Monday, 17 May 2021

"دین اسلام مکمل طور پر الله تعالٰی کا نازل کردہ ہے"

دینِ اسلام مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے

تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں (المعروف غلام مصطفٰی الراعی)، کراچی

یہ حقیقت مسلّم اور ناقابلِ انکار ہے کہ دینِ اسلام سراسر منزل من اللہ ہے۔ اس کی بنیاد انسانی فکر، فلسفہ یا تجربات پر نہیں بلکہ وحیِ الٰہی پر قائم ہے۔ اللہ ربّ العزت نے قرآنِ مجید کو بطورِ ہدایت نازل فرمایا اور رسولِ اکرم ﷺ کی سنت و سیرت کو اس کا عملی نمونہ قرار دیا۔ اس اعتبار سے اسلام نہ صرف ایک مذہب بلکہ ایک مکمل و جامع ضابطۂ حیات ہے جو انسانی زندگی کے تمام انفرادی اور اجتماعی پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ہے۔

قرآن مجید اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے:

اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا

مفہوم: آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا۔

اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ایک کامل و مکمل نظامِ حیات ہے جس میں کسی اضافے یا کمی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ لہٰذا مسلمان کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے عقائد، اعمال اور اجتماعی زندگی میں قرآن و سنت کو ہی معیار بنائے۔

معاشرے میں فرقہ پرستی کا بڑھتا ہوا رجحان

تاہم ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم نے بتدریج اعمالِ صالحہ کو پسِ پشت ڈال کر فرقہ پرستی اور اکابر پرستی کو اختیار کر لیا ہے۔ قرآن و سنت کی تعلیمات اور ان کے عملی تقاضوں کو نظر انداز کر کے لوگوں نے اپنے اپنے گروہوں اور جماعتوں کی وابستگی کو دین کا معیار سمجھنا شروع کر دیا ہے۔

یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ آخر یہ رجحان کب اور کیسے پیدا ہوا؟ کن اسباب اور عوامل نے اسے پروان چڑھایا؟ اور اس کے نتیجے میں معاشرے میں کون سی خرابیاں پیدا ہوئیں؟

اگر سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس صورتِ حال کے پسِ پشت متعدد عوامل کارفرما ہیں۔ ان میں سے ایک بڑا سبب یہ ہے کہ معاشرے کے بعض مفاد پرست مذہبی، سیاسی اور سماجی عناصر نے اپنے محدود مفادات کے حصول کے لیے لوگوں کو اصل دین سے دور کر دیا۔

منبر و محراب، مساجد و مدارس اور مذہبی تنظیمات جو دراصل ہدایت و اصلاح کے مراکز ہونے چاہییں تھیں، بعض اوقات فرقہ وارانہ نظریات کے فروغ کا ذریعہ بن گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوام الناس قرآن و سنت کے براہِ راست فہم سے محروم ہوتے گئے اور ان کی وابستگی مخصوص شخصیات یا گروہوں کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔

قرآن کا واضح موقف: فرقہ بندی ممنوع ہے

قرآن مجید نے اس طرزِ عمل کو سختی سے منع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَا تَكُونُوا مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا

مفہوم: ان لوگوں میں شامل نہ ہو جاؤ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا اور مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔

یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ دین میں گروہ بندی اور فرقہ سازی اسلام کی روح کے منافی ہے۔ اسلام کا پیغام دراصل وحدت، اخوت اور باہمی خیرخواہی کا پیغام ہے۔

تعاملِ صحابہ: دین کا حقیقی نمونہ

صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا طرزِ عمل اس حوالے سے ہمارے لیے بہترین مثال ہے۔ انہوں نے ہمیشہ قرآن اور سنت کو اپنی زندگی کا محور بنایا۔ اگر کسی مسئلے میں اختلاف پیدا ہو جاتا تو وہ فوراً اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کی طرف رجوع کرتے تھے۔

ان کے نزدیک کسی شخصیت یا گروہ کی وابستگی اصل معیار نہیں تھی بلکہ اصل معیار حق اور دلیل تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے درمیان اختلافات کے باوجود اخوتِ اسلامی اور باہمی احترام قائم رہا۔

ائمۂ امت کا موقف

اسلامی تاریخ کے عظیم ائمہ اور فقہاء نے بھی ہمیشہ یہی تعلیم دی کہ ان کی آراء کو قرآن و سنت پر ترجیح نہ دی جائے۔

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے:

“جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے۔”

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا:

“ہر شخص کی بات لی بھی جا سکتی ہے اور چھوڑی بھی جا سکتی ہے، سوائے رسول اللہ ﷺ کے۔”

یہ اقوال اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اہلِ علم نے بھی خود کو دین کا معیار نہیں بنایا بلکہ قرآن و سنت کو ہی اصل معیار قرار دیا۔

فرقہ پرستی کے نتائج

جب معاشرے میں فرقہ وارانہ تعصبات غالب آ جاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں متعدد خرابیاں جنم لیتی ہیں۔

امت کے اندر اتحاد و اخوت کمزور پڑ جاتی ہے

باہمی خیرخواہی اور تعاون کا جذبہ ختم ہونے لگتا ہے

ایک دوسرے کو کافر، فاسق اور گمراہ قرار دینے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے

دینی مسائل کے بجائے گروہی مفادات کو ترجیح دی جانے لگتی ہے

بالآخر امت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور وہ اجتماعی قوت سے محروم ہو جاتی ہے۔

اصلاحِ احوال کی ضرورت

اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ایمان و عمل کا معیار دوبارہ قرآن و سنت کو بنائیں۔ علماء، خطباء اور دینی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو فرقہ وارانہ تعصبات سے نکال کر اصل اسلامی تعلیمات کی طرف متوجہ کریں۔

اسی طرح تعلیمی نظام میں بھی قرآن و سنت کے حقیقی فہم کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ نئی نسل دین کو براہِ راست اس کے اصل ماخذ سے سمجھ سکے۔

حاصلِ کلام

اسلام دراصل اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ کامل دین ہے جس کا سرچشمہ قرآن اور سنت ہیں۔ اگر مسلمان اپنی زندگی کے ہر شعبے میں انہی کو معیار بنا لیں تو بہت سے اختلافات اور تنازعات خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔

فرقہ واریت اور شخصیت پرستی سے نکل کر وحدتِ امت، اخوتِ اسلامی اور باہمی خیرخواہی کے اصولوں کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو امت کو دوبارہ عزت، اتحاد اور فلاح کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

دعا

اللہ ربّ العالمین ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے، سنتِ رسول ﷺ کی سچی پیروی کرنے اور ہر قسم کی فرقہ واریت و تعصب سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے دلوں کو حق کے لیے کھول دے اور ہمیں صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھے۔

اللّٰهُمَّ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِ الْمُسْلِمِينَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الْمُتَّبِعِينَ لِكِتَابِكَ وَسُنَّةِ نَبِيِّكَ ﷺ۔

اللّٰهُمَّ آمین ثم آمین برحمتک یا أرحم الراحمین۔

فرقہ پرستی کے بھیانک نتائج اور امت مسلمہ کی حقیقی راہ نجات

فرقہ پرستی کے بھیانک نتائج اور امت مسلمہ کی حقیقی راہ نجات

تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں، کراچی

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس نے انسانیت کے ہر شعبے، ہر معاملے اور ہر فکر و عمل کے لیے رہنمائی فراہم فرمائی ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں امت مسلمہ کی بقا، عزت اور کامیابی کا راز واضح ہے: اتحاد، اخوت، عدل، اور فلاح۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج مسلم دنیا میں سب سے بڑا زہر، سب سے مہلک بیماری فرقہ پرستی ہے، جس نے امت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے اور اسے ذلت، رسوائی، انتشار اور اجتماعی ناکامی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ رب العالمین فرماتا ہے:

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا (آلِ عمران: 103)

مفہوم: "سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔"

یہ آیت امت کے لیے چار بنیادی ستون واضح کرتی ہے: ایمان، تقویٰ، اعتصام باللہ اور اجتماعی وحدت۔ جو امت ان ستونوں پر قائم رہتی ہے، وہ فکری انتشار، گروہی تعصبات اور مسلکی نفرت سے محفوظ رہتی ہے، اور جو انہیں چھوڑتی ہے، وہ انتشار، ضعف، ذلت اور زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔

اسلام: کوئی فرقہ نہیں، کوئی گروہ نہیں

اسلام میں کوئی فرقہ نہیں، اور نہ ہی گروہی شناخت اصل دین پر حاوی ہو سکتی ہے۔ ہر مسلمان ایک عالمی "امة واحدہ" کا فرد ہے، جس کے جسم کے ہر رکن کی حفاظت، پورے جسم کی صحت کے مترادف ہے۔ جو فرد یا گروہ فرقہ پرستی اختیار کرتا ہے، وہ دراصل اللہ تعالٰی کے نازل کردہ دین سے لاتعلقی اختیار کر چکا ہے اور اپنے لیے جہنم کی راہیں کھول رہا ہے۔

فرقہ پرستی نے امت مسلمہ کو ذلت و رسوائی، انتشار، معاشی و معاشرتی زبوں حالی، سیاسی انحطاط اور روحانی پستی کی شدید صورتوں تک پہنچایا ہے۔ اگر یہود، نصاریٰ، کفار یا طاغوتی طاقتیں جمیع وسائل کو یکجا کر کے بھی امت مسلمہ پر غلبہ حاصل کرنا چاہیں، تو فرقہ پرستی کی شدت سے ہونے والے نقصان کا مقابلہ نہ کر سکتیں۔ یہی فرقہ پرستی امت کے اندرونی زہر کا اصل سبب ہے۔

امت کے لیے قرآن کا واضح پیغام

قرآن و سنت بار بار امت کو یاد دلاتے ہیں کہ مسلمان کا اصل معیار ایمان، تقویٰ اور اخلاق ہے، نہ کہ نسلی، لسانی، جغرافیائی یا مسلکی تعصب۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

"مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔"

یہ تعلیم امتِ مسلمہ کے لیے اصول ہے: محبت، رواداری، عدل و انصاف، اور ایک دوسرے کے حقوق و عزت کی حفاظت ہر مسلمان پر واجب ہے۔ جو مسلمان اس اصول سے انحراف کرے، وہ اسلام کے حقیقی پیغام سے دور ہو جاتا ہے۔

تفرقہ پرستی کے اثرات

فرقہ پرستی نہ صرف روحانی اور فکری سطح پر نقصان دہ ہے، بلکہ عملی زندگی میں بھی شدید نتائج مرتب کرتی ہے:

مسلمانوں کے درمیان دشمنی اور عداوت پیدا ہو جاتی ہے، اخوت و محبت کی جگہ حسد و منافرت آ جاتی ہے۔

معاشرتی و سیاسی ڈھانچے کمزور ہو جاتے ہیں، عدل و انصاف کی عملداری متاثر ہوتی ہے، انسانی حقوق پامال ہو جاتے ہیں۔

اقتصادی و معاشرتی ترقی رک جاتی ہے اور ہر فرد کے لیے مساوی مواقع کی فراہمی مشکل ہو جاتی ہے۔

امت کی اجتماعی قوت کمزور ہوتی ہے اور عالمی وقار متاثر ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج امت مسلمہ ہر طرف انتشار، فکری کشمکش اور داخلی و خارجی دباؤ کا شکار ہے۔ جب تک امت قرآن و سنت کی رسی مضبوطی سے تھام کر اعتصام بحبل اللہ پر قائم نہیں ہوتی، نہ ہی داخلی اتحاد بحال ہوگا اور نہ ہی عالمی وقار حاصل ہوگا۔

حل: قرآن و سنت کی طرف رجوع

امت مسلمہ کی بقا اور کامیابی کا واحد راستہ ہے:

قرآن و سنت کی تعلیمات پر مضبوط اعتصام

باہمی خیرخواہی اور اخلاص دل

تقویٰ اور اخلاقی بلندی

اجتماعی نظم و ضبط اور عدل و انصاف

یہی راستہ انسان کو دوزخ کے کنارے سے نکال کر عزت، وقار اور فلاح کی شاہراہ پر لے جاتا ہے۔ قرآن و سنت پر عمل کرتے ہوئے امت اپنے تمام تر مسائل و مصائب سے نجات پا سکتی ہے۔

خلاصۂ کلام

فرقہ پرستی ایک مہلک زہر ہے جو امت مسلمہ کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ اسلام نے ابتداء سے ہی فرقہ بندی اور گروہی تعصب کو حرام قرار دیا ہے۔ امت کی بقا، عزت، امن اور فلاح اسی میں ہے کہ وہ اپنے رب کے بھیجے ہوئے نظام—قرآن و سنت—پر مجتمع ہو جائے، اور فرقہ پرستی سے تائب ہو کر حقیقی اسلامی تعلیمات پر عمل کرے۔

اللہ رب العالمین ہر مسلمان کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ فرقہ پرستی اور گروہی تعصب سے دور رہے، قرآن و سنت کی اصل تعلیمات پر عمل کرے، عدل و انصاف قائم کرے، اور امت مسلمہ کے اتحاد، فلاح اور ترقی کے لیے جدوجہد کرے۔ آمین یا ارحم الراحمین بحق رحمة للعالمين صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

کیا یہی اسلام ہے؟

کیا یہی اسلام ہے؟

تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں، کراچی

اسلام دراصل امن، عدل، اخوت اور انسانیت کے احترام کا دین ہے۔ یہ وہ دین ہے جو انسان کو نہ صرف اپنے خالق سے جوڑتا ہے بلکہ انسان کو انسان سے بھی جوڑتا ہے۔ قرآنِ مجید اور سنتِ رسول ﷺ کی تعلیمات اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتی ہیں کہ مسلمان ایک امت ہیں، ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ان کے درمیان باہمی محبت، خیر خواہی اور اتحاد ہونا چاہیے۔ مگر افسوس کے ساتھ یہ سوال آج شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ کیا ہم واقعی اسی اسلام پر عمل پیرا ہیں جس کا پیغام قرآن و سنت نے دیا تھا؟

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ امتِ مسلمہ کو جن بڑے مسائل کا سامنا ہے ان میں سب سے سنگین مسئلہ فرقہ واریت اور گروہی تعصب ہے۔ قرآنِ مجید نے بار بار مسلمانوں کو اتحاد و اجتماعیت کا حکم دیا ہے اور فرقہ بندی سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا (آل عمران: 103)

مفہوم: "اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔"

اسی طرح قرآن مجید ایک اور مقام پر واضح کرتا ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ (الانعام: 159)

مفہوم: "بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور مختلف گروہوں میں بٹ گئے، اے نبی! آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔"

ان آیاتِ مبارکہ سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام فرقہ بندی، گروہی تعصب اور باہمی نفرت کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ بلکہ اسلام کا اصل پیغام اتحاد، اخوت اور باہمی محبت ہے۔

بدقسمتی سے آج امتِ مسلمہ میں فرقہ واریت نے ایسی جڑیں پکڑ لی ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان اخوت اور بھائی چارے کی وہ فضا باقی نہیں رہی جو اسلام کی اصل روح تھی۔ مختلف مسالک اور گروہوں کے پیروکار ایک دوسرے کو کافر، مشرک، فاسق یا گمراہ قرار دینے میں ذرا بھی تامل نہیں کرتے۔ بعض مقامات پر تو یہ نفرت اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو واجب القتل تک قرار دینے لگتا ہے۔

یہ رویہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ اس سے امت کی وحدت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ اسلام نے تو یہ تعلیم دی تھی کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

یہ تعلیمات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اسلام کا اصل مزاج محبت، رواداری اور اخوت ہے۔ لیکن جب مسلمان اپنی اصل تعلیمات سے دور ہو جاتے ہیں اور دین کو مسلکی تعصبات اور گروہی وابستگیوں کی عینک سے دیکھنے لگتے ہیں تو اس کے نتیجے میں وہی صورتحال پیدا ہوتی ہے جس کا ہم آج مشاہدہ کر رہے ہیں۔

فرقہ پرستی نے امتِ مسلمہ کو وہ نقصانات پہنچائے ہیں جن کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ اس نے مسلمانوں کی قوت کو کمزور کیا، انہیں آپس میں تقسیم کیا اور انہیں سیاسی، معاشی اور فکری میدانوں میں پیچھے دھکیل دیا۔ آج مسلمان دنیا کے مختلف خطوں میں جن مشکلات اور مصائب کا شکار ہیں ان کی ایک بڑی وجہ ان کا باہمی انتشار اور اختلافات ہیں۔

اگر امتِ مسلمہ ایک متحد اور منظم قوت کے طور پر سامنے آتی تو شاید دشمن قوتوں کے لیے اس قدر آسان نہ ہوتا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کر سکیں۔ لیکن جب کوئی قوم اندرونی اختلافات کا شکار ہو جائے تو بیرونی قوتوں کے لیے اسے کمزور کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اسلام نے انسانوں کے درمیان اخوت اور مساوات کا ایسا تصور پیش کیا ہے جس کی مثال دنیا کے کسی اور نظام میں نہیں ملتی۔ قرآنِ مجید واضح طور پر اعلان کرتا ہے:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ (الحجرات: 10)

مفہوم: "بے شک تمام مؤمن آپس میں بھائی ہیں۔"

یہ آیت اس بات کی بنیاد فراہم کرتی ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ محبت، احترام اور خیر خواہی کا تعلق رکھیں۔ اسلام کسی بھی ایسے طرزِ فکر کی اجازت نہیں دیتا جو مسلمانوں کے درمیان نفرت اور عداوت کو جنم دے۔

لہٰذا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان سنجیدگی کے ساتھ اپنے طرزِ فکر اور طرزِ عمل کا جائزہ لیں۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی اسلام کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں یا ہم نے دین کو صرف نام اور شناخت تک محدود کر دیا ہے؟

اگر ہم واقعی اسلام کے سچے پیروکار بننا چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن و سنت کی اصل تعلیمات کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ ہمیں مسلکی تعصبات اور گروہی عصبیتوں سے اوپر اٹھ کر ایک امت بننا ہوگا۔ ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں حسنِ ظن اختیار کرنا ہوگا اور اختلافات کو نفرت اور دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے علمی اور اخلاقی انداز میں برداشت کرنا ہوگا۔

اسلام کی اصل روح یہی ہے کہ انسان اللہ کی بندگی کرے اور اس کی مخلوق کے ساتھ عدل، محبت اور خیر خواہی کا معاملہ کرے۔ اگر مسلمان اس اصول کو اپنی زندگی کا محور بنا لیں تو نہ صرف ان کے باہمی اختلافات کم ہو سکتے ہیں بلکہ وہ دوبارہ دنیا میں عزت اور وقار حاصل کر سکتے ہیں۔

آخر میں یہی سوال ہر صاحبِ فکر انسان کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے: اگر مسلمان ایک دوسرے کو کافر، مشرک اور دشمن سمجھنے لگیں، اگر ان کے درمیان نفرت اور عداوت عام ہو جائے، اور اگر وہ قرآن و سنت کی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر محض فرقہ واریت کو اپنا شعار بنا لیں تو کیا واقعی اسے اسلام کہا جا سکتا ہے؟

یہ سوال دراصل ہر مسلمان کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ اسلام کا حقیقی پیغام اتحاد، اخوت اور انسانیت کی خدمت ہے۔ اگر ہم اس پیغام کو سمجھ لیں اور اس پر عمل کرنا شروع کر دیں تو یقیناً امتِ مسلمہ ایک مرتبہ پھر عزت، اتحاد اور فلاح کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔