Sunday, 21 February 2021

بعثت نبوی ﷺ و نزول دین اسلام کا اصل مقصود انسانیت کی ہدایت و فلاح اور اقامت دین سمجھنے کی ضرورت ہے"*

بعثت نبوی ﷺ اور نزولِ دینِ اسلام کا اصل مقصود انسانیت کی ہدایت و فلاح اور اقامتِ دین

تحریر: ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں

اللہ ربّ العالمین نے اس کائنات کو عبث اور بے مقصد پیدا نہیں فرمایا بلکہ ہر شے کو ایک حکیمانہ نظام اور واضح مقصد کے تحت وجود بخشا ہے۔ اسی حکمتِ ربانی کے تحت انسان کو بھی تخلیق فرمایا گیا اور اسے اشرف المخلوقات کا مقام عطا کیا گیا۔ قرآن مجید اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انسان کی تخلیق کو احسنِ تقویم قرار دیتا ہے۔ یعنی انسان کو بہترین ساخت، عقلِ سلیم، شعور اور فہم و ادراک کی ایسی نعمتوں سے نوازا گیا جو اسے دیگر مخلوقات پر فضیلت عطا کرتی ہیں۔ یہی عقل و شعور انسان کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ حق و باطل میں امتیاز کرے اور اپنے خالق کی ہدایت کے مطابق اپنی زندگی کو سنوارے۔

انسانی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے اپنے برگزیدہ بندوں، یعنی انبیاء و رسل علیہم الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرمایا۔ روایات کے مطابق تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اس دنیا میں تشریف لائے جنہوں نے مختلف زمانوں اور علاقوں میں انسانیت کو توحید، عدل، اخلاق اور بندگیِ الٰہی کا پیغام پہنچایا۔ ان انبیاء کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مختلف صحائف اور آسمانی کتب بھی نازل فرمائیں، جن میں تورات، زبور اور انجیل نمایاں ہیں۔ ان تمام وحیانی تعلیمات کا بنیادی مقصد انسان کو گمراہی سے نکال کر ہدایت کی راہ دکھانا اور اسے دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہمکنار کرنا تھا۔

نبوت و رسالت کے اسی عظیم سلسلے کا آخری اور کامل مرحلہ اس وقت سامنے آیا جب اللہ ربّ العالمین نے اپنے آخری نبی اور رسول، سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کو رحمةً للعالمین بنا کر بھیجا گیا اور آپ پر جو دین نازل کیا گیا وہ دینِ حق، یعنی اسلام ہے۔ اسلام درحقیقت ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ زندگی ہے جو انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو محیط ہے۔ یہ دین محض چند عبادات یا مذہبی رسوم کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو عقیدہ، عبادت، اخلاق، معاشرت، معیشت، سیاست اور عدل و انصاف سمیت انسانی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات کو نہ صرف امت تک پہنچایا بلکہ اپنی حیاتِ مبارکہ کے ذریعے ان تعلیمات کو عملی شکل بھی عطا فرمائی۔ آپ ﷺ کی زندگی قرآن مجید کی عملی تفسیر تھی۔ آپ ﷺ نے اپنے جانثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دین کی تعلیم دی، انہیں قرآن و سنت کی حکمت سمجھائی اور ایک ایسا معاشرہ قائم کر کے دکھایا جو عدل، مساوات، اخوت اور اخلاق کی روشن مثال بن گیا۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ سے جو دین سیکھا اسے نہایت دیانت اور اخلاص کے ساتھ آگے منتقل کیا۔ انہوں نے تابعین اور تبع تابعین رحمہم اللہ تک دین کی تعلیمات کو پہنچایا اور قرآن و سنت کی روشنی میں ایک ایسا عظیم تمدن قائم کیا جس نے انسانی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ اسلام کی تعلیمات نے انسانیت کو جہالت، ظلم، ناانصافی، طبقاتی تفریق اور اخلاقی زوال کی تاریکیوں سے نکال کر عدل و مساوات اور علم و ہدایت کے نور سے منور کر دیا۔

بدقسمتی سے تاریخ کے مختلف ادوار میں امتِ مسلمہ بتدریج قرآن و سنت کی اصل روح سے دور ہوتی چلی گئی۔ جب کوئی قوم وحیِ الٰہی کی رہنمائی سے روگردانی کر کے صرف انسانی عقل اور محدود فلسفوں پر اعتماد کرنے لگتی ہے تو اس کے نتیجے میں فکری انتشار، اخلاقی انحطاط اور معاشرتی زوال جنم لیتا ہے۔ یہی کیفیت آج عالمِ اسلام اور پوری دنیا میں مختلف صورتوں میں نمایاں نظر آتی ہے۔

آج انسانیت جن پیچیدہ مسائل اور بحرانوں سے دوچار ہے ان میں اخلاقی انحطاط، معاشی ناانصافی، سماجی عدم توازن، جنگ و فساد اور روحانی خلا شامل ہیں۔ اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو ان تمام مسائل کی جڑ انسان کا اپنے خالق کی ہدایت سے دور ہو جانا ہے۔ قرآن مجید دراصل علمِ الٰہی کا سرچشمہ ہے، اور یہ وہ علم ہے جو انسانی فکر و فلسفہ سے کہیں زیادہ کامل، جامع اور بلند ہے۔ انسانی عقل اپنی جگہ ایک عظیم نعمت ہے، لیکن وہ محدود اور ناقص ہے، جبکہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو کامل علم اور کامل حکمت پر مبنی ہے۔

بعثتِ نبوی ﷺ اور نزولِ قرآن کا اصل مقصد یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ دین زمین پر غالب اور نافذ ہو اور انسان اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اسی کے مطابق ڈھالے۔ اسلام کا پیغام صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ اس میں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد، عدل و انصاف، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے بنیادی اصول بھی شامل ہیں۔ یہی اصول ایک متوازن اور عادل معاشرے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

اگر مسلمان واقعی اپنے معاشروں کی اصلاح اور ترقی چاہتے ہیں تو انہیں قرآن و سنت کی اصل تعلیمات کو سمجھنا اور انہیں اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو سکونِ قلب، فکری استحکام اور معاشرتی عدل کی طرف لے جاتا ہے۔ اسلام کا نظام انسان کو نہ صرف روحانی نجات فراہم کرتا ہے بلکہ ایک ایسا معاشرہ بھی تشکیل دیتا ہے جس میں انصاف، اخوت اور انسانی وقار کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔

آج وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ امتِ مسلمہ بعثتِ نبوی ﷺ اور نزولِ اسلام کے حقیقی مقصد کو دوبارہ سمجھنے کی کوشش کرے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو منہاجِ نبوی کے مطابق ڈھالیں اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر نافذ کرنے کے لیے سنجیدہ اور مسلسل جدوجہد کریں۔ اگر مسلمان اخلاص، اتحاد اور حکمت کے ساتھ اس راستے کو اختیار کریں تو یقیناً وہ دوبارہ عزت و وقار اور ترقی و سربلندی کی منزل حاصل کر سکتے ہیں۔

اللہ ربّ العالمین سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بعثتِ نبوی ﷺ اور نزولِ قرآن کے اصل مقصد کو صحیح طور پر سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی ہمت دے، اور امتِ مسلمہ کو اتحاد، بصیرت اور ہدایت کی راہ پر گامزن فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔