Friday, 10 March 2023

معاشی استحکام، سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں

معاشی استحکام، سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں، بانی صدر، تحریک نفاذ آئین، قرآن و سنت پاکستان


اس حقیقت سے کسی طور بھی انحراف نہیں کیا جا سکتا کہ اس وقت پاکستان بہت بدترین معاشی بحران کا شکار ہے، مفلس و نادار، غریب و محنت کش، عام پاکستانیوں کی بڑی اکثریت دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنے سے بھی عاری ہے، مہنگائی جو پہلے ہی بہت زیادہ ہے روز مرہ استعمال کی اشیاء خورد و نوش عام پاکستانیوں کی پہنچ سے باہر ہیں اس پر مستزاد یہ کہ منی بجٹ کے ذریعے مہنگائی میں مزید ہوشربا اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے، درپیش صورتحال کا ایمانداری و دیانتداری کے ساتھ جائزہ لینا ز بس ضروری ہے کہ اس غربت و افلاس، مہنگائی و روز گاری کے اصل اسباب و عوامل اور محرکات کیا ہیں؟

عوام کی بڑی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ موجودہ مشکل ترین معاشی صورتحال سیاست میں جنرلز و ججز کی غیر آئینی و غیر قانونی، مجرمانہ مداخلت کا فطری و لازمی نتیجہ ہے چنانچہ جن جنرلز نے دفاعی بجٹ اور ففتھ جنریشن وار کے نام پر قومی خزانے سے ہزارہا ارب روپے سالانہ لے کر پروجیکٹ عمران خائن پر خرچ کر دیئے، (PML (N اور PPP وغیرہما، قومی سیاسی و دینی جماعتوں اور قائدین کے خلاف بے بنیاد، من گھڑت و لغو، جھوٹے پروپگنڈے، کردار کشی کی مہمات پر خرچ کروائے اور عدلیہ کے بعض ججز کو استعمال کر کے ان کے خلاف بد نیتی پر مبنی جھوٹے، بے بنیاد الزامات لگوا کر انہیں نا اہل کروایا گیا، قید و جرمانے کی غلط و ناجائز سزائیں دلوائی گئیں، RTS بٹھا کر دھونس و دھمکی اور خوف کے ذریعے PTI مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بالجبر و بلیک میلنگ کے ذریعے PTI میں شامل کروایا گیا، بے انتہاء پری پول و پوسٹ پول رگنگ و دھاندلی کروائی گئی، تاکہ جنرلز و ججز کے مشترکہ پروجیکٹ عمران خائن کو قوم و ملک پر زبردستی مسلط کیا جا سکے، قومی خزانے سے کھربوں روپے خرچ کر کے قوم کے اکثر لوگوں کو بدتمیزی کرنے، مغلظات بکنے، بداخلاقی و بدتہذیبی، آئین شکنی، الزام تراشی و بہتان طرازی کے رویوں کا عادی بنایا گیا، ان سارے کرتوتوں کے ذمہ دار تمام عناصر بلا شبہ قومی مجرم ہیں، ان سب کے خلاف آئین پاکستان کے آرٹیکل 6 اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت سنگین غداری و دیگر جرائم کے مقدمات درج کر کے ان سب کو بلاتاخیر گرفتار کر کے متعلقہ عدالتوں سے قرار واقعی و عبرتناک سزائیں دلوانا، ان سب کے اثاثوں کی چھان بین کرنا اور ناجائز و لوٹی ہوئی دولت سے بنائے گئے اثاثوں کو بحق سرکار ضبط کرنا، نیز آئین، قرآن و سنت کے مکمل و مؤثر نفاذ و بالادستی کو یقینی بنانا اور آئندہ جنرلز و ججز کو ایسے ناکام و تباہ کن تجربے و پروجیکٹس شروع کرنے سے روکنا نہایت ضروری ہے، بصورت دیگر ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کی کوئی بھی کوشش کامیاب ہونا بہت مشکل بلکہ نا ممکن ہے۔

Monday, 18 July 2022

قرآن و سنت کے احکامات کی اطاعت ہی اصل عبادت ہے

 *قرآن و سنت کے احکامات کی اطاعت ہی اصل عبادت ہے*


تحریر: پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں، بانی صدر، تحریک نفاذ آئین، قرآن و سنت پاکستان

دین اسلام میں (جو کہ قرآن و سنت پر مبنی ہے) اللہ تعالٰی و رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے احکامات کی اطاعت و اتباع اور تعمیل و تکمیل کو عبادت، جبکہ اللہ تعالٰی کے نازل کردہ احکامات کی نافرمانی و سرکشی انحراف و روگردانی کو برائی، بدی اور معصیت و گناہ قرار دیا گیا ہے، ان حقائق کی جانب ہر کلمہ گو انسان کو پوری طرح متوجہ ہو کر سنجیدگی و اخلاص کے ساتھ غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ملک و معاشرے میں اعمال صالحہ یعنی قرآن و سنت کے منزل من اللہ احکامات و ہدایات، تعلیمات و فرمودات اور پیغامات سے انحراف و روگردانی، نافرمانی و حکم عدولی اور سرکشی کرنے، اللہ تعالٰی کے نازل کردہ احکامات پر انسانی و بشری افکار و نظریات کو ترجیح و فوقیت اور اولیت دینے، فرقہ پرستی و اکابر پرستی کو عملاً اختیار کرنے کے عمومی روش و رویے اور رجحانات آخر کیسے پروان چڑھے ہیں؟ اس کے اسباب و عوامل اور محرکات کیا ہیں؟ 

آلا ما شاء اللہ، ملک و معاشرے اور قوم کے اکثرو بیشتر افراد میں اس ناسور نے کب سے اور کس طرح جڑیں پکڑی ہیں؟  بالعموم یہ یہ روش و رویے اب سرطان کے مرض کی طرح ملک و معاشرے بلکہ پوری امت مسلمہ میں کورونا و طاعون کی وبا کی شکل اختیار کر کے پوری طرح پھیل چکے ہیں، اب بھی اگر ہم نے ان عمومی رویوں کے پھیلاؤ و فروغ کو روکنے کی غرض سے ان کے بنیادی و کلیدی اور اصل اسباب و عوامل، وجوہات و محرکات پر غور و فکر نہ کیا تو یہ خوفناک و خطرناک ترین رویے اور رجحانات ہمیں دنیا و آخرت میں مزید تباہ و برباد، ذلیل و رسوا کر کے معاذ اللہ جہنم کا ایندھن بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑیں گےاور ان کے سدباب و ازالے اور مکمل تدارک و علاج کے لیے پہلے متعلقہ امراض کی تشخیص ضروری ہے اور اس کے بعد ہی اس کا مؤثر علاج و معالجہ ممکن ہے پھر اس سے بچنے کی تدابیر و احتیاط اور پرہیز اختیار کی جا سکتی ہے۔ ہمیں یہ سوچنے کی بھی ضرورت ہے کہ اصلاح احوال کے لیے کیا کیا اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں؟

اس عاجز و ناقص بندہ ناچیز کی دانست میں ان روش و ریوں، رجحانات و برائیوں اور خرابیوں کو پروان چڑھانے میں  مندرجہ ذیل عناصر و شخصیات اور طبقات کا بڑا اہم کردار ہے: ہمارے مفاد پرست و خود غرض، قائدین، فرقہ ساز، فرقہ بند، فرقہ پرست نام نہاد و خود ساختہ مذہبی و دینی پیشوائی کے جھوٹے دعویدار مولوی حضرات، سیاسی و سماجی رہنما و زعماء، پیران کرام و شیخان عظام اور مغرب و یورپ سے مرعوب و متاثر، ذہنی غلامی کے مرض میں مبتلا حکمران و مقتدر اور با اثر طبقات کی عمومی غفلت و لاپرواہی، غیر سنجیدگی و غیر ذمہ داری، عاقبت نااندیشی، فرض ناشناسی، بد اعمالی و بد کرداری کیونکہ لوگ انہی کی رہنمائی میں چلنے کے عادی ہوتے ہیں اور وہ انہیں کو اپنے لیے نمونہء عمل تصور کرتے ہیں اور ان سے متاثر ہوتے ہیں اور انہی کے پیچھے چلتے ہیں۔

  ان سب ہی نے اپنے اپنے حلقہء اثر کے لوگوں کو دانستہ و نادانستہ طور پر قرآن و سنت کا صحیح فہم پہنچانے اور ان کی تعمیل و پیروی اور اطاعت و اتباع کی راہ سے ہٹانے، صراط مستقیم سے بھٹکانے اور قرآن و سنت کے منزل من الله احکامات و ہدایات، تعلیمات و فرمودات اور پیغامات کی صدق نیت اور اخلاص قلب سے اطاعت و اتباع اور تعمیل و پیروی کیی راہ سے ہٹا کر اپنے اپنے محدود و ناجائز، محدود و ذاتی مخصوص اغراض و مقاصد کے حصول و تحفظ کی غرض سے اپنے اپنے من پسند و من گھڑت، بے بنیاد و خود ساختہ، فرقہ وارانہ، سیاسی و گروہی اور لسانی عصبتوں، بے بنیاد اور قرآن و سنت کے احکامات کے منافی  افکار و نظریات کی پیروی کرنے پر مائل و آمادہ کرنے کےلیے سارے جتن اور حیلے و حربے استعمال کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی، حتیٰ کہ اختیارات، اثر و رسوخ، منبر و محراب، مساجد و مدارس اور اپنی اپنی سیاسی، سماجی، دینی و مذہبی تنظیمات کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے ان با اثر طبقات کے اسی طرز فکر و عمل کو اختیار کرنے کے نتیجے میں بتدریج معاشرے میں بے راہ روی، گمراہی، جرائم، انتشار و افتراق، طبقاتی تقسیم، تباہی و بربادی، تنزلی، انحطاط، پستی آتی رہی، نتیجتاً ہر سطح پر ذلت و رسوائی، تباہی و بربادی، انتشار و افتراق، ذلت و رسوائی مسلم معاشرے اور امت مسلمہ کا مقدر بنتی چلی گئی اور اب تو حالت وہ بن چکی ہے کہ علماء دین بھی دین کی سربلندی کے بجائے مصلحت اندیشی، مفاد پرستی اور خود غرضی کے باعث حق بات بیان نہیں کر پاتے امت کا شیرازہ بکھیر دیا گیا ہے، امداد باہمی، اخوت اسلامی، باہمی خیرخواہی کا کہیں کوئی نشان تک نہیں ملتا۔ وہ دین حق "الاسلام" جو قرآن و سنت پر مبنی ہے، کامل و اکمل اور ہر لحاظ سے مکمل و جامع ضابطہ حیات، دستور زندگی ہے، رسول الله صلى الله عليه و آله و سلم پر الله رب العالمين کا نازل کیا ہوا ہے اس کا عملی نفاذ ناپید ہو چکا ہے۔ آلا ماشاء الله لوگوں کی اکثریت مسلم (مسلمان) ہونے پر فخر کرنے کے بجائے، اپنے اپنے فرقوں پر نازاں ہیں اسی پر فخر کرنے لگے ہیں، اپنے فرقے کے پیرو کاروں کے سوا باقی سارے کلمہ گو لوگوں کو فاسق و فاجر، بدعتی، کافر، مشرک اور مرتد اور واجب القتل تک قرار دینے پر فخر کرتے نظر آتے ہیں، مقاصد دین اور اصول الدین کو پس پشت ڈال کر محض اپنے فرقے کے نام نہاد و خود ساختہ اکابرین کے فکر و فلسفے اور من گھڑت و بے بنیاد اور قرآن و سنت کے منافی افکار کو ارادی و غیر ارادی طور پر الله تعالٰی کے نازل کردہ دین (قرآن و سنت) پر اولیت، ترجیح و فوقیت دینے میں ذرا بھی تامل نہیں کرتے نہ ہی کوئی عار و جھجک محسوس کرتے ہیں، حالانکہ قرآن و سنت کی نصوص سے عبارة النص و اشارة النص کے ذریعے فرقہ بندی، فرقہ سازی، فرقہ پرستی، اکابر پرستی و شخصیت پرستی کی سخت ترین ممانعت ثابت ہے اور اس حرام عمل کا شرک کے مصداق گناہ کبیرہ ہونا اور اس پر جہنم وعید کا موجود ہونا سب پر واضح ہے اور کسی فرقے کو جائز و درست ماننے، قبول کرنے، تسلیم کرنے، جائز سمجھنے، اس کے ساتھ وابستگی اختیار کرنے والے کو جہنمی قرار دیا گیا ہے اس حقیقت سے بھی سب لوگ آگاہ ہیں مگر اس سب کے باوجود فرقہ پرستی سے تائب ہو کر قرآن و سنت کی تعمیل و پیروی، اطاعت و اتباع پر اکتفاء کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے ہیں، جبکہ ہمارے جمیع مسائل و مصائب کا واحد حل و علاج ہی یہ ہے کہ منہاج نبوی اور منہاج خلفاء راشدین کے مطابق قرآن و سنت پر مبنی نظام مصطفوی کے مکمل نفاذ و غلبے اور بالادستی کو بہرحال یقینی بنانے کےلیے جہد مسلسل کی جائے۔

اللہ تعالٰی قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے : مفہوم: "(اے محبوب صلّی اللہ علیہ و آلہٖ سلّم) آپ فرما دیجیئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں، اور تمہارا کنبہ، اور تمہارے وہ مال جو تم نے کما رکھے ہیں اور تمہاری وہ تجارت جس کے ماند پڑجانے کا تمہیں اندیشہ لگا رہتا ہے، اور تمہارے وہ گھر جو تمہیں پسند ہیں (اگر یہ سب کچھ) تمہیں زیادہ پیارا ہو اللہ اور اس کے رسول(صلّی اللہ علیہ وسلّم) سے، اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے، تو تم انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ لے آئے اپنا حکم اور اللہ نورِ ہدایت سے بدکار لوگوں کو نہیں نوازتا "(سورۃ التوبہ، اٰیۃ 24)، مفہوم: "اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو، اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی اور تم اس کی نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی ہوگئے، اور تم (دوزخ کی) آگ کے گڑھے کے کنارے پر (پہنچ چکے) تھے پھر اس نے تمہیں اس گڑھے سے بچا لیا، یوں ہی اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ" (سورۃ آلِ عمران، آیۃ نمبر103)، مفہوم: "اور جو رسول اللّٰہ (صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم) کی مخالفت کرے، اس کے بعد کہ اس پر ہدایت واضح ہو چکی اور وہ اہل ایمان (مومنون و مسلمون یعنی جماعۃِ صحابہءِ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین) کے راستے کے سوا کوئی بھی دوسرا راستہ اختیار کرے تو ہم بھی اس کو اسی طرف پھرا دیتے ہیں جس طرف اس نے خود رخ اختیار کر رکھا ہو اور ہم اسے جہنم میں پہنچا دیں گے اور وہ لوٹنے کی بہت بری جگہ ہے" (سورۃ النّساء اٰیۃ 115)،  مفہوم: "بیشک دین (حق) اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے" (سورۃ آل عمران، آیۃ 19)

اللہ تعالٰی کے نازل کردہ دین اسلام کے احکامات کی تعمیل و اطاعت کا بالعموم ہر انسان جبکہ بالخصوص ہر کلمہ گو مکلف ہے، ہم ہزار احکامات کی نافرمانی کرتے ہیں اور پھر محض اقامت صلوة خمسہ، اہتمام صیام رمضان المبارک، زکوۃ اور حج کو ہی عبادت سمجھتے ہیں جو کہ درست بات نہیں ہے سچ بولنا، جھوٹ نہ بولنا، خرید و فروخت میں پورا ناپنا اور تولنا، ملاوٹ اور جعل سازی نہ کرنا، سچی گواہی دینا، صلہء رحمی، پڑوسیوں اور قرابت داروں کی خیر خبر لیتے رہنا، حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کا بھی پورا خیال رکھنا، طمع، لالچ، بغض، عناد، حسد، کینہ پروری، عداوت، غیبت، بد عہدی سے بچنا اور اسی طرح بے شمار دیگر احکامات بھی واجب الاطاعت ہیں، دین اسلام میں (جو کہ قرآن و سنت پر مبنی ہے) اللہ تعالٰی و رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے احکامات کی اطاعت و اتباع اور تعمیل و تکمیل کو عبادت، جبکہ اللہ تعالٰی کے نازل کردہ احکامات کی نافرمانی و سرکشی انحراف و روگردانی کو برائی، بدی اور معصیت و گناہ قرار دیا گیا ہے

 الله رب العالمين ہر کلمہ گو کو ہدایت کاملہ عطا و نصیب فرمائے اور صراط مستقیم پر چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین برحمتک یا ارحم الراحمین بحق رحمت للعالمین صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم۔

Monday, 17 May 2021

"دین اسلام مکمل طور پر الله تعالٰی کا نازل کردہ ہے"

دینِ اسلام مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے

تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں (المعروف غلام مصطفٰی الراعی)، کراچی

یہ حقیقت مسلّم اور ناقابلِ انکار ہے کہ دینِ اسلام سراسر منزل من اللہ ہے۔ اس کی بنیاد انسانی فکر، فلسفہ یا تجربات پر نہیں بلکہ وحیِ الٰہی پر قائم ہے۔ اللہ ربّ العزت نے قرآنِ مجید کو بطورِ ہدایت نازل فرمایا اور رسولِ اکرم ﷺ کی سنت و سیرت کو اس کا عملی نمونہ قرار دیا۔ اس اعتبار سے اسلام نہ صرف ایک مذہب بلکہ ایک مکمل و جامع ضابطۂ حیات ہے جو انسانی زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ہے۔

قرآن مجید اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے:

اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا

مفہوم: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا۔

اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ایک کامل و مکمل نظامِ حیات ہے جس میں کسی اضافے یا کمی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ لہٰذا مسلمان کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے عقائد، اعمال اور اجتماعی زندگی میں قرآن و سنت کو ہی معیار بنائے۔

معاشرے میں فرقہ پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان

تاہم ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم نے بتدریج اعمالِ صالحہ کو پسِ پشت ڈال کر فرقہ پرستی اور اکابر پرستی کو اختیار کر لیا ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات اور ان کے عملی تقاضوں کو نظر انداز کر کے لوگوں نے اپنے اپنے گروہوں اور جماعتوں کی وابستگی کو دین کا معیار سمجھنا شروع کر دیا ہے۔

یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ آخر یہ رجحان کب اور کیسے پیدا ہوا؟ کن اسباب اور عوامل نے اسے پروان چڑھایا؟ اور اس کے نتیجے میں معاشرے میں کون سی خرابیاں پیدا ہوئیں؟

اگر سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس صورتِ حال کے پسِ پشت متعدد عوامل کارفرما ہیں۔ ان میں سے ایک بڑا سبب یہ ہے کہ معاشرے کے بعض مفاد پرست مذہبی، سیاسی اور سماجی عناصر نے اپنے محدود مفادات کے حصول کے لیے لوگوں کو اصل دین سے دور کر دیا۔

منبر و محراب، مساجد و مدارس اور مذہبی تنظیمات جو دراصل ہدایت و اصلاح کے مراکز ہونے چاہییں تھیں، بعض اوقات فرقہ وارانہ نظریات کے فروغ کا ذریعہ بن گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوام الناس قرآن و سنت کے براہِ راست فہم سے محروم ہوتے گئے اور ان کی وابستگی مخصوص شخصیات یا گروہوں کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔

قرآن کا واضح موقف: فرقہ بندی ممنوع ہے

قرآن مجید نے اس طرزِ عمل کو سختی سے منع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَا تَكُونُوا مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا

مفہوم: ان لوگوں میں شامل نہ ہو جاؤ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا اور مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔

یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ دین میں گروہ بندی اور فرقہ سازی اسلام کی روح کے منافی ہے۔ اسلام کا پیغام دراصل وحدت، اخوت اور باہمی خیرخواہی کا پیغام ہے۔

تعاملِ صحابہ: دین کا حقیقی نمونہ

صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا طرزِ عمل اس حوالے سے ہمارے لیے بہترین مثال ہے۔ انہوں نے ہمیشہ قرآن اور سنت کو اپنی زندگی کا محور بنایا۔ اگر کسی مسئلے میں اختلاف پیدا ہو جاتا تو وہ فوراً اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کی طرف رجوع کرتے تھے۔

ان کے نزدیک کسی شخصیت یا گروہ کی وابستگی اصل معیار نہیں تھی بلکہ اصل معیار حق اور دلیل تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے درمیان اختلافات کے باوجود اخوتِ اسلامی اور باہمی احترام قائم رہا۔

ائمۂ امت کا موقف

اسلامی تاریخ کے عظیم ائمہ اور فقہاء نے بھی ہمیشہ یہی تعلیم دی کہ ان کی آراء کو قرآن و سنت پر ترجیح نہ دی جائے۔

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے:

“جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے۔”

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا:

“ہر شخص کی بات لی بھی جا سکتی ہے اور چھوڑی بھی جا سکتی ہے، سوائے رسول اللہ ﷺ کے۔”

یہ اقوال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اہلِ علم نے بھی خود کو دین کا معیار نہیں بنایا بلکہ قرآن و سنت کو ہی اصل معیار قرار دیا۔

فرقہ پرستی کے نتائج

جب معاشرے میں فرقہ وارانہ تعصبات غالب آ جاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں متعدد خرابیاں جنم لیتی ہیں۔

امت کے اندر اتحاد و اخوت کمزور پڑ جاتی ہے

باہمی خیرخواہی اور تعاون کا جذبہ ختم ہونے لگتا ہے

ایک دوسرے کو کافر، فاسق اور گمراہ قرار دینے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے

دینی مسائل کے بجائے گروہی مفادات کو ترجیح دی جانے لگتی ہے

بالآخر امت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور وہ اجتماعی قوت سے محروم ہو جاتی ہے۔

اصلاحِ احوال کی ضرورت

اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ایمان و عمل کا معیار دوبارہ قرآن و سنت کو بنائیں۔ علماء، خطباء اور دینی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو فرقہ وارانہ تعصبات سے نکال کر اصل اسلامی تعلیمات کی طرف متوجہ کریں۔

اسی طرح تعلیمی نظام میں بھی قرآن و سنت کے حقیقی فہم کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ نئی نسل دین کو براہِ راست اس کے اصل ماخذ سے سمجھ سکے۔

حاصلِ کلام

اسلام دراصل اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کامل دین ہے جس کا سرچشمہ قرآن اور سنت ہیں۔ اگر مسلمان اپنی زندگی کے ہر شعبے میں انہی کو معیار بنا لیں تو بہت سے اختلافات اور تنازعات خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔

فرقہ واریت اور شخصیت پرستی سے نکل کر وحدتِ امت، اخوتِ اسلامی اور باہمی خیرخواہی کے اصولوں کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو امت کو دوبارہ عزت، اتحاد اور فلاح کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

دعا

اللہ ربّ العالمین ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے، سنتِ رسول ﷺ کی سچی پیروی کرنے اور ہر قسم کی فرقہ واریت و تعصب سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے دلوں کو حق کے لیے کھول دے اور ہمیں صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھے۔

اللّٰهُمَّ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِ الْمُسْلِمِينَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الْمُتَّبِعِينَ لِكِتَابِكَ وَسُنَّةِ نَبِيِّكَ ﷺ۔

اللّٰهُمَّ آمین ثم آمین برحمتک یا أرحم الراحمین۔

فرقہ پرستی کے بھیانک نتائج اور امت مسلمہ کی حقیقی راہ نجات

فرقہ پرستی کے بھیانک نتائج اور امت مسلمہ کی حقیقی راہ نجات

تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں، کراچی

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس نے انسانیت کے ہر شعبے، ہر معاملے اور ہر فکر و عمل کے لیے رہنمائی فراہم فرمائی ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں امت مسلمہ کی بقا، عزت اور کامیابی کا راز واضح ہے: اتحاد، اخوت، عدل، اور فلاح۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج مسلم دنیا میں سب سے بڑا زہر، سب سے مہلک بیماری فرقہ پرستی ہے، جس نے امت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے اور اسے ذلت، رسوائی، انتشار اور اجتماعی ناکامی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ رب العالمین فرماتا ہے:

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا (آلِ عمران: 103)

مفہوم: "سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔"

یہ آیت امت کے لیے چار بنیادی ستون واضح کرتی ہے: ایمان، تقویٰ، اعتصام باللہ اور اجتماعی وحدت۔ جو امت ان ستونوں پر قائم رہتی ہے، وہ فکری انتشار، گروہی تعصبات اور مسلکی نفرت سے محفوظ رہتی ہے، اور جو انہیں چھوڑتی ہے، وہ انتشار، ضعف، ذلت اور زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔

اسلام: کوئی فرقہ نہیں، کوئی گروہ نہیں

اسلام میں کوئی فرقہ نہیں، اور نہ ہی گروہی شناخت اصل دین پر حاوی ہو سکتی ہے۔ ہر مسلمان ایک عالمی "امة واحدہ" کا فرد ہے، جس کے جسم کے ہر رکن کی حفاظت، پورے جسم کی صحت کے مترادف ہے۔ جو فرد یا گروہ فرقہ پرستی اختیار کرتا ہے، وہ دراصل اللہ تعالٰی کے نازل کردہ دین سے لاتعلقی اختیار کر چکا ہے اور اپنے لیے جہنم کی راہیں کھول رہا ہے۔

فرقہ پرستی نے امت مسلمہ کو ذلت و رسوائی، انتشار، معاشی و معاشرتی زبوں حالی، سیاسی انحطاط اور روحانی پستی کی شدید صورتوں تک پہنچایا ہے۔ اگر یہود، نصاریٰ، کفار یا طاغوتی طاقتیں جمیع وسائل کو یکجا کر کے بھی امت مسلمہ پر غلبہ حاصل کرنا چاہیں، تو فرقہ پرستی کی شدت سے ہونے والے نقصان کا مقابلہ نہ کر سکتیں۔ یہی فرقہ پرستی امت کے اندرونی زہر کا اصل سبب ہے۔

امت کے لیے قرآن کا واضح پیغام

قرآن و سنت بار بار امت کو یاد دلاتے ہیں کہ مسلمان کا اصل معیار ایمان، تقویٰ اور اخلاق ہے، نہ کہ نسلی، لسانی، جغرافیائی یا مسلکی تعصب۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

"مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔"

یہ تعلیم امتِ مسلمہ کے لیے اصول ہے: محبت، رواداری، عدل و انصاف، اور ایک دوسرے کے حقوق و عزت کی حفاظت ہر مسلمان پر واجب ہے۔ جو مسلمان اس اصول سے انحراف کرے، وہ اسلام کے حقیقی پیغام سے دور ہو جاتا ہے۔

تفرقہ پرستی کے اثرات

فرقہ پرستی نہ صرف روحانی اور فکری سطح پر نقصان دہ ہے، بلکہ عملی زندگی میں بھی شدید نتائج مرتب کرتی ہے:

مسلمانوں کے درمیان دشمنی اور عداوت پیدا ہو جاتی ہے، اخوت و محبت کی جگہ حسد و منافرت آ جاتی ہے۔

معاشرتی و سیاسی ڈھانچے کمزور ہو جاتے ہیں، عدل و انصاف کی عملداری متاثر ہوتی ہے، انسانی حقوق پامال ہو جاتے ہیں۔

اقتصادی و معاشرتی ترقی رک جاتی ہے اور ہر فرد کے لیے مساوی مواقع کی فراہمی مشکل ہو جاتی ہے۔

امت کی اجتماعی قوت کمزور ہوتی ہے اور عالمی وقار متاثر ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج امت مسلمہ ہر طرف انتشار، فکری کشمکش اور داخلی و خارجی دباؤ کا شکار ہے۔ جب تک امت قرآن و سنت کی رسی مضبوطی سے تھام کر اعتصام بحبل اللہ پر قائم نہیں ہوتی، نہ ہی داخلی اتحاد بحال ہوگا اور نہ ہی عالمی وقار حاصل ہوگا۔

حل: قرآن و سنت کی طرف رجوع

امت مسلمہ کی بقا اور کامیابی کا واحد راستہ ہے:

قرآن و سنت کی تعلیمات پر مضبوط اعتصام

باہمی خیرخواہی اور اخلاص دل

تقویٰ اور اخلاقی بلندی

اجتماعی نظم و ضبط اور عدل و انصاف

یہی راستہ انسان کو دوزخ کے کنارے سے نکال کر عزت، وقار اور فلاح کی شاہراہ پر لے جاتا ہے۔ قرآن و سنت پر عمل کرتے ہوئے امت اپنے تمام تر مسائل و مصائب سے نجات پا سکتی ہے۔

خلاصۂ کلام

فرقہ پرستی ایک مہلک زہر ہے جو امت مسلمہ کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ اسلام نے ابتداء سے ہی فرقہ بندی اور گروہی تعصب کو حرام قرار دیا ہے۔ امت کی بقا، عزت، امن اور فلاح اسی میں ہے کہ وہ اپنے رب کے بھیجے ہوئے نظام—قرآن و سنت—پر مجتمع ہو جائے، اور فرقہ پرستی سے تائب ہو کر حقیقی اسلامی تعلیمات پر عمل کرے۔

اللہ رب العالمین ہر مسلمان کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ فرقہ پرستی اور گروہی تعصب سے دور رہے، قرآن و سنت کی اصل تعلیمات پر عمل کرے، عدل و انصاف قائم کرے، اور امت مسلمہ کے اتحاد، فلاح اور ترقی کے لیے جدوجہد کرے۔ آمین یا ارحم الراحمین بحق رحمة للعالمين صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

کیا یہی اسلام ہے؟

کیا یہی اسلام ہے؟

تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں، کراچی

اسلام دراصل امن، عدل، اخوت اور انسانیت کے احترام کا دین ہے۔ یہ وہ دین ہے جو انسان کو نہ صرف اپنے خالق سے جوڑتا ہے بلکہ انسان کو انسان سے بھی جوڑتا ہے۔ قرآنِ مجید اور سنتِ رسول ﷺ کی تعلیمات اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتی ہیں کہ مسلمان ایک امت ہیں، ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ان کے درمیان باہمی محبت، خیر خواہی اور اتحاد ہونا چاہیے۔ مگر افسوس کے ساتھ یہ سوال آج شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ کیا ہم واقعی اسی اسلام پر عمل پیرا ہیں جس کا پیغام قرآن و سنت نے دیا تھا؟

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ امتِ مسلمہ کو جن بڑے مسائل کا سامنا ہے ان میں سب سے سنگین مسئلہ فرقہ واریت اور گروہی تعصب ہے۔ قرآنِ مجید نے بار بار مسلمانوں کو اتحاد و اجتماعیت کا حکم دیا ہے اور فرقہ بندی سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا (آل عمران: 103)

مفہوم: "اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔"

اسی طرح قرآن مجید ایک اور مقام پر واضح کرتا ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ (الانعام: 159)

مفہوم: "بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور مختلف گروہوں میں بٹ گئے، اے نبی! آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔"

ان آیاتِ مبارکہ سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام فرقہ بندی، گروہی تعصب اور باہمی نفرت کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ بلکہ اسلام کا اصل پیغام اتحاد، اخوت اور باہمی محبت ہے۔

بدقسمتی سے آج امتِ مسلمہ میں فرقہ واریت نے ایسی جڑیں پکڑ لی ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان اخوت اور بھائی چارے کی وہ فضا باقی نہیں رہی جو اسلام کی اصل روح تھی۔ مختلف مسالک اور گروہوں کے پیروکار ایک دوسرے کو کافر، مشرک، فاسق یا گمراہ قرار دینے میں ذرا بھی تامل نہیں کرتے۔ بعض مقامات پر تو یہ نفرت اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو واجب القتل تک قرار دینے لگتا ہے۔

یہ رویہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ اس سے امت کی وحدت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ اسلام نے تو یہ تعلیم دی تھی کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

یہ تعلیمات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اسلام کا اصل مزاج محبت، رواداری اور اخوت ہے۔ لیکن جب مسلمان اپنی اصل تعلیمات سے دور ہو جاتے ہیں اور دین کو مسلکی تعصبات اور گروہی وابستگیوں کی عینک سے دیکھنے لگتے ہیں تو اس کے نتیجے میں وہی صورتحال پیدا ہوتی ہے جس کا ہم آج مشاہدہ کر رہے ہیں۔

فرقہ پرستی نے امتِ مسلمہ کو وہ نقصانات پہنچائے ہیں جن کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ اس نے مسلمانوں کی قوت کو کمزور کیا، انہیں آپس میں تقسیم کیا اور انہیں سیاسی، معاشی اور فکری میدانوں میں پیچھے دھکیل دیا۔ آج مسلمان دنیا کے مختلف خطوں میں جن مشکلات اور مصائب کا شکار ہیں ان کی ایک بڑی وجہ ان کا باہمی انتشار اور اختلافات ہیں۔

اگر امتِ مسلمہ ایک متحد اور منظم قوت کے طور پر سامنے آتی تو شاید دشمن قوتوں کے لیے اس قدر آسان نہ ہوتا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کر سکیں۔ لیکن جب کوئی قوم اندرونی اختلافات کا شکار ہو جائے تو بیرونی قوتوں کے لیے اسے کمزور کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اسلام نے انسانوں کے درمیان اخوت اور مساوات کا ایسا تصور پیش کیا ہے جس کی مثال دنیا کے کسی اور نظام میں نہیں ملتی۔ قرآنِ مجید واضح طور پر اعلان کرتا ہے:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ (الحجرات: 10)

مفہوم: "بے شک تمام مؤمن آپس میں بھائی ہیں۔"

یہ آیت اس بات کی بنیاد فراہم کرتی ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ محبت، احترام اور خیر خواہی کا تعلق رکھیں۔ اسلام کسی بھی ایسے طرزِ فکر کی اجازت نہیں دیتا جو مسلمانوں کے درمیان نفرت اور عداوت کو جنم دے۔

لہٰذا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان سنجیدگی کے ساتھ اپنے طرزِ فکر اور طرزِ عمل کا جائزہ لیں۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی اسلام کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں یا ہم نے دین کو صرف نام اور شناخت تک محدود کر دیا ہے؟

اگر ہم واقعی اسلام کے سچے پیروکار بننا چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن و سنت کی اصل تعلیمات کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ ہمیں مسلکی تعصبات اور گروہی عصبیتوں سے اوپر اٹھ کر ایک امت بننا ہوگا۔ ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں حسنِ ظن اختیار کرنا ہوگا اور اختلافات کو نفرت اور دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے علمی اور اخلاقی انداز میں برداشت کرنا ہوگا۔

اسلام کی اصل روح یہی ہے کہ انسان اللہ کی بندگی کرے اور اس کی مخلوق کے ساتھ عدل، محبت اور خیر خواہی کا معاملہ کرے۔ اگر مسلمان اس اصول کو اپنی زندگی کا محور بنا لیں تو نہ صرف ان کے باہمی اختلافات کم ہو سکتے ہیں بلکہ وہ دوبارہ دنیا میں عزت اور وقار حاصل کر سکتے ہیں۔

آخر میں یہی سوال ہر صاحبِ فکر انسان کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے: اگر مسلمان ایک دوسرے کو کافر، مشرک اور دشمن سمجھنے لگیں، اگر ان کے درمیان نفرت اور عداوت عام ہو جائے، اور اگر وہ قرآن و سنت کی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر محض فرقہ واریت کو اپنا شعار بنا لیں تو کیا واقعی اسے اسلام کہا جا سکتا ہے؟

یہ سوال دراصل ہر مسلمان کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ اسلام کا حقیقی پیغام اتحاد، اخوت اور انسانیت کی خدمت ہے۔ اگر ہم اس پیغام کو سمجھ لیں اور اس پر عمل کرنا شروع کر دیں تو یقیناً امتِ مسلمہ ایک مرتبہ پھر عزت، اتحاد اور فلاح کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔

Sunday, 21 February 2021

بعثت نبوی ﷺ و نزول دین اسلام کا اصل مقصود انسانیت کی ہدایت و فلاح اور اقامت دین سمجھنے کی ضرورت ہے"*

بعثت نبوی ﷺ اور نزولِ دینِ اسلام کا اصل مقصود انسانیت کی ہدایت و فلاح اور اقامتِ دین

تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں

اللہ ربّ العالمین نے اس کائنات کو عبث اور بے مقصد پیدا نہیں فرمایا بلکہ ہر شے کو ایک حکیمانہ نظام اور واضح مقصد کے تحت وجود بخشا ہے۔ اسی حکمتِ ربانی کے تحت انسان کو بھی تخلیق فرمایا گیا اور اسے اشرف المخلوقات کا مقام عطا کیا گیا۔ قرآن مجید اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انسان کی تخلیق کو احسنِ تقویم قرار دیتا ہے۔ یعنی انسان کو بہترین ساخت، عقلِ سلیم، شعور اور فہم و ادراک کی ایسی نعمتوں سے نوازا گیا جو اسے دیگر مخلوقات پر فضیلت عطا کرتی ہیں۔ یہی عقل و شعور انسان کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ حق و باطل میں امتیاز کرے اور اپنے خالق کی ہدایت کے مطابق اپنی زندگی کو سنوارے۔

انسانی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے اپنے برگزیدہ بندوں، یعنی انبیاء و رسل علیہم الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرمایا۔ روایات کے مطابق تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اس دنیا میں تشریف لائے جنہوں نے مختلف زمانوں اور علاقوں میں انسانیت کو توحید، عدل، اخلاق اور بندگیِ الٰہی کا پیغام پہنچایا۔ ان انبیاء کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مختلف صحائف اور آسمانی کتب بھی نازل فرمائیں، جن میں تورات، زبور اور انجیل نمایاں ہیں۔ ان تمام وحیانی تعلیمات کا بنیادی مقصد انسان کو گمراہی سے نکال کر ہدایت کی راہ دکھانا اور اسے دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہمکنار کرنا تھا۔

نبوت و رسالت کے اسی عظیم سلسلے کا آخری اور کامل مرحلہ اس وقت سامنے آیا جب اللہ ربّ العالمین نے اپنے آخری نبی اور رسول، سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کو رحمةً للعالمین بنا کر بھیجا گیا اور آپ پر جو دین نازل کیا گیا وہ دینِ حق، یعنی اسلام ہے۔ اسلام درحقیقت ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ زندگی ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو محیط ہے۔ یہ دین محض چند عبادات یا مذہبی رسوم کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو عقیدہ، عبادت، اخلاق، معاشرت، معیشت، سیاست اور عدل و انصاف سمیت انسانی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات کو نہ صرف امت تک پہنچایا بلکہ اپنی حیاتِ مبارکہ کے ذریعے ان تعلیمات کو عملی شکل بھی عطا فرمائی۔ آپ ﷺ کی زندگی قرآن مجید کی عملی تفسیر تھی۔ آپ ﷺ نے اپنے جانثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دین کی تعلیم دی، انہیں قرآن و سنت کی حکمت سمجھائی اور ایک ایسا معاشرہ قائم کر کے دکھایا جو عدل، مساوات، اخوت اور اخلاق کی روشن مثال بن گیا۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ سے جو دین سیکھا اسے نہایت دیانت اور اخلاص کے ساتھ آگے منتقل کیا۔ انہوں نے تابعین اور تبع تابعین رحمہم اللہ تک دین کی تعلیمات کو پہنچایا اور قرآن و سنت کی روشنی میں ایک ایسا عظیم تمدن قائم کیا جس نے انسانی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ اسلام کی تعلیمات نے انسانیت کو جہالت، ظلم، ناانصافی، طبقاتی تفریق اور اخلاقی زوال کی تاریکیوں سے نکال کر عدل و مساوات اور علم و ہدایت کے نور سے منور کر دیا۔

بدقسمتی سے تاریخ کے مختلف ادوار میں امتِ مسلمہ بتدریج قرآن و سنت کی اصل روح سے دور ہوتی چلی گئی۔ جب کوئی قوم وحیِ الٰہی کی رہنمائی سے روگردانی کر کے صرف انسانی عقل اور محدود فلسفوں پر اعتماد کرنے لگتی ہے تو اس کے نتیجے میں فکری انتشار، اخلاقی انحطاط اور معاشرتی زوال جنم لیتا ہے۔ یہی کیفیت آج عالمِ اسلام اور پوری دنیا میں مختلف صورتوں میں نمایاں نظر آتی ہے۔

آج انسانیت جن پیچیدہ مسائل اور بحرانوں سے دوچار ہے ان میں اخلاقی انحطاط، معاشی ناانصافی، سماجی عدم توازن، جنگ و فساد اور روحانی خلا شامل ہیں۔ اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو ان تمام مسائل کی جڑ انسان کا اپنے خالق کی ہدایت سے دور ہو جانا ہے۔ قرآن مجید دراصل علمِ الٰہی کا سرچشمہ ہے، اور یہ وہ علم ہے جو انسانی فکر و فلسفہ سے کہیں زیادہ کامل، جامع اور بلند ہے۔ انسانی عقل اپنی جگہ ایک عظیم نعمت ہے، لیکن وہ محدود اور ناقص ہے، جبکہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو کامل علم اور کامل حکمت پر مبنی ہے۔

بعثتِ نبوی ﷺ اور نزولِ قرآن کا اصل مقصد یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ دین زمین پر غالب اور نافذ ہو اور انسان اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اسی کے مطابق ڈھالے۔ اسلام کا پیغام صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ اس میں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد، عدل و انصاف، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے بنیادی اصول بھی شامل ہیں۔ یہی اصول ایک متوازن اور عادل معاشرے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

اگر مسلمان واقعی اپنے معاشروں کی اصلاح اور ترقی چاہتے ہیں تو انہیں قرآن و سنت کی اصل تعلیمات کو سمجھنا اور انہیں اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو سکونِ قلب، فکری استحکام اور معاشرتی عدل کی طرف لے جاتا ہے۔ اسلام کا نظام انسان کو نہ صرف روحانی نجات فراہم کرتا ہے بلکہ ایک ایسا معاشرہ بھی تشکیل دیتا ہے جس میں انصاف، اخوت اور انسانی وقار کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔

آج وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ امتِ مسلمہ بعثتِ نبوی ﷺ اور نزولِ اسلام کے حقیقی مقصد کو دوبارہ سمجھنے کی کوشش کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو منہاجِ نبوی کے مطابق ڈھالیں اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر نافذ کرنے کے لیے سنجیدہ اور مسلسل جدوجہد کریں۔ اگر مسلمان اخلاص، اتحاد اور حکمت کے ساتھ اس راستے کو اختیار کریں تو یقیناً وہ دوبارہ عزت و وقار اور ترقی و سربلندی کی منزل حاصل کر سکتے ہیں۔

اللہ ربّ العالمین سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بعثتِ نبوی ﷺ اور نزولِ قرآن کے اصل مقصد کو صحیح طور پر سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی ہمت دے، اور امتِ مسلمہ کو اتحاد، بصیرت اور ہدایت کی راہ پر گامزن فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Thursday, 10 September 2020

اللہ تعالٰی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے کرنا فرض عین جبکہ اس کے خلاف عمل سنگین گناہ اور بعض صورتوں میں کفر

اللہ تعالٰی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے کرنا فرض عین جبکہ اس کے خلاف عمل سنگین گناہ اور بعض صورتوں میں کفر

ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

اسلام ایک مکمل اور جامع ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی فردی، اجتماعی، معاشرتی اور ریاستی زندگی کے تمام معاملات کے لیے واضح اور قطعی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآن مجید کی متعدد آیات اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتی ہیں کہ مسلمانوں کے باہمی معاملات، تنازعات اور اجتماعی فیصلوں کا اصل معیار اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

"فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا" (النساء: 59)

مفہوم: "پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں اختلاف پیدا ہو جائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو، اگر تم حقیقتاً اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی طریقہ بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی سب سے اچھا ہے۔"

یہ آیت اس بنیادی اصول کو واضح کرتی ہے کہ ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ ہر نزاع اور ہر معاملہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کی طرف رجوع کرکے حل کیا جائے۔ یہی اسلامی عدل و انصاف کی اصل بنیاد ہے۔ اسی حقیقت کو مزید تاکید اور شدت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

"فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتّٰى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا" (النساء: 65)

مفہوم: "پس اے نبی! آپ کے رب کی قسم، یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے باہمی جھگڑوں میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر آپ کے فیصلے پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اسے پوری طرح دل و جان سے تسلیم نہ کر لیں۔"

اس آیت میں ایمان کے تین بنیادی تقاضے بیان کیے گئے ہیں:

اول یہ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فیصلے کا حَکم تسلیم کیا جائے۔

دوم یہ کہ آپ کے فیصلے پر دل میں کوئی تنگی یا اعتراض باقی نہ رہے۔

سوم یہ کہ اسے مکمل اطاعت اور رضا کے ساتھ قبول کیا جائے۔

اسی طرح قرآن مجید ان لوگوں کی شدید مذمت کرتا ہے جو ایمان کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن اپنے تنازعات کے فیصلے کے لیے غیر الٰہی نظاموں کی طرف رجوع کرنا چاہتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا" (النساء: 60)

مفہوم: "کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ اس وحی پر ایمان رکھتے ہیں جو آپ پر نازل ہوئی اور جو آپ سے پہلے نازل ہوئی، مگر وہ چاہتے ہیں کہ اپنے جھگڑوں کا فیصلہ طاغوت کے پاس لے جائیں، حالانکہ انہیں اس کا انکار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور شیطان تو چاہتا ہے کہ انہیں دور کی گمراہی میں مبتلا کر دے۔"

یہاں "طاغوت" سے مراد ہر وہ نظام، قانون یا اختیار ہے جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مقابلے میں فیصلہ کرنے کا دعویٰ کرے۔ اسلام کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ ایک مومن کا دل، فکر اور عمل اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے سامنے مکمل طور پر جھکا ہوا ہونا چاہیے۔

اسی اصول کو مزید وضاحت کے ساتھ سورۃ المائدہ میں بیان کیا گیا ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنزَلَ اللّٰهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ" (المائدہ: 44)

مفہوم: "اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے تو وہی لوگ کافر ہیں۔"

اسی مضمون کو قرآن مجید نے آگے چل کر دو اور تعبیرات کے ساتھ بیان کیا ہے:

"وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنزَلَ اللّٰهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ" (المائدہ: 45)

مفہوم: "اور جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہی لوگ ظالم ہیں۔"

"وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنزَلَ اللّٰهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ" (المائدہ: 47)

مفہوم: "اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہی لوگ نافرمان اور فاسق ہیں۔"

مفسرین نے ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان میں کفر، ظلم اور فسق کی مختلف درجات اور صورتیں مراد ہو سکتی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ بعض صورتوں میں یہ کفرِ اکبر ہوتا ہے جو انسان کو اسلام سے خارج کر دیتا ہے، جبکہ بعض حالات میں یہ کفرِ عملی یا "کفر دون کفر" کے معنی میں ہوتا ہے جو شدید گناہ تو ہے لیکن انسان کو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا۔

اسلامی تاریخ میں اس مسئلے کی ایک مثال تاتاریوں کے زمانے میں بھی سامنے آئی جب انہوں نے چنگیز خان کے مرتب کردہ قوانین کو شریعت کے مقابلے میں نافذ کیا۔ اس صورت حال پر علماء اسلام نے شدید تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ اللہ کے نازل کردہ قانون کی موجودگی میں انسانی قوانین کو اس پر فوقیت دینا نہایت خطرناک فکری انحراف ہے۔

قرآن کریم اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے کہ اصل عدل اور حقیقی انصاف اللہ کے قانون میں ہی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ" (المائدہ: 50)

مفہوم: "کیا یہ لوگ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں؟ حالانکہ یقین رکھنے والوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟"

یہ آیت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جو لوگ اللہ کے قانون کو چھوڑ کر انسانی خواہشات پر مبنی نظاموں کو اختیار کرتے ہیں وہ دراصل جاہلیت کے طرز فکر کی طرف لوٹتے ہیں۔

اسلام کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور انسان کا حقیقی فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام معاملات کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ڈھالے۔ یہی طرز فکر اور یہی عملی رویہ انسان کو دنیا میں عدل و امن اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

لہٰذا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا محور بنائیں، اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی میں اللہ کے احکام کو مقدم رکھیں اور ہر معاملے میں الٰہی ہدایت کو معیار بنائیں۔ یہی راستہ دنیا و آخرت کی فلاح، عزت اور حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔

آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں قرآن و سنت کی صحیح سمجھ عطا فرمائے، ہمیں اپنے احکام کی کامل اطاعت کی توفیق دے، امت مسلمہ کو فکری انتشار اور فرقہ واریت سے محفوظ رکھے، اور ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

(تقریباً 1080