Monday, 17 May 2021

فرقہ پرستی کے بھیانک نتائج اور امت مسلمہ کی حقیقی راہ نجات

فرقہ پرستی کے بھیانک نتائج اور امت مسلمہ کی حقیقی راہ نجات

تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں، کراچی

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس نے انسانیت کے ہر شعبے، ہر معاملے اور ہر فکر و عمل کے لیے رہنمائی فراہم فرمائی ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں امت مسلمہ کی بقا، عزت اور کامیابی کا راز واضح ہے: اتحاد، اخوت، عدل، اور فلاح۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج مسلم دنیا میں سب سے بڑا زہر، سب سے مہلک بیماری فرقہ پرستی ہے، جس نے امت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے اور اسے ذلت، رسوائی، انتشار اور اجتماعی ناکامی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ رب العالمین فرماتا ہے:

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا (آلِ عمران: 103)

مفہوم: "سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔"

یہ آیت امت کے لیے چار بنیادی ستون واضح کرتی ہے: ایمان، تقویٰ، اعتصام باللہ اور اجتماعی وحدت۔ جو امت ان ستونوں پر قائم رہتی ہے، وہ فکری انتشار، گروہی تعصبات اور مسلکی نفرت سے محفوظ رہتی ہے، اور جو انہیں چھوڑتی ہے، وہ انتشار، ضعف، ذلت اور زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔

اسلام: کوئی فرقہ نہیں، کوئی گروہ نہیں

اسلام میں کوئی فرقہ نہیں، اور نہ ہی گروہی شناخت اصل دین پر حاوی ہو سکتی ہے۔ ہر مسلمان ایک عالمی "امة واحدہ" کا فرد ہے، جس کے جسم کے ہر رکن کی حفاظت، پورے جسم کی صحت کے مترادف ہے۔ جو فرد یا گروہ فرقہ پرستی اختیار کرتا ہے، وہ دراصل اللہ تعالٰی کے نازل کردہ دین سے لاتعلقی اختیار کر چکا ہے اور اپنے لیے جہنم کی راہیں کھول رہا ہے۔

فرقہ پرستی نے امت مسلمہ کو ذلت و رسوائی، انتشار، معاشی و معاشرتی زبوں حالی، سیاسی انحطاط اور روحانی پستی کی شدید صورتوں تک پہنچایا ہے۔ اگر یہود، نصاریٰ، کفار یا طاغوتی طاقتیں جمیع وسائل کو یکجا کر کے بھی امت مسلمہ پر غلبہ حاصل کرنا چاہیں، تو فرقہ پرستی کی شدت سے ہونے والے نقصان کا مقابلہ نہ کر سکتیں۔ یہی فرقہ پرستی امت کے اندرونی زہر کا اصل سبب ہے۔

امت کے لیے قرآن کا واضح پیغام

قرآن و سنت بار بار امت کو یاد دلاتے ہیں کہ مسلمان کا اصل معیار ایمان، تقویٰ اور اخلاق ہے، نہ کہ نسلی، لسانی، جغرافیائی یا مسلکی تعصب۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

"مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔"

یہ تعلیم امتِ مسلمہ کے لیے اصول ہے: محبت، رواداری، عدل و انصاف، اور ایک دوسرے کے حقوق و عزت کی حفاظت ہر مسلمان پر واجب ہے۔ جو مسلمان اس اصول سے انحراف کرے، وہ اسلام کے حقیقی پیغام سے دور ہو جاتا ہے۔

تفرقہ پرستی کے اثرات

فرقہ پرستی نہ صرف روحانی اور فکری سطح پر نقصان دہ ہے، بلکہ عملی زندگی میں بھی شدید نتائج مرتب کرتی ہے:

مسلمانوں کے درمیان دشمنی اور عداوت پیدا ہو جاتی ہے، اخوت و محبت کی جگہ حسد و منافرت آ جاتی ہے۔

معاشرتی و سیاسی ڈھانچے کمزور ہو جاتے ہیں، عدل و انصاف کی عملداری متاثر ہوتی ہے، انسانی حقوق پامال ہو جاتے ہیں۔

اقتصادی و معاشرتی ترقی رک جاتی ہے اور ہر فرد کے لیے مساوی مواقع کی فراہمی مشکل ہو جاتی ہے۔

امت کی اجتماعی قوت کمزور ہوتی ہے اور عالمی وقار متاثر ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج امت مسلمہ ہر طرف انتشار، فکری کشمکش اور داخلی و خارجی دباؤ کا شکار ہے۔ جب تک امت قرآن و سنت کی رسی مضبوطی سے تھام کر اعتصام بحبل اللہ پر قائم نہیں ہوتی، نہ ہی داخلی اتحاد بحال ہوگا اور نہ ہی عالمی وقار حاصل ہوگا۔

حل: قرآن و سنت کی طرف رجوع

امت مسلمہ کی بقا اور کامیابی کا واحد راستہ ہے:

قرآن و سنت کی تعلیمات پر مضبوط اعتصام

باہمی خیرخواہی اور اخلاص دل

تقویٰ اور اخلاقی بلندی

اجتماعی نظم و ضبط اور عدل و انصاف

یہی راستہ انسان کو دوزخ کے کنارے سے نکال کر عزت، وقار اور فلاح کی شاہراہ پر لے جاتا ہے۔ قرآن و سنت پر عمل کرتے ہوئے امت اپنے تمام تر مسائل و مصائب سے نجات پا سکتی ہے۔

خلاصۂ کلام

فرقہ پرستی ایک مہلک زہر ہے جو امت مسلمہ کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ اسلام نے ابتداء سے ہی فرقہ بندی اور گروہی تعصب کو حرام قرار دیا ہے۔ امت کی بقا، عزت، امن اور فلاح اسی میں ہے کہ وہ اپنے رب کے بھیجے ہوئے نظام—قرآن و سنت—پر مجتمع ہو جائے، اور فرقہ پرستی سے تائب ہو کر حقیقی اسلامی تعلیمات پر عمل کرے۔

اللہ رب العالمین ہر مسلمان کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ فرقہ پرستی اور گروہی تعصب سے دور رہے، قرآن و سنت کی اصل تعلیمات پر عمل کرے، عدل و انصاف قائم کرے، اور امت مسلمہ کے اتحاد، فلاح اور ترقی کے لیے جدوجہد کرے۔ آمین یا ارحم الراحمین بحق رحمة للعالمين صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

No comments:

Post a Comment