Saturday, 15 August 2015

اللہ تعالٰی کا دین مکمّل ہے۔ اسلام میں فرقے ہیں اور نہ ہی فرقوں میں اسلام

 اللہ تعالٰی کا دین مکمل ہے۔ اسلام میں فرقے ہیں نہ فرقوں میں اسلام
قرآن مجید کی رسی اور امت کی وحدت
تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا (آلِ عمران: 103)
اور فرمایا:
وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَيِّنٰتُ (آلِ عمران: 105)
یہ آیاتِ کریمہ امتِ مسلمہ کے لیے اصولی منشور کی حیثیت رکھتی ہیں۔ “حبل اللہ” یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم دراصل دینِ اسلام کو اجتماعی اور انفرادی سطح پر مرکزِ حیات بنانے کی دعوت ہے۔ مفسرینِ کرام نے “حبل اللہ” سے مراد قرآن، دینِ اسلام، جماعتِ مسلمین، اور عہدِ الٰہی لیا ہے—اور یہ سب معانی باہم مربوط ہیں، کیونکہ اصل مرجع وحیِ الٰہی ہی ہے۔
اللہ کی نعمت: دشمنی سے اخوت تک
آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس تاریخی حقیقت کی یاد دہانی کرائی کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی۔ یہ اشارہ مدینہ کے دو بڑے قبائل اوس اور خزرج کی طرف ہے، جو بعثتِ نبوی سے قبل طویل عرصہ تک باہمی جنگوں میں مبتلا رہے۔ تاریخ میں بیان ہوتا ہے کہ ان کے درمیان ایک سو بیس سال تک دشمنی کی آگ بھڑکتی رہی۔ مگر جب وہ دعوتِ اسلام سے مشرف ہوئے اور محمد ﷺ کی قیادت میں جمع ہوئے تو وہی قبائل اخوت و محبت کی مثال بن گئے۔
یہ محض سیاسی اتحاد نہ تھا، بلکہ عقیدۂ توحید کی بنیاد پر قلبی انقلاب تھا۔ قرآن نے اسے اللہ کی “نعمت” قرار دیا—کیونکہ یہ اتحاد کسی نسلی، لسانی یا جغرافیائی بنیاد پر نہیں، بلکہ ایمان کی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔
دوزخ کے کنارے سے نجات
آیت کے الفاظ: وَكُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ جاہلی عصبیت، شرک اور قبائلی انتقام نے انہیں ہلاکت کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ اسلام نے انہیں نہ صرف اخروی نجات دی بلکہ دنیاوی تباہی سے بھی بچا لیا۔
یہی مضمون سورۃ الانفال میں مزید وضاحت کے ساتھ آیا:
وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ ۚ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَيْنَهُمْ (الأنفال: 63)
یہ اعلان اس امر کی دلیل ہے کہ حقیقی اتحاد محض وسائل، طاقت یا سیاست سے نہیں آتا؛ وہ صرف اللہ کی اطاعت اور رسول ﷺ کی اتباع سے پیدا ہوتا ہے۔
حدیث کی روشنی میں “حبل اللہ”
صحیح مسلم میں سیدنا زید بن ارقمؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، ایک اللہ کی کتاب جو اللہ کی رسی ہے…” (مسلم، 2408)
اسی طرح صحیح بخاری میں وہ مشہور واقعہ مذکور ہے جس میں ایک مقدمہ کے فیصلے کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا” حالانکہ وہ حکم سنتِ نبوی پر مبنی تھا (بخاری، 6827)۔ اس سے واضح ہوا کہ “کتاب اللہ” کا اطلاق سنت پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ وہ بھی وحیِ الٰہی کا بیان ہے۔
افتراق کا اصل سبب
فرقہ بندی اُس وقت جنم لیتی ہے جب “حبل اللہ” کی مرکزیت کمزور پڑ جاتی ہے اور شخصیتیں، جماعتیں، یا فروعی اختلافات اصل بن جاتے ہیں۔ قرآن نے سخت تنبیہ فرمائی:
اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ (الأنعام: 159)
یہ اعلان اس قدر شدید ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایسے لوگوں سے براءت کا حکم دیا گیا جو دین کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیں۔
امارت اور جماعت کی اہمیت
صحیح احادیث میں جماعت کے ساتھ وابستگی اور امیر کی اطاعت پر بارہا زور دیا گیا ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامتؓ کی روایت (مسلم، 125) میں بیعتِ اطاعت کا ذکر ہے—تنگی و فراخی، خوشی و ناخوشی ہر حال میں۔ اسی طرح سیدنا حذیفہؓ کی روایت (بخاری، 7084؛ مسلم، 1847) میں فتنوں کے دور میں جماعت اور امام کے ساتھ وابستگی کو نجات کا راستہ قرار دیا گیا۔
ان نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ وحدتِ امت محض جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ شرعی فریضہ ہے۔ اختلافِ رائے ہو سکتا ہے، مگر افتراق اور بغاوت کی اجازت نہیں—الا یہ کہ صریح کفر ظاہر ہو جس پر واضح دلیل موجود ہو۔
فروعی اختلاف اور حقیقی وحدت
تاریخِ امت شاہد ہے کہ ائمہ اربعہ کے درمیان فروعی مسائل میں اختلاف کے باوجود باہمی احترام اور علمی وقار قائم رہا۔ یہ اختلاف اتحاد کے منافی نہ تھا، کیونکہ مرجع قرآن و سنت ہی تھے۔ اصل فساد اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب خواہشات، تعصبات اور اقتدار کی حرص دین پر غالب آ جائیں۔
عصرِ حاضر کے لیے پیغام
آج امت مسلمہ لسانی، علاقائی اور سیاسی تقسیم کا شکار ہے۔ دشمن قوتیں انہی تعصبات کو ہوا دے کر وحدتِ اسلامیہ کو کمزور کرتی ہیں۔ قرآن کا پیغام آج بھی وہی ہے: “اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔”
اگر مسلمان قرآن و سنت کو حقیقی معنوں میں مرکز بنائیں، ذاتی و جماعتی مفادات کو دین پر ترجیح نہ دیں، اور تقویٰ و اخلاص کے ساتھ اجتماعی نظم کو قائم کریں تو وہی انقلاب دوبارہ برپا ہو سکتا ہے جو اوس و خزرج کے درمیان ہوا تھا۔
خلاصۂ کلام
اللہ کا دین مکمل ہے؛ اس میں کسی اضافے یا نئے نظام کی حاجت نہیں۔ اسلام ایک ہے—نہ اس میں فرقے ہیں، نہ فرقوں میں اسلام۔ وحدت کی بنیاد قرآن و سنت ہیں؛ افتراق کی جڑ خواہشات اور تعصبات ہیں۔ نجات کا راستہ وہی ہے جو اللہ نے واضح فرمایا: وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُو

No comments:

Post a Comment