Wednesday, 22 March 2023

مصارف زکوٰۃ: فریضہ، نظام یا محض رسمی کارروائی؟ (قسط اوّل)

مصارفِ زکوٰۃ: فریضہ، نظام یا محض رسمی کارروائی؟

(قسط اوّل)

از قلم: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

زکوٰۃ اسلام کا بنیادی ستون ہے، مگر ہمارے ہاں یہی ستون سب سے زیادہ کھوکھلا کر دیا گیا ہے۔ ہم زکوٰۃ دیتے ضرور ہیں، مگر قرآن کے مطابق نہیں۔ کہیں بینکوں کی جبری کٹوتی، کہیں نمائشی تقسیم، اور کہیں فائلوں میں دفن رقوم—یہ سب کچھ ہے، مگر وہ نظام نہیں جو قرآن چاہتا ہے۔

قرآن اعلان کرتا ہے:

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ… فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ (التوبہ: 60)

یہ آیت صاف بتاتی ہے کہ زکوٰۃ کوئی اختیاری نیکی نہیں، بلکہ فرضِ قطعی ہے، اور اس کے مصارف بھی اللہ نے خود مقرر کر دیے ہیں۔ فقیر، مسکین، عاملین، مؤلّفۃ القلوب، غلاموں کی آزادی، مقروض، فی سبیل اللہ اور مسافر—بس یہی آٹھ راستے ہیں۔

فقہاءِ احناف کے مطابق ان میں سے کسی ایک مصرف میں زکوٰۃ دے دی جائے تو فرض ادا ہو جاتا ہے۔ یہ شریعت کی سہولت ہے، مگر ہم نے اسی سہولت کو لاپرواہی میں بدل دیا۔

سب سے پہلا حق فقیر اور مسکین کا ہے، مگر یہی سب سے زیادہ نظر انداز ہیں۔ ہمارے شہروں میں بھوک خاموش ہے، مگر زکوٰۃ شور کے ساتھ غائب ہو جاتی ہے۔

عاملینِ زکوٰۃ کو زکوٰۃ سے اجرت دینا قرآن کی اجازت ہے، مگر آج یہی اجازت بدعنوانی کا لائسنس بن چکی ہے۔ زکوٰۃ جمع بھی زبردستی، خرچ بھی مرضی سے—یہ شریعت نہیں، استحصال ہے۔

جب ریاست زکوٰۃ کو نہ شرعی طریقے سے وصول کرے اور نہ مستحق تک پہنچائے تو فقہ واضح ہے: صاحبِ نصاب خود زکوٰۃ تقسیم کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ہوش مند لوگ سرکاری نظام سے کنارہ کش ہیں۔

یہاں بنی ہاشم پر زکوٰۃ کی حرمت یاد رکھنا ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے زکوٰۃ کو لوگوں کے مال کا میل کچیل قرار دیا اور اپنی ذات و خاندان کو اس سے الگ رکھا۔ سوال یہ ہے: کیا ہم زکوٰۃ کو واقعی پاک فریضہ سمجھتے بھی ہیں؟

اصل سوال یہی ہے:

ہم زکوٰۃ ادا کر رہے ہیں،

یا صرف فرض اتار رہے ہیں؟

Friday, 10 March 2023

ہمارے جمیع مسائل و مصائب کا حل اسلامی آئین (قرآن و سنۃ) کے نفاذ میں ہے

 ہمارے جمیع مسائل و مصائب کا حل اسلامی آئین (قرآن و سنۃ) کے نفاذ میں ہے


تحریر: پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں بانی صدر، تحریک نفاذ آئین، قرآن س سنۃ پاکستان


عنوان بالا پر چند قابل عمل و اہم تجاویز پیش خدمت ہیں:

1) پاکستان کے متفقہ اسلامی آئین کے تمام تر آرٹیکلز، سب آرٹیکلز پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے عملاً قرآن و سنت کے احکامات کے مؤثر نفاذ و غلبے اور بالادستی کو یقینی بنایا جائے. 2) قرآن و سنت کے احکامات کے منافی بعض آرٹیکلز کو ترامیم کے ذریعے ممتاز علماء کرام کی مشاورت سے قرآن و سنت کے مطابق بنایا جائے۔ 3) سرمایہ دارانہ، استیصالی، ظالمانہ و غیر منصفانہ سودی نظام معیشت و معاشرت و سیاست کو جڑ سے ختم کیا جائے۔ 4) کفایت شعاری کو ہر سطح پر اختیار کیا جائے۔ 5) تعلیم و صحت کے بجٹ کو دو گنا کیا جائے۔ 6) دفاعی بجت سے غیر جنگی اخراجات میں پچاس فیصد کٹوتی کی جائے. 7) ججز و جنرلز سمیت تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و الاؤنسز، مراعات و سہولیات میں یکسانیت پیدا کی جائے۔ 8)  ہر سرکاری ملازم کو اس کے گریڈ کے مطابق ریٹائرمنٹ پر گھر بنانے کےلیے مقررہ سائز کے پلاٹس دیئے جائیں یا ججز و جنرلز سمیت کسی کو بھی کوئی پلاٹ نہ دیا جائے۔  9) قابل کاشت زرعی و زرخیز زمینوں کو زیر تعمیر ڈی ایچ ایز سمیت تمام ہاؤسنگ پروجیکٹس سے واگزار کروا کے کاشتکاروں کو دے دی جائے۔ 10) سرکاری زمینیں جن کو قابل کاشت بنایا جا سکتا ہو، وہ سولہ ایکڑ فی خاندان بے زمین کسانوں، ہاریوں، مزارعوں کو مفت الاٹ کر دی جائیں۔ 11) انہیں قابل کاشت بنانے کےلیے سولہ تا بتیس لاکھ روپے، قرض حسنہ بیس سالہ کےلیے دیا جائے جو دس سال گزرنے کے بعد اگلے دس سالوں کے دوران مساوی ششماہی یا سالانہ اقساط میں واپس لیا جائے۔ 12) قابل کاشت و زیر کاشت زرعی اراضی پر ہاؤسنگ پروجیکٹس بنانے پر مستقل پابندی عائد کی جائے. 13) ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس، گورنر ہاؤسز، چیف منسٹر ہاؤسز، چیف سیکریٹری ہاؤسز، آئی جی ہاؤسز، کمشنر ہاؤسز، چیف آف آرمی سٹاف ہاؤس، کور کمانڈرز ہاؤسز کے بجٹ میں پچاس فیصد کٹوتی کی جائے۔ 14) تمام ہاؤسز کو فروخت کر دیا جائے، ان سب کےلیے، شہروں سے باہر اور چھاؤنیوں میں، ایک کینال دو کینال، تین اور چار کینال پر مناسب و موزوں نئے ہاؤسز ازسر نو تعمیر کر دییے جائیں۔ 15) 18تا 45 سال تک کی عمر کے غریب و مفلس اور نادار لوگوں کو مختلف فنون بالکل مفت سکھا کر اپنے اپنے فن کے مطابق ذاتی کام کاروبار شروع کرنے کےلیے پانچ تا دس سال کےلیے قرض حسنہ دیا جائے، جس کو وہ اپنے نئے شروع کیے ہوئے کام کاروبار کی بچت سے سہ ماہی یا ششماہی اقساط میں واپس کرنے کے پابند ہوں۔ 16) پانچ تا سولہ سال کی عمر کے تمام پاکستانی بچوں، طلباء و طالبات کی مفت،۔ معیاری، بامقصد تعلیم و تربیت کو بہر صورت یقینی بنایا جائے. 17) سرکاری سکولوں کو اپ گریڈ کر کے پہلی تا بارہویں جماعت، ہائر سیکنڈری سکول بنایا جائے ان میں معیار تعلیم و تربیت اور جمیع سہولیات کو بہترین پرائیویٹ سکول کے برابر بلکہ ان سے بہتر بنائے جانے کو یقینی بنایا جائے. 18) روز مرہ استعمال کی ضروری اشیاء و اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں عام آدمی کےلیے پچاس فیصد تک کمی کو بہر صورت یقینی بنائی جائے. 19) غیر ضروری یعنی اشیاء تعیش کی درآمدات کی حوصلہ شکنی کےلیے ان پر کسٹم ڈیوٹی بڑھائی جائے اور پاکستانی اناج و غلے، تازہ پھلوں سمیت دیگر مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کی ہر ممکن کوشش کی جائے، برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کےلیے انہیں وسائل کے مطابق مناسب مراعات دی جائیں۔ 20) نظام عدل و انصاف میں با مقصد و نتیجہ خیز اصلاحات کی جائیں، غریب و امیر طاقتور و کمزور ہر فرد کو بلاتخصیص و امتیاز اور بغیر کسی تفریق کے فوری و مفت اور یکساں و مساوی انصاف کی آسان ترین فراہمی کو یقینی بنایا جائے، بغرض مذکور ہر شہر و قصبے، گاؤں و چک اور آبادی و علاقے میں قاضی عدالتیں قائم کی جائیں۔ 21) بلدیاتی حکومتوں کو باقاعدہ و منظم، مؤثر، فعال، بامقصد، نتیجہ خیز و فعال اور با اختیار بنایا جائے. 22) تمام تر قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق اور ان کے تابع بنایا جائے اور اسلامی حدود کو عملاً نافذ العمل بنایا جائے. 23) تمام مساجد و مدارس دینیہ عربیہ کو سرکاری تحویل میں لیا جائے اور ان میں قرآن و سنت و اسوۃ حسنۃ، تاریخ اسلام، فقہ سمیت تمام علوم دینیہ متداولہ کی یکساں تعلیم دی جائے فرقہ واریت کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جائے۔ 24) ائمہ مساجد، خطباء و مدرسین کو ان کی تعلیمی اہلیت و ذمہ داریوں کی مناسبت سے، قومی خزانے سے تنخواہیں ادا کی جائیں۔ 25) مساجد و مدارس سے فرقہ وارانہ چھاپ بالکل ختم کر دی جائے۔ فرقہ وارانہ مذہبی شناختی علامات کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے۔  26) سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی بہترین دیکھ بھال، نگہداشت، تیمار داری، مفت علاج و معالجے، ادویات کی مفت فراہمی سمیت دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کو بہتر و یقینی بنایا جائے۔ 27) ہر سطح پر اراکین پارلیمنٹ، وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، ججز، جنرلز، سول و ملٹری بیوروکریٹس کےلیے مفت سفری سہولیات، مفت پیٹرول، مفت بجلی سمیت جمیع مراعات و اخراجات کو نصف کر دیا جائے۔

28) آئین کی تشریح اور سیاسی نوعیت کے تنازعات کے حل کا حق پارلیمنٹ کو یا سپریم کورٹ کے تمام تر ججز پر مشتمل فل بنچ کو تفویض کرنے کےلیے متعلقہ رولز، قوانین میں ضروری ترامیم کی جائیں۔ 29) ہر نوعیت کی کرپشن، جعل سازی، ناقص مصنوعات، ملاوٹ، ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، رشوت ستانی، کمیشن، کک بیکس کو سنگین جرم قرار دیا جائے اور ان الزامات پر مبنی کیسز کا فیصلہ 90 روز میں سنانے کو لازم قرار دینے کےلیے ضروری و درکار قانون سازی کی جائے۔ 30) ہتک عزت defamation قوانین کو مغربی و یورپیئن ممالک کی طرز پر استوار کیا جائے تاکہ بد نیتی پر مبنی جھوٹے، من گھڑت، بے بنیاد الزام تراشی و بہتان طرازی کی روش کا معاشرے سے قلع قمع کیا جا سکے۔ قوی امید ہے کہ ان تیس تجاویز پر مخلصانہ و سنجیدہ عملدرآمد سے ملک و معاشرے میں اصلاحات کا اچھا آغاز کیا جا سکتا ہے۔

معاشی استحکام، سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں

معاشی استحکام، سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں، بانی صدر، تحریک نفاذ آئین، قرآن و سنت پاکستان


اس حقیقت سے کسی طور بھی انحراف نہیں کیا جا سکتا کہ اس وقت پاکستان بہت بدترین معاشی بحران کا شکار ہے، مفلس و نادار، غریب و محنت کش، عام پاکستانیوں کی بڑی اکثریت دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنے سے بھی عاری ہے، مہنگائی جو پہلے ہی بہت زیادہ ہے روز مرہ استعمال کی اشیاء خورد و نوش عام پاکستانیوں کی پہنچ سے باہر ہیں اس پر مستزاد یہ کہ منی بجٹ کے ذریعے مہنگائی میں مزید ہوشربا اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے، درپیش صورتحال کا ایمانداری و دیانتداری کے ساتھ جائزہ لینا ز بس ضروری ہے کہ اس غربت و افلاس، مہنگائی و روز گاری کے اصل اسباب و عوامل اور محرکات کیا ہیں؟

عوام کی بڑی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ موجودہ مشکل ترین معاشی صورتحال سیاست میں جنرلز و ججز کی غیر آئینی و غیر قانونی، مجرمانہ مداخلت کا فطری و لازمی نتیجہ ہے چنانچہ جن جنرلز نے دفاعی بجٹ اور ففتھ جنریشن وار کے نام پر قومی خزانے سے ہزارہا ارب روپے سالانہ لے کر پروجیکٹ عمران خائن پر خرچ کر دیئے، (PML (N اور PPP وغیرہما، قومی سیاسی و دینی جماعتوں اور قائدین کے خلاف بے بنیاد، من گھڑت و لغو، جھوٹے پروپگنڈے، کردار کشی کی مہمات پر خرچ کروائے اور عدلیہ کے بعض ججز کو استعمال کر کے ان کے خلاف بد نیتی پر مبنی جھوٹے، بے بنیاد الزامات لگوا کر انہیں نا اہل کروایا گیا، قید و جرمانے کی غلط و ناجائز سزائیں دلوائی گئیں، RTS بٹھا کر دھونس و دھمکی اور خوف کے ذریعے PTI مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بالجبر و بلیک میلنگ کے ذریعے PTI میں شامل کروایا گیا، بے انتہاء پری پول و پوسٹ پول رگنگ و دھاندلی کروائی گئی، تاکہ جنرلز و ججز کے مشترکہ پروجیکٹ عمران خائن کو قوم و ملک پر زبردستی مسلط کیا جا سکے، قومی خزانے سے کھربوں روپے خرچ کر کے قوم کے اکثر لوگوں کو بدتمیزی کرنے، مغلظات بکنے، بداخلاقی و بدتہذیبی، آئین شکنی، الزام تراشی و بہتان طرازی کے رویوں کا عادی بنایا گیا، ان سارے کرتوتوں کے ذمہ دار تمام عناصر بلا شبہ قومی مجرم ہیں، ان سب کے خلاف آئین پاکستان کے آرٹیکل 6 اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت سنگین غداری و دیگر جرائم کے مقدمات درج کر کے ان سب کو بلاتاخیر گرفتار کر کے متعلقہ عدالتوں سے قرار واقعی و عبرتناک سزائیں دلوانا، ان سب کے اثاثوں کی چھان بین کرنا اور ناجائز و لوٹی ہوئی دولت سے بنائے گئے اثاثوں کو بحق سرکار ضبط کرنا، نیز آئین، قرآن و سنت کے مکمل و مؤثر نفاذ و بالادستی کو یقینی بنانا اور آئندہ جنرلز و ججز کو ایسے ناکام و تباہ کن تجربے و پروجیکٹس شروع کرنے سے روکنا نہایت ضروری ہے، بصورت دیگر ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کی کوئی بھی کوشش کامیاب ہونا بہت مشکل بلکہ نا ممکن ہے۔