Monday, 17 May 2021

"دین اسلام مکمل طور پر الله تعالٰی کا نازل کردہ ہے"

دینِ اسلام مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے

تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں (المعروف غلام مصطفٰی الراعی)، کراچی

یہ حقیقت مسلّم اور ناقابلِ انکار ہے کہ دینِ اسلام سراسر منزل من اللہ ہے۔ اس کی بنیاد انسانی فکر، فلسفہ یا تجربات پر نہیں بلکہ وحیِ الٰہی پر قائم ہے۔ اللہ ربّ العزت نے قرآنِ مجید کو بطورِ ہدایت نازل فرمایا اور رسولِ اکرم ﷺ کی سنت و سیرت کو اس کا عملی نمونہ قرار دیا۔ اس اعتبار سے اسلام نہ صرف ایک مذہب بلکہ ایک مکمل و جامع ضابطۂ حیات ہے جو انسانی زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ہے۔

قرآن مجید اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے:

اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا

مفہوم: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا۔

اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ایک کامل و مکمل نظامِ حیات ہے جس میں کسی اضافے یا کمی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ لہٰذا مسلمان کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے عقائد، اعمال اور اجتماعی زندگی میں قرآن و سنت کو ہی معیار بنائے۔

معاشرے میں فرقہ پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان

تاہم ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم نے بتدریج اعمالِ صالحہ کو پسِ پشت ڈال کر فرقہ پرستی اور اکابر پرستی کو اختیار کر لیا ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات اور ان کے عملی تقاضوں کو نظر انداز کر کے لوگوں نے اپنے اپنے گروہوں اور جماعتوں کی وابستگی کو دین کا معیار سمجھنا شروع کر دیا ہے۔

یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ آخر یہ رجحان کب اور کیسے پیدا ہوا؟ کن اسباب اور عوامل نے اسے پروان چڑھایا؟ اور اس کے نتیجے میں معاشرے میں کون سی خرابیاں پیدا ہوئیں؟

اگر سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس صورتِ حال کے پسِ پشت متعدد عوامل کارفرما ہیں۔ ان میں سے ایک بڑا سبب یہ ہے کہ معاشرے کے بعض مفاد پرست مذہبی، سیاسی اور سماجی عناصر نے اپنے محدود مفادات کے حصول کے لیے لوگوں کو اصل دین سے دور کر دیا۔

منبر و محراب، مساجد و مدارس اور مذہبی تنظیمات جو دراصل ہدایت و اصلاح کے مراکز ہونے چاہییں تھیں، بعض اوقات فرقہ وارانہ نظریات کے فروغ کا ذریعہ بن گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوام الناس قرآن و سنت کے براہِ راست فہم سے محروم ہوتے گئے اور ان کی وابستگی مخصوص شخصیات یا گروہوں کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔

قرآن کا واضح موقف: فرقہ بندی ممنوع ہے

قرآن مجید نے اس طرزِ عمل کو سختی سے منع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَا تَكُونُوا مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا

مفہوم: ان لوگوں میں شامل نہ ہو جاؤ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا اور مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔

یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ دین میں گروہ بندی اور فرقہ سازی اسلام کی روح کے منافی ہے۔ اسلام کا پیغام دراصل وحدت، اخوت اور باہمی خیرخواہی کا پیغام ہے۔

تعاملِ صحابہ: دین کا حقیقی نمونہ

صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا طرزِ عمل اس حوالے سے ہمارے لیے بہترین مثال ہے۔ انہوں نے ہمیشہ قرآن اور سنت کو اپنی زندگی کا محور بنایا۔ اگر کسی مسئلے میں اختلاف پیدا ہو جاتا تو وہ فوراً اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کی طرف رجوع کرتے تھے۔

ان کے نزدیک کسی شخصیت یا گروہ کی وابستگی اصل معیار نہیں تھی بلکہ اصل معیار حق اور دلیل تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے درمیان اختلافات کے باوجود اخوتِ اسلامی اور باہمی احترام قائم رہا۔

ائمۂ امت کا موقف

اسلامی تاریخ کے عظیم ائمہ اور فقہاء نے بھی ہمیشہ یہی تعلیم دی کہ ان کی آراء کو قرآن و سنت پر ترجیح نہ دی جائے۔

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے:

“جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے۔”

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا:

“ہر شخص کی بات لی بھی جا سکتی ہے اور چھوڑی بھی جا سکتی ہے، سوائے رسول اللہ ﷺ کے۔”

یہ اقوال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اہلِ علم نے بھی خود کو دین کا معیار نہیں بنایا بلکہ قرآن و سنت کو ہی اصل معیار قرار دیا۔

فرقہ پرستی کے نتائج

جب معاشرے میں فرقہ وارانہ تعصبات غالب آ جاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں متعدد خرابیاں جنم لیتی ہیں۔

امت کے اندر اتحاد و اخوت کمزور پڑ جاتی ہے

باہمی خیرخواہی اور تعاون کا جذبہ ختم ہونے لگتا ہے

ایک دوسرے کو کافر، فاسق اور گمراہ قرار دینے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے

دینی مسائل کے بجائے گروہی مفادات کو ترجیح دی جانے لگتی ہے

بالآخر امت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور وہ اجتماعی قوت سے محروم ہو جاتی ہے۔

اصلاحِ احوال کی ضرورت

اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ایمان و عمل کا معیار دوبارہ قرآن و سنت کو بنائیں۔ علماء، خطباء اور دینی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو فرقہ وارانہ تعصبات سے نکال کر اصل اسلامی تعلیمات کی طرف متوجہ کریں۔

اسی طرح تعلیمی نظام میں بھی قرآن و سنت کے حقیقی فہم کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ نئی نسل دین کو براہِ راست اس کے اصل ماخذ سے سمجھ سکے۔

حاصلِ کلام

اسلام دراصل اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کامل دین ہے جس کا سرچشمہ قرآن اور سنت ہیں۔ اگر مسلمان اپنی زندگی کے ہر شعبے میں انہی کو معیار بنا لیں تو بہت سے اختلافات اور تنازعات خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔

فرقہ واریت اور شخصیت پرستی سے نکل کر وحدتِ امت، اخوتِ اسلامی اور باہمی خیرخواہی کے اصولوں کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو امت کو دوبارہ عزت، اتحاد اور فلاح کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

دعا

اللہ ربّ العالمین ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے، سنتِ رسول ﷺ کی سچی پیروی کرنے اور ہر قسم کی فرقہ واریت و تعصب سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے دلوں کو حق کے لیے کھول دے اور ہمیں صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھے۔

اللّٰهُمَّ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِ الْمُسْلِمِينَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الْمُتَّبِعِينَ لِكِتَابِكَ وَسُنَّةِ نَبِيِّكَ ﷺ۔

اللّٰهُمَّ آمین ثم آمین برحمتک یا أرحم الراحمین۔

No comments:

Post a Comment