Monday, 17 May 2021

کیا یہی اسلام ہے؟

کیا یہی اسلام ہے؟

تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال ارائیں، کراچی

اسلام دراصل امن، عدل، اخوت اور انسانیت کے احترام کا دین ہے۔ یہ وہ دین ہے جو انسان کو نہ صرف اپنے خالق سے جوڑتا ہے بلکہ انسان کو انسان سے بھی جوڑتا ہے۔ قرآنِ مجید اور سنتِ رسول ﷺ کی تعلیمات اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتی ہیں کہ مسلمان ایک امت ہیں، ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ان کے درمیان باہمی محبت، خیر خواہی اور اتحاد ہونا چاہیے۔ مگر افسوس کے ساتھ یہ سوال آج شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ کیا ہم واقعی اسی اسلام پر عمل پیرا ہیں جس کا پیغام قرآن و سنت نے دیا تھا؟

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ امتِ مسلمہ کو جن بڑے مسائل کا سامنا ہے ان میں سب سے سنگین مسئلہ فرقہ واریت اور گروہی تعصب ہے۔ قرآنِ مجید نے بار بار مسلمانوں کو اتحاد و اجتماعیت کا حکم دیا ہے اور فرقہ بندی سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا (آل عمران: 103)

مفہوم: "اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔"

اسی طرح قرآن مجید ایک اور مقام پر واضح کرتا ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَكَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ (الانعام: 159)

مفہوم: "بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور مختلف گروہوں میں بٹ گئے، اے نبی! آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔"

ان آیاتِ مبارکہ سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام فرقہ بندی، گروہی تعصب اور باہمی نفرت کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ بلکہ اسلام کا اصل پیغام اتحاد، اخوت اور باہمی محبت ہے۔

بدقسمتی سے آج امتِ مسلمہ میں فرقہ واریت نے ایسی جڑیں پکڑ لی ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان اخوت اور بھائی چارے کی وہ فضا باقی نہیں رہی جو اسلام کی اصل روح تھی۔ مختلف مسالک اور گروہوں کے پیروکار ایک دوسرے کو کافر، مشرک، فاسق یا گمراہ قرار دینے میں ذرا بھی تامل نہیں کرتے۔ بعض مقامات پر تو یہ نفرت اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو واجب القتل تک قرار دینے لگتا ہے۔

یہ رویہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ اس سے امت کی وحدت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ اسلام نے تو یہ تعلیم دی تھی کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

یہ تعلیمات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اسلام کا اصل مزاج محبت، رواداری اور اخوت ہے۔ لیکن جب مسلمان اپنی اصل تعلیمات سے دور ہو جاتے ہیں اور دین کو مسلکی تعصبات اور گروہی وابستگیوں کی عینک سے دیکھنے لگتے ہیں تو اس کے نتیجے میں وہی صورتحال پیدا ہوتی ہے جس کا ہم آج مشاہدہ کر رہے ہیں۔

فرقہ پرستی نے امتِ مسلمہ کو وہ نقصانات پہنچائے ہیں جن کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ اس نے مسلمانوں کی قوت کو کمزور کیا، انہیں آپس میں تقسیم کیا اور انہیں سیاسی، معاشی اور فکری میدانوں میں پیچھے دھکیل دیا۔ آج مسلمان دنیا کے مختلف خطوں میں جن مشکلات اور مصائب کا شکار ہیں ان کی ایک بڑی وجہ ان کا باہمی انتشار اور اختلافات ہیں۔

اگر امتِ مسلمہ ایک متحد اور منظم قوت کے طور پر سامنے آتی تو شاید دشمن قوتوں کے لیے اس قدر آسان نہ ہوتا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کر سکیں۔ لیکن جب کوئی قوم اندرونی اختلافات کا شکار ہو جائے تو بیرونی قوتوں کے لیے اسے کمزور کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

اسلام نے انسانوں کے درمیان اخوت اور مساوات کا ایسا تصور پیش کیا ہے جس کی مثال دنیا کے کسی اور نظام میں نہیں ملتی۔ قرآنِ مجید واضح طور پر اعلان کرتا ہے:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ (الحجرات: 10)

مفہوم: "بے شک تمام مؤمن آپس میں بھائی ہیں۔"

یہ آیت اس بات کی بنیاد فراہم کرتی ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ محبت، احترام اور خیر خواہی کا تعلق رکھیں۔ اسلام کسی بھی ایسے طرزِ فکر کی اجازت نہیں دیتا جو مسلمانوں کے درمیان نفرت اور عداوت کو جنم دے۔

لہٰذا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان سنجیدگی کے ساتھ اپنے طرزِ فکر اور طرزِ عمل کا جائزہ لیں۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی اسلام کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں یا ہم نے دین کو صرف نام اور شناخت تک محدود کر دیا ہے؟

اگر ہم واقعی اسلام کے سچے پیروکار بننا چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن و سنت کی اصل تعلیمات کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ ہمیں مسلکی تعصبات اور گروہی عصبیتوں سے اوپر اٹھ کر ایک امت بننا ہوگا۔ ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں حسنِ ظن اختیار کرنا ہوگا اور اختلافات کو نفرت اور دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے علمی اور اخلاقی انداز میں برداشت کرنا ہوگا۔

اسلام کی اصل روح یہی ہے کہ انسان اللہ کی بندگی کرے اور اس کی مخلوق کے ساتھ عدل، محبت اور خیر خواہی کا معاملہ کرے۔ اگر مسلمان اس اصول کو اپنی زندگی کا محور بنا لیں تو نہ صرف ان کے باہمی اختلافات کم ہو سکتے ہیں بلکہ وہ دوبارہ دنیا میں عزت اور وقار حاصل کر سکتے ہیں۔

آخر میں یہی سوال ہر صاحبِ فکر انسان کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے: اگر مسلمان ایک دوسرے کو کافر، مشرک اور دشمن سمجھنے لگیں، اگر ان کے درمیان نفرت اور عداوت عام ہو جائے، اور اگر وہ قرآن و سنت کی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر محض فرقہ واریت کو اپنا شعار بنا لیں تو کیا واقعی اسے اسلام کہا جا سکتا ہے؟

یہ سوال دراصل ہر مسلمان کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ اسلام کا حقیقی پیغام اتحاد، اخوت اور انسانیت کی خدمت ہے۔ اگر ہم اس پیغام کو سمجھ لیں اور اس پر عمل کرنا شروع کر دیں تو یقیناً امتِ مسلمہ ایک مرتبہ پھر عزت، اتحاد اور فلاح کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔

Sunday, 21 February 2021

بعثت نبوی ﷺ و نزول دین اسلام کا اصل مقصود انسانیت کی ہدایت و فلاح اور اقامت دین سمجھنے کی ضرورت ہے"*

بعثت نبوی ﷺ اور نزولِ دینِ اسلام کا اصل مقصود انسانیت کی ہدایت و فلاح اور اقامتِ دین

تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں

اللہ ربّ العالمین نے اس کائنات کو عبث اور بے مقصد پیدا نہیں فرمایا بلکہ ہر شے کو ایک حکیمانہ نظام اور واضح مقصد کے تحت وجود بخشا ہے۔ اسی حکمتِ ربانی کے تحت انسان کو بھی تخلیق فرمایا گیا اور اسے اشرف المخلوقات کا مقام عطا کیا گیا۔ قرآن مجید اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انسان کی تخلیق کو احسنِ تقویم قرار دیتا ہے۔ یعنی انسان کو بہترین ساخت، عقلِ سلیم، شعور اور فہم و ادراک کی ایسی نعمتوں سے نوازا گیا جو اسے دیگر مخلوقات پر فضیلت عطا کرتی ہیں۔ یہی عقل و شعور انسان کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ حق و باطل میں امتیاز کرے اور اپنے خالق کی ہدایت کے مطابق اپنی زندگی کو سنوارے۔

انسانی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے اپنے برگزیدہ بندوں، یعنی انبیاء و رسل علیہم الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرمایا۔ روایات کے مطابق تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اس دنیا میں تشریف لائے جنہوں نے مختلف زمانوں اور علاقوں میں انسانیت کو توحید، عدل، اخلاق اور بندگیِ الٰہی کا پیغام پہنچایا۔ ان انبیاء کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مختلف صحائف اور آسمانی کتب بھی نازل فرمائیں، جن میں تورات، زبور اور انجیل نمایاں ہیں۔ ان تمام وحیانی تعلیمات کا بنیادی مقصد انسان کو گمراہی سے نکال کر ہدایت کی راہ دکھانا اور اسے دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہمکنار کرنا تھا۔

نبوت و رسالت کے اسی عظیم سلسلے کا آخری اور کامل مرحلہ اس وقت سامنے آیا جب اللہ ربّ العالمین نے اپنے آخری نبی اور رسول، سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کو رحمةً للعالمین بنا کر بھیجا گیا اور آپ پر جو دین نازل کیا گیا وہ دینِ حق، یعنی اسلام ہے۔ اسلام درحقیقت ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ زندگی ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو محیط ہے۔ یہ دین محض چند عبادات یا مذہبی رسوم کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو عقیدہ، عبادت، اخلاق، معاشرت، معیشت، سیاست اور عدل و انصاف سمیت انسانی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات کو نہ صرف امت تک پہنچایا بلکہ اپنی حیاتِ مبارکہ کے ذریعے ان تعلیمات کو عملی شکل بھی عطا فرمائی۔ آپ ﷺ کی زندگی قرآن مجید کی عملی تفسیر تھی۔ آپ ﷺ نے اپنے جانثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دین کی تعلیم دی، انہیں قرآن و سنت کی حکمت سمجھائی اور ایک ایسا معاشرہ قائم کر کے دکھایا جو عدل، مساوات، اخوت اور اخلاق کی روشن مثال بن گیا۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ سے جو دین سیکھا اسے نہایت دیانت اور اخلاص کے ساتھ آگے منتقل کیا۔ انہوں نے تابعین اور تبع تابعین رحمہم اللہ تک دین کی تعلیمات کو پہنچایا اور قرآن و سنت کی روشنی میں ایک ایسا عظیم تمدن قائم کیا جس نے انسانی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ اسلام کی تعلیمات نے انسانیت کو جہالت، ظلم، ناانصافی، طبقاتی تفریق اور اخلاقی زوال کی تاریکیوں سے نکال کر عدل و مساوات اور علم و ہدایت کے نور سے منور کر دیا۔

بدقسمتی سے تاریخ کے مختلف ادوار میں امتِ مسلمہ بتدریج قرآن و سنت کی اصل روح سے دور ہوتی چلی گئی۔ جب کوئی قوم وحیِ الٰہی کی رہنمائی سے روگردانی کر کے صرف انسانی عقل اور محدود فلسفوں پر اعتماد کرنے لگتی ہے تو اس کے نتیجے میں فکری انتشار، اخلاقی انحطاط اور معاشرتی زوال جنم لیتا ہے۔ یہی کیفیت آج عالمِ اسلام اور پوری دنیا میں مختلف صورتوں میں نمایاں نظر آتی ہے۔

آج انسانیت جن پیچیدہ مسائل اور بحرانوں سے دوچار ہے ان میں اخلاقی انحطاط، معاشی ناانصافی، سماجی عدم توازن، جنگ و فساد اور روحانی خلا شامل ہیں۔ اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو ان تمام مسائل کی جڑ انسان کا اپنے خالق کی ہدایت سے دور ہو جانا ہے۔ قرآن مجید دراصل علمِ الٰہی کا سرچشمہ ہے، اور یہ وہ علم ہے جو انسانی فکر و فلسفہ سے کہیں زیادہ کامل، جامع اور بلند ہے۔ انسانی عقل اپنی جگہ ایک عظیم نعمت ہے، لیکن وہ محدود اور ناقص ہے، جبکہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو کامل علم اور کامل حکمت پر مبنی ہے۔

بعثتِ نبوی ﷺ اور نزولِ قرآن کا اصل مقصد یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ دین زمین پر غالب اور نافذ ہو اور انسان اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اسی کے مطابق ڈھالے۔ اسلام کا پیغام صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ اس میں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد، عدل و انصاف، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے بنیادی اصول بھی شامل ہیں۔ یہی اصول ایک متوازن اور عادل معاشرے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

اگر مسلمان واقعی اپنے معاشروں کی اصلاح اور ترقی چاہتے ہیں تو انہیں قرآن و سنت کی اصل تعلیمات کو سمجھنا اور انہیں اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو سکونِ قلب، فکری استحکام اور معاشرتی عدل کی طرف لے جاتا ہے۔ اسلام کا نظام انسان کو نہ صرف روحانی نجات فراہم کرتا ہے بلکہ ایک ایسا معاشرہ بھی تشکیل دیتا ہے جس میں انصاف، اخوت اور انسانی وقار کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔

آج وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ امتِ مسلمہ بعثتِ نبوی ﷺ اور نزولِ اسلام کے حقیقی مقصد کو دوبارہ سمجھنے کی کوشش کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو منہاجِ نبوی کے مطابق ڈھالیں اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر نافذ کرنے کے لیے سنجیدہ اور مسلسل جدوجہد کریں۔ اگر مسلمان اخلاص، اتحاد اور حکمت کے ساتھ اس راستے کو اختیار کریں تو یقیناً وہ دوبارہ عزت و وقار اور ترقی و سربلندی کی منزل حاصل کر سکتے ہیں۔

اللہ ربّ العالمین سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بعثتِ نبوی ﷺ اور نزولِ قرآن کے اصل مقصد کو صحیح طور پر سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی ہمت دے، اور امتِ مسلمہ کو اتحاد، بصیرت اور ہدایت کی راہ پر گامزن فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Thursday, 10 September 2020

اللہ تعالٰی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے کرنا فرض عین جبکہ اس کے خلاف عمل سنگین گناہ اور بعض صورتوں میں کفر

اللہ تعالٰی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے کرنا فرض عین جبکہ اس کے خلاف عمل سنگین گناہ اور بعض صورتوں میں کفر

ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

اسلام ایک مکمل اور جامع ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی فردی، اجتماعی، معاشرتی اور ریاستی زندگی کے تمام معاملات کے لیے واضح اور قطعی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآن مجید کی متعدد آیات اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتی ہیں کہ مسلمانوں کے باہمی معاملات، تنازعات اور اجتماعی فیصلوں کا اصل معیار اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

"فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا" (النساء: 59)

مفہوم: "پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں اختلاف پیدا ہو جائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو، اگر تم حقیقتاً اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی طریقہ بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی سب سے اچھا ہے۔"

یہ آیت اس بنیادی اصول کو واضح کرتی ہے کہ ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ ہر نزاع اور ہر معاملہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کی طرف رجوع کرکے حل کیا جائے۔ یہی اسلامی عدل و انصاف کی اصل بنیاد ہے۔ اسی حقیقت کو مزید تاکید اور شدت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

"فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتّٰى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا" (النساء: 65)

مفہوم: "پس اے نبی! آپ کے رب کی قسم، یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے باہمی جھگڑوں میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر آپ کے فیصلے پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اسے پوری طرح دل و جان سے تسلیم نہ کر لیں۔"

اس آیت میں ایمان کے تین بنیادی تقاضے بیان کیے گئے ہیں:

اول یہ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فیصلے کا حَکم تسلیم کیا جائے۔

دوم یہ کہ آپ کے فیصلے پر دل میں کوئی تنگی یا اعتراض باقی نہ رہے۔

سوم یہ کہ اسے مکمل اطاعت اور رضا کے ساتھ قبول کیا جائے۔

اسی طرح قرآن مجید ان لوگوں کی شدید مذمت کرتا ہے جو ایمان کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن اپنے تنازعات کے فیصلے کے لیے غیر الٰہی نظاموں کی طرف رجوع کرنا چاہتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا" (النساء: 60)

مفہوم: "کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ اس وحی پر ایمان رکھتے ہیں جو آپ پر نازل ہوئی اور جو آپ سے پہلے نازل ہوئی، مگر وہ چاہتے ہیں کہ اپنے جھگڑوں کا فیصلہ طاغوت کے پاس لے جائیں، حالانکہ انہیں اس کا انکار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور شیطان تو چاہتا ہے کہ انہیں دور کی گمراہی میں مبتلا کر دے۔"

یہاں "طاغوت" سے مراد ہر وہ نظام، قانون یا اختیار ہے جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مقابلے میں فیصلہ کرنے کا دعویٰ کرے۔ اسلام کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ ایک مومن کا دل، فکر اور عمل اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے سامنے مکمل طور پر جھکا ہوا ہونا چاہیے۔

اسی اصول کو مزید وضاحت کے ساتھ سورۃ المائدہ میں بیان کیا گیا ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنزَلَ اللّٰهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ" (المائدہ: 44)

مفہوم: "اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے تو وہی لوگ کافر ہیں۔"

اسی مضمون کو قرآن مجید نے آگے چل کر دو اور تعبیرات کے ساتھ بیان کیا ہے:

"وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنزَلَ اللّٰهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ" (المائدہ: 45)

مفہوم: "اور جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہی لوگ ظالم ہیں۔"

"وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنزَلَ اللّٰهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ" (المائدہ: 47)

مفہوم: "اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہی لوگ نافرمان اور فاسق ہیں۔"

مفسرین نے ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان میں کفر، ظلم اور فسق کی مختلف درجات اور صورتیں مراد ہو سکتی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ بعض صورتوں میں یہ کفرِ اکبر ہوتا ہے جو انسان کو اسلام سے خارج کر دیتا ہے، جبکہ بعض حالات میں یہ کفرِ عملی یا "کفر دون کفر" کے معنی میں ہوتا ہے جو شدید گناہ تو ہے لیکن انسان کو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا۔

اسلامی تاریخ میں اس مسئلے کی ایک مثال تاتاریوں کے زمانے میں بھی سامنے آئی جب انہوں نے چنگیز خان کے مرتب کردہ قوانین کو شریعت کے مقابلے میں نافذ کیا۔ اس صورت حال پر علماء اسلام نے شدید تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ اللہ کے نازل کردہ قانون کی موجودگی میں انسانی قوانین کو اس پر فوقیت دینا نہایت خطرناک فکری انحراف ہے۔

قرآن کریم اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے کہ اصل عدل اور حقیقی انصاف اللہ کے قانون میں ہی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ" (المائدہ: 50)

مفہوم: "کیا یہ لوگ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں؟ حالانکہ یقین رکھنے والوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟"

یہ آیت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جو لوگ اللہ کے قانون کو چھوڑ کر انسانی خواہشات پر مبنی نظاموں کو اختیار کرتے ہیں وہ دراصل جاہلیت کے طرز فکر کی طرف لوٹتے ہیں۔

اسلام کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور انسان کا حقیقی فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام معاملات کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ڈھالے۔ یہی طرز فکر اور یہی عملی رویہ انسان کو دنیا میں عدل و امن اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

لہٰذا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا محور بنائیں، اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی میں اللہ کے احکام کو مقدم رکھیں اور ہر معاملے میں الٰہی ہدایت کو معیار بنائیں۔ یہی راستہ دنیا و آخرت کی فلاح، عزت اور حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔

آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں قرآن و سنت کی صحیح سمجھ عطا فرمائے، ہمیں اپنے احکام کی کامل اطاعت کی توفیق دے، امت مسلمہ کو فکری انتشار اور فرقہ واریت سے محفوظ رکھے، اور ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

(تقریباً 1080 

Monday, 18 May 2020

بلا سودی نظامِ معیشت اور قرآن و سنت پر مبنی نظامِ مصطفٰی ﷺ: ضرورت، اہمیت اور ناگزیریت

بلاسودی نظامِ معیشت اور قرآن و سنت پر مبنی نظامِ مصطفٰی ﷺ: ضرورت، اہمیت اور ناگزیریت
تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
اسلام ایک ہمہ گیر اور کامل ضابطۂ حیات ہے جو انسانی زندگی کے ہر شعبے، عقیدہ، عبادت، اخلاق، معاشرت، سیاست اور معیشت وغیرہم کے لیے واضح اور جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآن مجید اس حقیقت کو بار بار واضح کرتا ہے کہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حقیقی استحکام اسی وقت ممکن ہے جب وہ اپنے تمام معاملات میں وحیِ الٰہی کی رہنمائی کو اختیار کرے۔ ارشادِ باری تعالٰی ہے: “اور آپ ان کے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالٰی نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں” (المائدہ: 49)۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ انسانی معاشرے کے نظامِ عدل، سیاست اور معیشت سمیت تمام معاملات میں اللہ تعالٰی کے نازل کردہ اصول ہی حتمی معیار ہونے چاہئیں۔
معیشت انسانی معاشرے کا بنیادی ستون ہے۔ اگر معاشی نظام عدل، دیانت اور توازن پر قائم ہو تو معاشرہ امن و خوشحالی کی طرف بڑھتا ہے، لیکن اگر معیشت ظلم، استحصال اور ناانصافی پر مبنی ہو تو اس کے اثرات پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ اسی حقیقت کے پیشِ نظر اسلام نے سود (ربا) کو قطعی طور پر حرام قرار دیا اور بلاسودی معیشت کو عدل و انصاف کے ساتھ جوڑا ہے۔
قرآن مجید سود کو محض ایک معاشی برائی قرار نہیں دیتا بلکہ اسے اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف قرار دیتا ہے۔ سورۃ البقرہ میں ارشاد ہے:
فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (البقرۃ: 279)
مفہوم:
“پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا (یعنی سود چھوڑ نہ دیا) تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔ اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لیے تمہارا اصل سرمایہ ہے، نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔” (البقرہ: 279)۔ اس آیت کا مفہوم اور اسلام کی معاشی تعلیمات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ نہ کوئی شخص دوسروں پر ظلم کرے اور نہ خود ظلم کا شکار ہو۔ بلاسودی نظامِ معیشت دراصل اسی اصولِ عدل کی عملی شکل ہے۔
اسلامی معاشی فکر میں سود اور تجارت کے درمیان ایک بنیادی فرق بیان کیا گیا ہے۔ سود دراصل محض رقم کے تبادلے سے پیدا ہونے والا اضافہ ہے، جبکہ تجارت میں منافع حقیقی معاشی سرگرمی اور اشیاء کے تبادلے سے حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا گیا۔ تجارت میں محنت، خطرہ اور ذمہ داری شامل ہوتی ہے، جب کہ سود میں بغیر کسی حقیقی معاشی سرگرمی کے دولت میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سودی نظام معیشت معاشی عدم توازن، طبقاتی تفاوت اور استحصالی ڈھانچے کو جنم دیتا ہے۔
عصر حاضر میں عالمی معاشی نظام کی حقیقت بھی اسی کی تصدیق کرتی ہے۔ دنیا کے بڑے مالیاتی ادارے اور عالمی قرضہ جاتی نظام ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کے بوجھ تلے دباتے چلے جا رہے ہیں۔ نتیجتاً معیشت کا بڑا حصہ سودی ادائیگیوں میں صرف ہو جاتا ہے اور عوامی فلاح کے منصوبے پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلامی معاشی نظام شراکت داری، منافع و نقصان کی تقسیم اور حقیقی معاشی سرگرمیوں پر مبنی ہوتا ہے، جس میں سرمایہ اور محنت دونوں کو برابر کی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
پاکستان میں بلاسودی معیشت کے قیام کے لیے علمی اور تحقیقی سطح پر قابلِ قدر کام ہو چکا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے مختلف ادوار میں سودی نظام کے خاتمے اور اس کے متبادل اسلامی مالیاتی ڈھانچے کے بارے میں مفصل سفارشات مرتب کی ہیں۔ اسی طرح عدالتِ عظمیٰ پاکستان نے بھی اپنے تاریخی فیصلوں میں سود کے خاتمے کی ضرورت اور آئینی تقاضوں کو واضح کیا ہے۔ تاہم افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان سفارشات اور فیصلوں کے باوجود عملی سطح پر پیش رفت سست اور محدود رہی ہے۔
اس تعطل کی ایک بڑی وجہ فکری اور عملی سطح پر وہ اختلافات ہیں جنہوں نے مسلم معاشروں کو کمزور کر رکھا ہے۔ فقہی اور مسلکی اختلافات علمی دنیا میں ہمیشہ موجود رہے ہیں اور ان کا وجود بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ اختلافات اجتماعی مقاصد کے حصول میں رکاوٹ بن جائیں۔ قرآن و سنت پر مبنی عادلانہ نظامِ معیشت اور نظامِ عدل کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر کے علماء اور اہلِ دانش فروعات میں اختلاف کے باوجود بنیادی اصولوں پر اتحاد پیدا کریں۔
اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان اپنے بنیادی اصولوں پر متحد ہوئے تو انہوں نے نہ صرف علمی اور تہذیبی میدان میں بلکہ معاشی اور سیاسی میدان میں بھی عظیم کامیابیاں حاصل کیں۔ لیکن جب باہمی اختلافات غالب آ گئے تو ان کی قوت منتشر ہو گئی۔ اس لیے آج کے دور میں سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ قرآن و سنت کی بنیاد پر ایک مشترکہ فکری و عملی لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔
یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ کسی بھی نظام کے نفاذ کے لیے صرف نظریاتی بحث کافی نہیں ہوتی۔ اس کے لیے عوامی شعور، تعلیمی اصلاحات اور مضبوط سیاسی ارادے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ میڈیا، تعلیمی اداروں اور مساجد کو اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ عوام کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ بلاسودی نظامِ معیشت کوئی خیالی یا غیر عملی تصور نہیں بلکہ ایک ایسا متوازن معاشی ماڈل ہے جو عدل، استحکام اور سماجی فلاح کو یقینی بنا سکتا ہے۔
اسی طرح سیاست دانوں اور پالیسی سازوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ قرآن و سنت پر مبنی معاشی اصول محض مذہبی جذبات کا اظہار نہیں بلکہ ایک ایسا عملی نظام ہے جو معاشی استحکام، سماجی انصاف اور قومی خودمختاری کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ جب تک ریاستی سطح پر سنجیدہ اور مخلصانہ سیاسی ارادہ پیدا نہیں ہوتا، اس وقت تک بلاسودی نظامِ معیشت کے قیام کی کوششیں مکمل طور پر نتیجہ خیز نہیں ہو سکتیں۔
آج پاکستان سمیت پوری دنیا شدید معاشی بحرانوں، بڑھتی ہوئی غربت اور معاشی عدم توازن کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں اسلام کی معاشی تعلیمات نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک متوازن اور عادلانہ متبادل فراہم کرتی ہیں۔ بلاسودی نظامِ معیشت دراصل اسی عادلانہ معاشی فکر کا مظہر ہے جو استحصال کے بجائے تعاون، اور ظلم کے بجائے انصاف کو فروغ دیتا ہے۔
اس مقصد کے حصول کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں: مکاتبِ فکر کے درمیان فکری ہم آہنگی اور اتحاد کو فروغ دیا جائے، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو عملی قانون سازی کی شکل دی جائے، عدالتی فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، تعلیمی نصاب میں اسلامی معاشی فکر کو شامل کیا جائے، اور میڈیا کے ذریعے عوامی شعور کو بیدار کیا جائے۔
آخر میں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ قرآن و سنت پر مبنی نظامِ عدل و معیشت کا قیام محض ایک سیاسی یا معاشی منصوبہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور ایمانی ذمہ داری بھی ہے۔ جب ایک معاشرہ عدل، دیانت اور اجتماعی خیر کے اصولوں کو اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نصرت اور برکت اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کی صحیح فہم عطا فرمائے اور ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی توفیق بخشے جو عدل، دیانت اور انسانی فلاح کے اعلٰی اصولوں پر قائم ہو۔

(الفاظ: تقریباً 1100)

بچوں کو اردو پڑھائیں

ہمیں چاہیئے کہ اپنے بچوں کو ان کی مادری زبان، اپنی قومی زبان اردو بولنا، لکھنا، پڑھنا، سمجھنا سکھائیں، اپنے گھروں، دفاتر، کام کاروبار کے مقامات اور مدارس (سکولز) میں تمام امور و معاملات کو اردو میں نمٹائیں، اردو اور دیگر مقامی و علاقائی زبانوں کو پورے عزم و استقلال کے ساتھ ہر سطح پر رائج کریں اود انہیں فخر و اعتماد سے انگریزی زبان پر ترجیح و فوقیت اور اولیت دیں، اپنے تعارف نامے، دعوت نامے، گھروں پر ناموں کی تختیاں، تمام تر خط و کتابت وغیرہ میں اردو زبان کو اختیار کریں اور بجا طور پر یہ فخر کی بات ہے۔
اس ضمن میں ہمیں مضبوط و مستحکم قوت ارادی، مستقل مزاجی اور خوداعتمادی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قومی تعمیر و ترقی کی جانب ہمارے تیزی سے قدم آگے بڑھ سکیں، ہمیں انگریزی زبان میں مہارت کو تعلیم یافتہ ہونے کا معیار سمجھنے کی روش ترک کر دینی چاہیئے کیونکہ انگریزی زبان بھی اردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، پوٹھوہاری، کشمیری وغیرہ متعدد زبانوں میں سے محض ایک زبان ہی ہے، کوئی علم و ہنر یا امتیازی فن، عقل و شعور، فہم و فراست، علم و دانش، ذہانت و فطانت کا معیار ہر گز نہیں ہے، شکریہ!
(پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں)

تعلیمی زبون حالی

*"اُردُو زُبان کے عروج و زوال کی فکر انگیز داستان غم"*
 *اس شرمناک زوال و بتدریج انحطاط کا ذمہ دار کون ہے؟*

یہ 1971ء کی بات ہے جب مدرسہ کو اسکول بنا دیا گیا تھا۔ ۔ ۔ ۔۔
لیکن ابھی تک انگریزی زبان کی اصطلاحات دورانِ تعلیم استعمال نہیں ہوتی تھیں۔ صرف انگریزی کے چند الفاظ ہی مستعمل تھے، تمام نجی تعلیمی اداروں کو قومیا لیا تھا جسے بعد ازان نیشنلائزڈ قرار دے دیا گیا، اردو زبان میں شائڈ ہونے والے اخبارات بھی اردو لغات و اصناف ادب سے مستغنی ہونے کی روش اپنانے لگے، پھر رفتہ رفتہ اردو الفاظ کی جگہ انگریزی الفاظ مستعمل ہونے لگے، حلانکہ 1970 تک ابھی اردو کا اس طرح زوال شروع نہیں ہوا تھا
مثلا":
ہیڈ ماسٹر،
فِیس،
فیل،
پاس وغیرہ
 "گنتی" ابھی "کونٹنگ" میں تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ اور "پہاڑے" ابھی "ٹیبل" نہیں کہلائے تھے۔

60 کی دھائی میں چھوٹے بچوں کو نام نہاد پڑھے لکھے گھروں میں "خدا حافظ" کی جگہ "ٹاٹا" سکھایا جاتا اور مہمانوں کے سامنے بڑے فخر سے معصوم بچوں سے "ٹاٹا" کہلوایا جاتا۔
زمانہ آگے بڑھا، مزاج تبدیل ہونے لگے۔
 عیسائی مشنری سکولوں کی دیکھا دیکھی کچھ نجی (پرائیوٹ) سکولوں نے انگلش میڈیم کی پیوند کاری شروع کی۔
 سالانہ امتحانات کے موقع پر کچھ نجی (پرائیویٹ) سکولوں میں پیپر جبکہ سرکاری سکول میں پرچے ہوا کرتے تھے۔ پھر کہیں کہیں استاد کو سر کہا جانے لگا- اور پھر آہستہ آہستہ سارے اساتذہ ٹیچرز بن گئے۔
 پھر عام بول چال میں غیر محسوس طریقے سے اردو کا جو زوال شروع ہوا وہ اب تو نہایت تیزی سے جاری ہے۔

اب تو یاد بھی نہیں کہ کب جماعت، کلاس میں تبدیل ہوگئی- اور جو ہم جماعت تھے وہ کب کلاس فیلوز بن گئے۔

ہمیں بخوبی یاد ہے کہ 50 اور 60 کی دھائی میں؛ اول، دوم، سوم، چہارم، پنجم، ششم، ہفتم، ہشتم، نہم اور دہم، جماعتیں ہوا کرتی تھیں، اور کمروں کے باہر لگی تختیوں پر اسی طرح لکھا ہوتا تھا۔
پھر ان کمروں نے کلاس روم کا لباس اوڑھ لیا-
اور فرسٹ سے ٹینتھ کلاس کی نیم پلیٹس لگ گئیں۔
 تفریح کی جگہ ریسیس اور بریک کے الفاظ استعمال ہونے لگے۔
گرمیوں کی چھٹیوں یا تعطیلات موسم گرما اور سردیوں کی چھٹیوں یا تعطیلات موسم سرما کی جگہ سمر ویکیشن اور وِنٹر ویکیشن آ گئیں۔
 چھٹیوں کا کام چھٹیوں کا کام نہ رہا بلکہ ہولیڈے پریکٹس ورک ہو گیا۔
 پہلے پرچے شروع ہونے کی تاریخ آتی تھی اب پیپرز کی ڈیٹ شیٹ آنے لگی۔
امتحانات کی جگہ ایگزامز ہونے لگے-
 ششماہی اور سالانہ امتحانات کی جگہ فرسٹ ٹرم، مڈ ٹرم اور فائینل ایگزامز کی اصطلاحات آگئیں-
 اب طلباء امتحان دینے کیلیے امتحانی مرکز نہیں جاتے بلکہ سٹوڈنٹس ایگزام کیلیے ایگزامینیشن سینٹر جاتے ہیں۔
قلم،
دوات،
سیاہی،
تختی، اور
سلیٹ
 جیسی اشیاء گویا میوزیم میں رکھ دی گئیں ان کی جگہ لَیڈ پنسل، جیل پین اور بال پین آگئے- کاپیوں پر نوٹ بکس کا لیبل ہوگیا-
نصاب کو کورس کہا جانے لگا
 اور اس کورس کی ساری کتابیں بستہ کے بجائے بیگ میں رکھ دی گئیں۔
ریاضی کو میتھس کہا جانے لگا۔
 اسلامیات اسلامک سٹڈی بن گئی- انگریزی کی کتاب انگلش بک بن گئی- اسی طرح طبیعیات، فزکس میں، حیاتیات بیولوجی اور معاشیات، اکنامکس میں، سماجی علوم، سوشل سائنس میں تبدیل ہوگئے-
پہلے طلبہ پڑھائی کرتے تھے اب اسٹوڈنٹس سٹڈی کرنے لگے۔
پہاڑے یاد کرنے والوں کی اولادیں ٹیبل یاد کرنے لگیں۔
 اساتذہ کیلیے میز اور کرسیاں لگانے والے، ٹیچرز کے لیے ٹیبل اور چئیرز لگانے لگے۔
داخلوں کی بجائے ایڈمشنز ہونے لگے۔.... اول، دوم، اور سوم آنے والے طلبہ؛ فرسٹ، سیکنڈ، اور تھرڈ آنے والے سٹوڈنٹس بن گئے۔
پہلے اچھی کارکردگی پر انعامات ملا کرتے تھے پھر پرائز ملنے لگے۔
بچے تالیاں پیٹنے کی جگہ چیئرز اور کلیپنگ کرنے لگے۔
 یہ سب کچھ سرکاری سکولوں میں ہوا ہے
اور تعلیمی اداروں کا رونا ہی کیوں رویا جائے، ہمارے گھروں میں بھی اردو کو یتیم اولاد کی طرح ایک کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔
زنان خانہ اور مردانہ تو کب کے ختم ہو گئے۔ خواب گاہ کی البتہ موجودگی لازمی ہے تو اسے ہم نے بیڈ روم کا نام دے دیا۔
باورچی خانہ کچن بن گیا اور اس میں پڑے برتن کراکری کہلانے لگے۔
غسل خانہ پہلے باتھ روم ہوا پھر ترقی کر کے واش روم بن گیا۔
 مہمان خانہ یا بیٹھک کو اب ڈرائنگ روم کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔
مکانوں میں زمینی یا فرشی منزل کو گراؤنڈ فلور ،پہلی منزل کو فرسٹ فلور کا نام دے دیا گیا اور دوسری منزل کو سیکنڈ فلور۔
 دروازہ ڈور کہلایا جانے لگا، پہلے مہمانوں کی آمد پر گھنٹی بجتی تھی اب ڈور بیل بجنے لگی۔
 کمرے روم بن گئے۔ کپڑے الماری کی بجائے کپبورڈ میں رکھے جانے لگے۔
"ابو جی" یا "ابا جان" جیسا پیارا اور ادب سے بھرپور لفظ دقیانوسی لگنے لگا، اور ہر طرف ڈیڈی، ڈیڈ، پاپا، پپّا، پاپے کی گردان لگ گئی حالانکہ پہلے تو پاپے(رس) صرف کھانے کے لئے ہوا کرتے تھے اور اب بھی کھائے ہی جاتے ہیں-
اسی طرح شہد کی طرح میٹھا لفظ "امی" یا امی جان  "ممی" اور مام میں تبدیل ہو گیا۔
سب سے زیادہ نقصان رشتوں کی پہچان کا ہوا۔
 چچا، چچی، تایا، تائی، ماموں ممانی، پھوپھا، پھوپھی، خالو خالہ سب کے سب ایک غیر ادبی اور بے احترام سے لفظ "انکل اور آنٹی" میں تبدیل ہوگئے۔
 بچوں کے لیے ریڑھی والے سے لے کر سگے رشتہ دار تک سب انکل بن گئے۔
 یعنی محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔
ساری عورتیں آنٹیاں، چچا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد بہنیں اور بھائی سب کے سب کزنس میں تبدیل ہوگئے، نہ رشتے کی پہچان رہی اور نہ ہی جنس کی۔
نہ جانے ایک نام تبدیلی کے زد سے کیسے بچ گیا ۔ ۔ ۔ گھروں میں کام کرنے والی خواتین پہلے بھی ماسی کہلاتی تھیں اب بھی ماسی ہی ہیں۔
گھر اور سکول میں اتنی زیادہ تبدیلیوں کے بعد بازار انگریزی کی زد سے کیسے محفوظ رہتے۔
 دکانیں شاپس میں تبدیل ہو گئیں اور ان پر گاہکوں کی بجائے کسٹمرز آنے لگے، آخر کیوں نہ ہوتا کہ دکان دار بھی تو سیلز مین بن گئے جس کی وجہ سے لوگوں نےخریداری چھوڑ دی اور شاپنگ کرنے لگے۔
سڑکیں روڈز بن گئیں۔
 کپڑے کا بازار کلاتھ مارکیٹ بن گئی، یعنی کس ڈھب سے مذکر کو مونث بنادیا گیا۔
کریانے کی دکان نے جنرل اسٹور کا روپ دھار لیا،
 نائی نے باربر بن کر حمام بند کردیا اور ہیئر کٹنگ سیلون کھول لیا۔
ایسے ماحول میں دفاتر بھلا کہاں بچتے۔ پہلے ہمارا دفتر ہوتا تھا جہاں مہینے کے مہینے تنخواہ ملا کرتی تھی، وہ اب آفس بن گیا اور منتھلی سیلری ملنے لگی ہے اور جو کبھی صاحب تھے وہ باس بن گئے ہیں،
بابو کلرک اور چپراسی پِیئون بن گئے۔
 پہلے دفتر کے نظام الاوقات لکھے ہوتے تھے اب آفس ٹائمنگ کا بورڈ لگ گیا-
سود جیسے قبیح فعل کو انٹرسٹ کہا جانے لگا۔ دلے دلال، طوائفیں، کنجر اور کنجریاں آرٹسٹ اور سٹارز بن گئے
 اور محبت کو 'لَوّ' کا نام دے کر محبت کی ساری چاشنی اور تقدس ہی چھین لیا گیا۔
 صحافی رپورٹر بن گئے اور اخبارات میں خبریں پڑھنے سننے کے بجائے ہم نیوز پیپرز کے ریڈرز بن گئے
کس کس کا اور کہاں کہاں کا رونا رویا جائے۔ آوے کا آوا ہی بگڑ گیا ہے۔
اردو زبان کے زوال کی صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں، عام آدمی تک نے اس میں حتی المقدور حصہ لیا ہے اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ ہم نے اپنی خوبصورت زبان اردو کا حلیہ مغرب سے مرعوب ہو کر کیسے بگاڑ لیا ہے۔
 وہ الفاظ جو اردو زبان میں پہلے سے موجود ہیں اور مستعمل بھی ہیں ان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کے الفاظ کو استعمال کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں
وائے ناکامیِ متاع کارواں جاتا رہا
 کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
ہم کہاں سے کہاں آگئے اورکہاں جاتے جا رہے ہیں؟
 دوسروں کا کیا رونا روئیں، ہم خود ہی اس کے ذمہ دار ہیں. دوسرا کوئی نہیں۔
 بہت سے اردو الفاظ کو ہم نے انگریزی قبرستان میں مکمل دفن کر دیا ہے اور مسلسل دفن کرتے جا رہے ہیں. اور روز بروز یہ عمل تیزتر ہوتا جا رہا ہے۔
*روکیے، لله روکیے،*
 *ارود کو مکمل زوال پزیر ہونے سے روکیے اور اسے مکمل ڈوبنے سے بچانے کی کوشش کیجئے ۔*
اگر آپ مناسب سمجھیں تو قوم کو بیدار کرنے کی خاطر اس تحریر کو شیئر کریں.
*ملاحظہ: قومیں اپنی قومی زبان کو پروان چڑھا کر ہی ترقی کرتی ہیں۔ موجودہ زمانے کا یہی سکہ بند اصول ہے۔ جرمنی، فرانس، ناروے، جاپان اور چین و روس سمیت دیگر تمام تر تروی یافتہ اقوام عالم اس کی زندہ مثال و ثبوت پیش کرتی ہیں کہ غیر ملکی زبان کو ذریعہ تعلیم بنا اور اس کی ذھنی غلامی اختیار کر کے آج تک دنیا بھر میں کسی بھی قوم و ملک اور معاشرے نے کبھی ماضی و حال میں ترقی کی ہے اور نہ مستقبل میں کبھی ایسا ہونا ممکن ہے!
(پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں, کراچی)

Saturday, 8 July 2017

تعمیل کس کی؟ حُکمِ اِلٰہ یا حکمِ الناس؟

تعمیل کس کی؟ حُکمِ اللہ یا حُکمِ الناس؟
تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
اسلام ایک ایسا دین ہے جو اپنے ماخذ اور اساس کے اعتبار سے خالصتاً وحیِ الٰہی پر مبنی ہے۔ اس کا علم نہ کسی فلسفی کے ذہن کی پیداوار ہے اور نہ کسی قوم کے اجتماعی تجربات کا نتیجہ؛ بلکہ یہ وہ دین ہے جو براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور جسے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے امت تک پہنچایا۔ اسی حقیقت کو قرآن کریم نے بار بار واضح کیا ہے کہ دین کا اصل معیار کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ ہیں، نہ کہ کسی فرد، جماعت یا فرقے کے اکابرین کی آراء۔
بدقسمتی سے تاریخِ امت کے بعض ادوار میں ایسا ہوا کہ فرقہ پرستی اور اکابر پرستی نے دین کے اس خالص سرچشمے پر گرد ڈالنے کی کوشش کی۔ بہت سے لوگ اپنے اپنے فرقوں کے اکابرین کی آراء کو اس حد تک مقدس سمجھنے لگے کہ اگر قرآن و سنت کی صریح نصوص بھی ان کے خلاف پیش کی جائیں تو وہ انہیں قبول کرنے کے بجائے یہ کہہ دیتے ہیں: “کیا ہمارے آباء و اجداد اور اکابر ہم سے زیادہ دیندار اور سمجھدار نہ تھے؟”۔ یہی طرزِ فکر دراصل وہ فکری بیماری ہے جسے قرآن مجید نے جاہلیت کے رویّے سے تعبیر کیا ہے۔
قرآن کا اصول: حق کا معیار وحی ہے
قرآن کریم واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ حق کی بنیاد اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا
مفہوم: جو کچھ رسول تمہیں دیں اسے لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ۔
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ
مفہوم: اپنے رب کی طرف سے نازل کردہ ہدایت کی پیروی کرو اور اس کے سوا دوسروں کی پیروی نہ کرو۔
ان آیات سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ مسلمان کے لیے اصل مرجع وحی ہے۔ کسی عالم، محدث، فقیہ یا بزرگ کی رائے اسی وقت قابلِ قبول ہے جب وہ قرآن و سنت کے مطابق ہو۔
آباء و اجداد کی اندھی تقلید کی مذمت
قرآن مجید نے بارہا اس ذہنیت کو رد کیا ہے کہ صرف اس وجہ سے کسی عمل کو صحیح سمجھ لیا جائے کہ ہمارے آباء و اجداد اسے کرتے آئے ہیں۔ مشرکینِ مکہ بھی یہی دلیل پیش کرتے تھے۔ قرآن میں ہے:
إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ
مفہوم: ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔
قرآن نے اس استدلال کو جاہلیت قرار دیتے ہوئے واضح فرمایا کہ اگر آباء و اجداد ہدایت سے محروم ہوں تو ان کی پیروی کوئی دلیل نہیں بنتی۔ اس اصول کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کسی بھی فرقے یا مکتب فکر کے اکابر کی بات حتمی معیار نہیں ہو سکتی۔
تعاملِ صحابہ: اصل معیار کی مثال
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ مقدس جماعت ہے جس نے دین کو براہِ راست رسول اللہ ﷺ سے سیکھا۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ اگر کسی مسئلے میں اختلاف ہو جاتا تو وہ فوراً قرآن اور سنت کی طرف رجوع کرتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک مشہور قول ہے:
“قریب ہے کہ تم پر آسمان سے پتھر برسیں، میں کہتا ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور تم کہتے ہو کہ فلاں اور فلاں نے کہا۔”
یہ قول اس بات کی روشن مثال ہے کہ صحابہ کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مقابلے میں کسی کی رائے کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔
ائمہ محدثین و فقہاء کا موقف
اسلامی تاریخ کے عظیم ائمہ نے بھی ہمیشہ یہی تعلیم دی کہ ان کی رائے کو قرآن و سنت پر ترجیح نہ دی جائے۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے۔”
امام مالک رحمہ اللہ نے مسجد نبوی میں فرمایا:
“ہر شخص کی بات لی بھی جا سکتی ہے اور چھوڑی بھی جا سکتی ہے، سوائے اس ہستی کے جو اس قبر میں آرام فرما ہے۔”
اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کی طرف اشارہ کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا:
“جب میری رائے حدیث کے خلاف ہو تو میری رائے کو دیوار پر مار دو۔”
یہ اقوال واضح کرتے ہیں کہ اہل سنت کے ائمہ بھی اپنی آراء کو وحی کے مقابلے میں قطعی حجت نہیں سمجھتے تھے۔
فرقہ پرستی کا نقصان
فرقہ پرستی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے امت کے اندر دین کے اصل ماخذ سے دوری پیدا ہو جاتی ہے۔ جب ہر جماعت اپنے اکابر کو معیار بنا لیتی ہے تو قرآن و سنت کی مشترک بنیاد کمزور ہو جاتی ہے اور امت مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔
قرآن مجید نے اس خطرے سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا:
وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا
مفہوم: ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور مختلف گروہ بن گئے۔
یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ فرقہ واریت دراصل دین کے اصل پیغام سے انحراف کا نتیجہ ہے۔
دین میں اصل معیار: وحی اور اسوۂ نبوی ﷺ
اسلام کا حقیقی پیغام یہی ہے کہ مسلمان اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اسوۂ رسول ﷺ کو معیار بنائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے رسول اللہ ﷺ کی زندگی کو “اسوۂ حسنہ” قرار دیا ہے۔
صحابہ کرام نے اسی اصول کو اپنایا اور یہی وجہ تھی کہ ان کی زندگیوں میں دین کی عملی تصویر نظر آتی تھی۔ اگر آج امت دوبارہ اسی اصول کو اختیار کر لے تو فرقہ واریت کی بڑی حد تک اصلاح ممکن ہے۔
خلاصۂ کلام
اس پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان کی وفاداری کسی فرقے یا شخصیت کے ساتھ نہیں بلکہ قرآن و سنت کے ساتھ ہونی چاہیے۔ علماء اور اکابر کا احترام اپنی جگہ ضروری ہے، مگر ان کی آراء کو وحی کے مقابلے میں قطعی حجت سمجھ لینا درست نہیں۔
اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ
“حکم اللہ سب سے بلند ہے اور اسی کی اطاعت اصل دین ہے۔”
لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اپنے ایمان اور عمل کا معیار صرف قرآن، سنت اور تعاملِ صحابہ کو بنائیں، فرقہ وارانہ تعصبات سے اوپر اٹھیں اور امت کی وحدت اور اصلاح کے لیے خالص دینی فکر کو اپنائیں۔
دعا
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے، سنت رسول ﷺ کی سچی پیروی کرنے اور ہر قسم کی فرقہ واریت و تعصب سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے دلوں کو حق کے لیے کھول دے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کو اپنی زندگی کا حقیقی معیار بناتے ہیں۔
اللّٰہم اَرِنَا الحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا البَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ۔
اللّٰہم وَحِّدْ صُفُوفَ المُسْلِمِیْنَ وَأَصْلِحْ أَحْوَالَهُمْ وَاجْعَلْنَا مِنَ المُتَّبِعِیْنَ لِکِتَابِکَ وَسُنَّةِ نَبِیِّکَ ﷺ۔ اللّٰہم آمین ثم آمین یا رب العالمین۔