اپنے حلقہء اثر کے لوگوں کو دانستہ و نادانستہ طور پر قرآن و سنت کا صحیح فہم پہنچانے اور ان کی تعمیل و پیروی اور اطاعت و اتباع کی راہ سے ہٹانے، صراط مستقیم سے بھٹکانے اور قرآن و سنت کے منزل من الله احکامات و ہدایات، تعلیمات و فرمودات اور پیغامات کی صدق نیت اور اخلاص قلب سے اطاعت و اتباع اور تعمیل و پیروی کیی راہ سے ہٹا کر اپنے اپنے محدود و ناجائز، محدود و ذاتی مخصوص اغراض و مقاصد کے حصول و تحفظ کی غرض سے اپنے اپنے من پسند و من گھڑت، بے بنیاد و خود ساختہ، فرقہ وارانہ، سیاسی و گروہی اور لسانی عصبتوں، بے بنیاد اور قرآن و سنت کے احکامات کے منافی  افکار و نظریات کی پیروی کرنے پر مائل و آمادہ کرنے کےلیے سارے جتن اور حیلے و حربے استعمال کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی، حتیٰ کہ اختیارات، اثر و رسوخ، منبر و محراب، مساجد و مدارس اور اپنی اپنی سیاسی، سماجی، دینی و مذہبی تنظیمات کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے ان با اثر طبقات کے اسی طرز فکر و عمل کو اختیار کرنے کے نتیجے میں بتدریج معاشرے میں بے راہ روی، گمراہی، جرائم، انتشار و افتراق، طبقاتی تقسیم، تباہی و بربادی، تنزلی، انحطاط، پستی آتی رہی، نتیجتاً ہر سطح پر ذلت و رسوائی، تباہی و بربادی، انتشار و افتراق، ذلت و رسوائی مسلم معاشرے اور امت مسلمہ کا مقدر بنتی چلی گئی اور اب تو حالت وہ بن چکی ہے کہ علماء دین بھی دین کی سربلندی کے بجائے مصلحت اندیشی، مفاد پرستی اور خود غرضی کے باعث حق بات بیان نہیں کر پاتے امت کا شیرازہ بکھیر دیا گیا ہے، امداد باہمی، اخوت اسلامی، باہمی خیرخواہی کا کہیں کوئی نشان تک نہیں ملتا۔ وہ دین حق "الاسلام" جو قرآن و سنت پر مبنی ہے، کامل و اکمل اور ہر لحاظ سے مکمل و جامع ضابطہ حیات، دستور زندگی ہے، رسول الله صلى الله عليه و آله و سلم پر الله رب العالمين کا نازل کیا ہوا ہے اس کا عملی نفاذ ناپید ہو چکا ہے۔ آلا ماشاء الله لوگوں کی اکثریت مسلم (مسلمان) ہونے پر فخر کرنے کے بجائے، اپنے اپنے فرقوں پر نازاں ہیں اسی پر فخر کرنے لگے ہیں، اپنے فرقے کے پیرو کاروں کے سوا باقی سارے کلمہ گو لوگوں کو فاسق و فاجر، بدعتی، کافر، مشرک اور مرتد اور واجب القتل تک قرار دینے پر فخر کرتے نظر آتے ہیں، مقاصد دین اور اصول الدین کو پس پشت ڈال کر محض اپنے فرقے کے نام نہاد و خود ساختہ اکابرین کے فکر و فلسفے اور من گھڑت و بے بنیاد اور قرآن و سنت کے منافی افکار کو ارادی و غیر ارادی طور پر الله تعالٰی کے نازل کردہ دین (قرآن و سنت) پر اولیت، ترجیح و فوقیت دینے میں ذرا بھی تامل نہیں کرتے نہ ہی کوئی عار و جھجک محسوس کرتے ہیں، حالانکہ قرآن و سنت کی نصوص سے عبارة النص و اشارة النص کے ذریعے فرقہ بندی، فرقہ سازی، فرقہ پرستی، اکابر پرستی و شخصیت پرستی کی سخت ترین ممانعت ثابت ہے اور اس حرام عمل کا شرک کے مصداق گناہ کبیرہ ہونا اور اس پر جہنم وعید کا موجود ہونا سب پر واضح ہے اور کسی فرقے کو جائز و درست ماننے، قبول کرنے، تسلیم کرنے، جائز سمجھنے، اس کے ساتھ وابستگی اختیار کرنے والے کو جہنمی قرار دیا گیا ہے اس حقیقت سے بھی سب لوگ آگاہ ہیں مگر اس سب کے باوجود فرقہ پرستی سے تائب ہو کر قرآن و سنت کی تعمیل و پیروی، اطاعت و اتباع پر اکتفاء کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے ہیں، جبکہ ہمارے جمیع مسائل و مصائب کا واحد حل و علاج ہی یہ ہے کہ منہاج نبوی اور منہاج خلفاء راشدین کے مطابق قرآن و سنت پر مبنی نظام مصطفوی کے مکمل نفاذ و غلبے اور بالادستی کو بہرحال یقینی بنانے کےلیے جہد مسلسل کی جائے۔

اللہ تعالٰی قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے : مفہوم: "(اے محبوب صلّی اللہ علیہ و آلہٖ سلّم) آپ فرما دیجیئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں، اور تمہارا کنبہ، اور تمہارے وہ مال جو تم نے کما رکھے ہیں اور تمہاری وہ تجارت جس کے ماند پڑجانے کا تمہیں اندیشہ لگا رہتا ہے، اور تمہارے وہ گھر جو تمہیں پسند ہیں (اگر یہ سب کچھ) تمہیں زیادہ پیارا ہو اللہ اور اس کے رسول(صلّی اللہ علیہ وسلّم) سے، اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے، تو تم انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ لے آئے اپنا حکم اور اللہ نورِ ہدایت سے بدکار لوگوں کو نہیں نوازتا "(سورۃ التوبہ، اٰیۃ 24)، مفہوم: "اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو، اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی اور تم اس کی نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی ہوگئے، اور تم (دوزخ کی) آگ کے گڑھے کے کنارے پر (پہنچ چکے) تھے پھر اس نے تمہیں اس گڑھے سے بچا لیا، یوں ہی اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ" (سورۃ آلِ عمران، آیۃ نمبر103)، مفہوم: "اور جو رسول اللّٰہ (صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم) کی مخالفت کرے، اس کے بعد کہ اس پر ہدایت واضح ہو چکی اور وہ اہل ایمان (مومنون و مسلمون یعنی جماعۃِ صحابہءِ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین) کے راستے کے سوا کوئی بھی دوسرا راستہ اختیار کرے تو ہم بھی اس کو اسی طرف پھرا دیتے ہیں جس طرف اس نے خود رخ اختیار کر رکھا ہو اور ہم اسے جہنم میں پہنچا دیں گے اور وہ لوٹنے کی بہت بری جگہ ہے" (سورۃ النّساء اٰیۃ 115)،  مفہوم: "بیشک دین (حق) اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے" (سورۃ آل عمران، آیۃ 19)

اللہ تعالٰی کے نازل کردہ دین اسلام کے احکامات کی تعمیل و اطاعت کا بالعموم ہر انسان جبکہ بالخصوص ہر کلمہ گو مکلف ہے، ہم ہزار احکامات کی نافرمانی کرتے ہیں اور پھر محض اقامت صلوة خمسہ، اہتمام صیام رمضان المبارک، زکوۃ اور حج کو ہی عبادت سمجھتے ہیں جو کہ درست بات نہیں ہے سچ بولنا، جھوٹ نہ بولنا، خرید و فروخت میں پورا ناپنا اور تولنا، ملاوٹ اور جعل سازی نہ کرنا، سچی گواہی دینا، صلہء رحمی، پڑوسیوں اور قرابت داروں کی خیر خبر لیتے رہنا، حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کا بھی پورا خیال رکھنا، طمع، لالچ، بغض، عناد، حسد، کینہ پروری، عداوت، غیبت، بد عہدی سے بچنا اور اسی طرح بے شمار دیگر احکامات بھی واجب الاطاعت ہیں، دین اسلام میں (جو کہ قرآن و سنت پر مبنی ہے) اللہ تعالٰی و رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے احکامات کی اطاعت و اتباع اور تعمیل و تکمیل کو عبادت، جبکہ اللہ تعالٰی کے نازل کردہ احکامات کی نافرمانی و سرکشی انحراف و روگردانی کو برائی، بدی اور معصیت و گناہ قرار دیا گیا ہے

 الله رب العالمين ہر کلمہ گو کو ہدایت کاملہ عطا و نصیب فرمائے اور صراط مستقیم پر چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین برحمتک یا ارحم الراحمین بحق رحمت للعالمین صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم۔

Monday, 17 May 2021

"دین اسلام مکمل طور پر الله تعالٰی کا نازل کردہ ہے"

دینِ اسلام مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے

تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں (المعروف غلام مصطفٰی الراعی)، کراچی

یہ حقیقت مسلّم اور ناقابلِ انکار ہے کہ دینِ اسلام سراسر منزل من اللہ ہے۔ اس کی بنیاد انسانی فکر، فلسفہ یا تجربات پر نہیں بلکہ وحیِ الٰہی پر قائم ہے۔ اللہ ربّ العزت نے قرآنِ مجید کو بطورِ ہدایت نازل فرمایا اور رسولِ اکرم ﷺ کی سنت و سیرت کو اس کا عملی نمونہ قرار دیا۔ اس اعتبار سے اسلام نہ صرف ایک مذہب بلکہ ایک مکمل و جامع ضابطۂ حیات ہے جو انسانی زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ہے۔

قرآن مجید اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے:

اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا

مفہوم: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا۔

اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ایک کامل و مکمل نظامِ حیات ہے جس میں کسی اضافے یا کمی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ لہٰذا مسلمان کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے عقائد، اعمال اور اجتماعی زندگی میں قرآن و سنت کو ہی معیار بنائے۔

معاشرے میں فرقہ پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان

تاہم ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم نے بتدریج اعمالِ صالحہ کو پسِ پشت ڈال کر فرقہ پرستی اور اکابر پرستی کو اختیار کر لیا ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات اور ان کے عملی تقاضوں کو نظر انداز کر کے لوگوں نے اپنے اپنے گروہوں اور جماعتوں کی وابستگی کو دین کا معیار سمجھنا شروع کر دیا ہے۔

یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ آخر یہ رجحان کب اور کیسے پیدا ہوا؟ کن اسباب اور عوامل نے اسے پروان چڑھایا؟ اور اس کے نتیجے میں معاشرے میں کون سی خرابیاں پیدا ہوئیں؟

اگر سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس صورتِ حال کے پسِ پشت متعدد عوامل کارفرما ہیں۔ ان میں سے ایک بڑا سبب یہ ہے کہ معاشرے کے بعض مفاد پرست مذہبی، سیاسی اور سماجی عناصر نے اپنے محدود مفادات کے حصول کے لیے لوگوں کو اصل دین سے دور کر دیا۔

منبر و محراب، مساجد و مدارس اور مذہبی تنظیمات جو دراصل ہدایت و اصلاح کے مراکز ہونے چاہییں تھیں، بعض اوقات فرقہ وارانہ نظریات کے فروغ کا ذریعہ بن گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوام الناس قرآن و سنت کے براہِ راست فہم سے محروم ہوتے گئے اور ان کی وابستگی مخصوص شخصیات یا گروہوں کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔

قرآن کا واضح موقف: فرقہ بندی ممنوع ہے

قرآن مجید نے اس طرزِ عمل کو سختی سے منع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَا تَكُونُوا مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا

مفہوم: ان لوگوں میں شامل نہ ہو جاؤ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا اور مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔

یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ دین میں گروہ بندی اور فرقہ سازی اسلام کی روح کے منافی ہے۔ اسلام کا پیغام دراصل وحدت، اخوت اور باہمی خیرخواہی کا پیغام ہے۔

تعاملِ صحابہ: دین کا حقیقی نمونہ

صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا طرزِ عمل اس حوالے سے ہمارے لیے بہترین مثال ہے۔ انہوں نے ہمیشہ قرآن اور سنت کو اپنی زندگی کا محور بنایا۔ اگر کسی مسئلے میں اختلاف پیدا ہو جاتا تو وہ فوراً اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کی طرف رجوع کرتے تھے۔

ان کے نزدیک کسی شخصیت یا گروہ کی وابستگی اصل معیار نہیں تھی بلکہ اصل معیار حق اور دلیل تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے درمیان اختلافات کے باوجود اخوتِ اسلامی اور باہمی احترام قائم رہا۔

ائمۂ امت کا موقف

اسلامی تاریخ کے عظیم ائمہ اور فقہاء نے بھی ہمیشہ یہی تعلیم دی کہ ان کی آراء کو قرآن و سنت پر ترجیح نہ دی جائے۔

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے:

“جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے۔”

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا:

“ہر شخص کی بات لی بھی جا سکتی ہے اور چھوڑی بھی جا سکتی ہے، سوائے رسول اللہ ﷺ کے۔”

یہ اقوال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اہلِ علم نے بھی خود کو دین کا معیار نہیں بنایا بلکہ قرآن و سنت کو ہی اصل معیار قرار دیا۔

فرقہ پرستی کے نتائج

جب معاشرے میں فرقہ وارانہ تعصبات غالب آ جاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں متعدد خرابیاں جنم لیتی ہیں۔

امت کے اندر اتحاد و اخوت کمزور پڑ جاتی ہے

باہمی خیرخواہی اور تعاون کا جذبہ ختم ہونے لگتا ہے

ایک دوسرے کو کافر، فاسق اور گمراہ قرار دینے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے

دینی مسائل کے بجائے گروہی مفادات کو ترجیح دی جانے لگتی ہے

بالآخر امت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور وہ اجتماعی قوت سے محروم ہو جاتی ہے۔

اصلاحِ احوال کی ضرورت

اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ایمان و عمل کا معیار دوبارہ قرآن و سنت کو بنائیں۔ علماء، خطباء اور دینی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو فرقہ وارانہ تعصبات سے نکال کر اصل اسلامی تعلیمات کی طرف متوجہ کریں۔

اسی طرح تعلیمی نظام میں بھی قرآن و سنت کے حقیقی فہم کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ نئی نسل دین کو براہِ راست اس کے اصل ماخذ سے سمجھ سکے۔

حاصلِ کلام

اسلام دراصل اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کامل دین ہے جس کا سرچشمہ قرآن اور سنت ہیں۔ اگر مسلمان اپنی زندگی کے ہر شعبے میں انہی کو معیار بنا لیں تو بہت سے اختلافات اور تنازعات خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔

فرقہ واریت اور شخصیت پرستی سے نکل کر وحدتِ امت، اخوتِ اسلامی اور باہمی خیرخواہی کے اصولوں کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو امت کو دوبارہ عزت، اتحاد اور فلاح کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

دعا

اللہ ربّ العالمین ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے، سنتِ رسول ﷺ کی سچی پیروی کرنے اور ہر قسم کی فرقہ واریت و تعصب سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے دلوں کو حق کے لیے کھول دے اور ہمیں صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھے۔

اللّٰهُمَّ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِ الْمُسْلِمِينَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الْمُتَّبِعِينَ لِكِتَابِكَ وَسُنَّةِ نَبِيِّكَ ﷺ۔

اللّٰهُمَّ آمین ثم آمین برحمتک یا أرحم الراحمین۔