Thursday, 10 September 2020

اللہ تعالٰی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے کرنا فرض عین جبکہ اس کے خلاف عمل سنگین گناہ اور بعض صورتوں میں کفر

اللہ تعالٰی کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلے کرنا فرض عین جبکہ اس کے خلاف عمل سنگین گناہ اور بعض صورتوں میں کفر

ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی

اسلام ایک مکمل اور جامع ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی فردی، اجتماعی، معاشرتی اور ریاستی زندگی کے تمام معاملات کے لیے واضح اور قطعی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآن مجید کی متعدد آیات اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتی ہیں کہ مسلمانوں کے باہمی معاملات، تنازعات اور اجتماعی فیصلوں کا اصل معیار اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

"فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا" (النساء: 59)

مفہوم: "پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں اختلاف پیدا ہو جائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو، اگر تم حقیقتاً اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی طریقہ بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی سب سے اچھا ہے۔"

یہ آیت اس بنیادی اصول کو واضح کرتی ہے کہ ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ ہر نزاع اور ہر معاملہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کی طرف رجوع کرکے حل کیا جائے۔ یہی اسلامی عدل و انصاف کی اصل بنیاد ہے۔ اسی حقیقت کو مزید تاکید اور شدت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

"فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتّٰى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا" (النساء: 65)

مفہوم: "پس اے نبی! آپ کے رب کی قسم، یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک اپنے باہمی جھگڑوں میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر آپ کے فیصلے پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اسے پوری طرح دل و جان سے تسلیم نہ کر لیں۔"

اس آیت میں ایمان کے تین بنیادی تقاضے بیان کیے گئے ہیں:

اول یہ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فیصلے کا حَکم تسلیم کیا جائے۔

دوم یہ کہ آپ کے فیصلے پر دل میں کوئی تنگی یا اعتراض باقی نہ رہے۔

سوم یہ کہ اسے مکمل اطاعت اور رضا کے ساتھ قبول کیا جائے۔

اسی طرح قرآن مجید ان لوگوں کی شدید مذمت کرتا ہے جو ایمان کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن اپنے تنازعات کے فیصلے کے لیے غیر الٰہی نظاموں کی طرف رجوع کرنا چاہتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَن يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا" (النساء: 60)

مفہوم: "کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ اس وحی پر ایمان رکھتے ہیں جو آپ پر نازل ہوئی اور جو آپ سے پہلے نازل ہوئی، مگر وہ چاہتے ہیں کہ اپنے جھگڑوں کا فیصلہ طاغوت کے پاس لے جائیں، حالانکہ انہیں اس کا انکار کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور شیطان تو چاہتا ہے کہ انہیں دور کی گمراہی میں مبتلا کر دے۔"

یہاں "طاغوت" سے مراد ہر وہ نظام، قانون یا اختیار ہے جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مقابلے میں فیصلہ کرنے کا دعویٰ کرے۔ اسلام کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ ایک مومن کا دل، فکر اور عمل اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے سامنے مکمل طور پر جھکا ہوا ہونا چاہیے۔

اسی اصول کو مزید وضاحت کے ساتھ سورۃ المائدہ میں بیان کیا گیا ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنزَلَ اللّٰهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ" (المائدہ: 44)

مفہوم: "اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے تو وہی لوگ کافر ہیں۔"

اسی مضمون کو قرآن مجید نے آگے چل کر دو اور تعبیرات کے ساتھ بیان کیا ہے:

"وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنزَلَ اللّٰهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ" (المائدہ: 45)

مفہوم: "اور جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہی لوگ ظالم ہیں۔"

"وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنزَلَ اللّٰهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ" (المائدہ: 47)

مفہوم: "اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہی لوگ نافرمان اور فاسق ہیں۔"

مفسرین نے ان آیات کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان میں کفر، ظلم اور فسق کی مختلف درجات اور صورتیں مراد ہو سکتی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ بعض صورتوں میں یہ کفرِ اکبر ہوتا ہے جو انسان کو اسلام سے خارج کر دیتا ہے، جبکہ بعض حالات میں یہ کفرِ عملی یا "کفر دون کفر" کے معنی میں ہوتا ہے جو شدید گناہ تو ہے لیکن انسان کو ملت اسلامیہ سے خارج نہیں کرتا۔

اسلامی تاریخ میں اس مسئلے کی ایک مثال تاتاریوں کے زمانے میں بھی سامنے آئی جب انہوں نے چنگیز خان کے مرتب کردہ قوانین کو شریعت کے مقابلے میں نافذ کیا۔ اس صورت حال پر علماء اسلام نے شدید تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ اللہ کے نازل کردہ قانون کی موجودگی میں انسانی قوانین کو اس پر فوقیت دینا نہایت خطرناک فکری انحراف ہے۔

قرآن کریم اس حقیقت کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے کہ اصل عدل اور حقیقی انصاف اللہ کے قانون میں ہی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ" (المائدہ: 50)

مفہوم: "کیا یہ لوگ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں؟ حالانکہ یقین رکھنے والوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟"

یہ آیت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جو لوگ اللہ کے قانون کو چھوڑ کر انسانی خواہشات پر مبنی نظاموں کو اختیار کرتے ہیں وہ دراصل جاہلیت کے طرز فکر کی طرف لوٹتے ہیں۔

اسلام کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ حاکمیتِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور انسان کا حقیقی فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام معاملات کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ڈھالے۔ یہی طرز فکر اور یہی عملی رویہ انسان کو دنیا میں عدل و امن اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

لہٰذا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا محور بنائیں، اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی میں اللہ کے احکام کو مقدم رکھیں اور ہر معاملے میں الٰہی ہدایت کو معیار بنائیں۔ یہی راستہ دنیا و آخرت کی فلاح، عزت اور حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔

آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں قرآن و سنت کی صحیح سمجھ عطا فرمائے، ہمیں اپنے احکام کی کامل اطاعت کی توفیق دے، امت مسلمہ کو فکری انتشار اور فرقہ واریت سے محفوظ رکھے، اور ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

(تقریباً 1080