Monday, 18 May 2020

بلا سودی نظامِ معیشت اور قرآن و سنت پر مبنی نظامِ مصطفٰی ﷺ: ضرورت، اہمیت اور ناگزیریت

بلاسودی نظامِ معیشت اور قرآن و سنت پر مبنی نظامِ مصطفٰی ﷺ: ضرورت، اہمیت اور ناگزیریت
تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
اسلام ایک ہمہ گیر اور کامل ضابطۂ حیات ہے جو انسانی زندگی کے ہر شعبے، عقیدہ، عبادت، اخلاق، معاشرت، سیاست اور معیشت وغیرہم کے لیے واضح اور جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآن مجید اس حقیقت کو بار بار واضح کرتا ہے کہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حقیقی استحکام اسی وقت ممکن ہے جب وہ اپنے تمام معاملات میں وحیِ الٰہی کی رہنمائی کو اختیار کرے۔ ارشادِ باری تعالٰی ہے: “اور آپ ان کے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالٰی نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں” (المائدہ: 49)۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ انسانی معاشرے کے نظامِ عدل، سیاست اور معیشت سمیت تمام معاملات میں اللہ تعالٰی کے نازل کردہ اصول ہی حتمی معیار ہونے چاہئیں۔
معیشت انسانی معاشرے کا بنیادی ستون ہے۔ اگر معاشی نظام عدل، دیانت اور توازن پر قائم ہو تو معاشرہ امن و خوشحالی کی طرف بڑھتا ہے، لیکن اگر معیشت ظلم، استحصال اور ناانصافی پر مبنی ہو تو اس کے اثرات پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ اسی حقیقت کے پیشِ نظر اسلام نے سود (ربا) کو قطعی طور پر حرام قرار دیا اور بلاسودی معیشت کو عدل و انصاف کے ساتھ جوڑا ہے۔
قرآن مجید سود کو محض ایک معاشی برائی قرار نہیں دیتا بلکہ اسے اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف قرار دیتا ہے۔ سورۃ البقرہ میں ارشاد ہے:
فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (البقرۃ: 279)
مفہوم:
“پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا (یعنی سود چھوڑ نہ دیا) تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔ اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لیے تمہارا اصل سرمایہ ہے، نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔” (البقرہ: 279)۔ اس آیت کا مفہوم اور اسلام کی معاشی تعلیمات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ نہ کوئی شخص دوسروں پر ظلم کرے اور نہ خود ظلم کا شکار ہو۔ بلاسودی نظامِ معیشت دراصل اسی اصولِ عدل کی عملی شکل ہے۔
اسلامی معاشی فکر میں سود اور تجارت کے درمیان ایک بنیادی فرق بیان کیا گیا ہے۔ سود دراصل محض رقم کے تبادلے سے پیدا ہونے والا اضافہ ہے، جبکہ تجارت میں منافع حقیقی معاشی سرگرمی اور اشیاء کے تبادلے سے حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا گیا۔ تجارت میں محنت، خطرہ اور ذمہ داری شامل ہوتی ہے، جب کہ سود میں بغیر کسی حقیقی معاشی سرگرمی کے دولت میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سودی نظام معیشت معاشی عدم توازن، طبقاتی تفاوت اور استحصالی ڈھانچے کو جنم دیتا ہے۔
عصر حاضر میں عالمی معاشی نظام کی حقیقت بھی اسی کی تصدیق کرتی ہے۔ دنیا کے بڑے مالیاتی ادارے اور عالمی قرضہ جاتی نظام ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کے بوجھ تلے دباتے چلے جا رہے ہیں۔ نتیجتاً معیشت کا بڑا حصہ سودی ادائیگیوں میں صرف ہو جاتا ہے اور عوامی فلاح کے منصوبے پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلامی معاشی نظام شراکت داری، منافع و نقصان کی تقسیم اور حقیقی معاشی سرگرمیوں پر مبنی ہوتا ہے، جس میں سرمایہ اور محنت دونوں کو برابر کی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
پاکستان میں بلاسودی معیشت کے قیام کے لیے علمی اور تحقیقی سطح پر قابلِ قدر کام ہو چکا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے مختلف ادوار میں سودی نظام کے خاتمے اور اس کے متبادل اسلامی مالیاتی ڈھانچے کے بارے میں مفصل سفارشات مرتب کی ہیں۔ اسی طرح عدالتِ عظمیٰ پاکستان نے بھی اپنے تاریخی فیصلوں میں سود کے خاتمے کی ضرورت اور آئینی تقاضوں کو واضح کیا ہے۔ تاہم افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان سفارشات اور فیصلوں کے باوجود عملی سطح پر پیش رفت سست اور محدود رہی ہے۔
اس تعطل کی ایک بڑی وجہ فکری اور عملی سطح پر وہ اختلافات ہیں جنہوں نے مسلم معاشروں کو کمزور کر رکھا ہے۔ فقہی اور مسلکی اختلافات علمی دنیا میں ہمیشہ موجود رہے ہیں اور ان کا وجود بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ اختلافات اجتماعی مقاصد کے حصول میں رکاوٹ بن جائیں۔ قرآن و سنت پر مبنی عادلانہ نظامِ معیشت اور نظامِ عدل کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر کے علماء اور اہلِ دانش فروعات میں اختلاف کے باوجود بنیادی اصولوں پر اتحاد پیدا کریں۔
اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان اپنے بنیادی اصولوں پر متحد ہوئے تو انہوں نے نہ صرف علمی اور تہذیبی میدان میں بلکہ معاشی اور سیاسی میدان میں بھی عظیم کامیابیاں حاصل کیں۔ لیکن جب باہمی اختلافات غالب آ گئے تو ان کی قوت منتشر ہو گئی۔ اس لیے آج کے دور میں سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ قرآن و سنت کی بنیاد پر ایک مشترکہ فکری و عملی لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔
یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ کسی بھی نظام کے نفاذ کے لیے صرف نظریاتی بحث کافی نہیں ہوتی۔ اس کے لیے عوامی شعور، تعلیمی اصلاحات اور مضبوط سیاسی ارادے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ میڈیا، تعلیمی اداروں اور مساجد کو اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ عوام کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ بلاسودی نظامِ معیشت کوئی خیالی یا غیر عملی تصور نہیں بلکہ ایک ایسا متوازن معاشی ماڈل ہے جو عدل، استحکام اور سماجی فلاح کو یقینی بنا سکتا ہے۔
اسی طرح سیاست دانوں اور پالیسی سازوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ قرآن و سنت پر مبنی معاشی اصول محض مذہبی جذبات کا اظہار نہیں بلکہ ایک ایسا عملی نظام ہے جو معاشی استحکام، سماجی انصاف اور قومی خودمختاری کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ جب تک ریاستی سطح پر سنجیدہ اور مخلصانہ سیاسی ارادہ پیدا نہیں ہوتا، اس وقت تک بلاسودی نظامِ معیشت کے قیام کی کوششیں مکمل طور پر نتیجہ خیز نہیں ہو سکتیں۔
آج پاکستان سمیت پوری دنیا شدید معاشی بحرانوں، بڑھتی ہوئی غربت اور معاشی عدم توازن کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں اسلام کی معاشی تعلیمات نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک متوازن اور عادلانہ متبادل فراہم کرتی ہیں۔ بلاسودی نظامِ معیشت دراصل اسی عادلانہ معاشی فکر کا مظہر ہے جو استحصال کے بجائے تعاون، اور ظلم کے بجائے انصاف کو فروغ دیتا ہے۔
اس مقصد کے حصول کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں: مکاتبِ فکر کے درمیان فکری ہم آہنگی اور اتحاد کو فروغ دیا جائے، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو عملی قانون سازی کی شکل دی جائے، عدالتی فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، تعلیمی نصاب میں اسلامی معاشی فکر کو شامل کیا جائے، اور میڈیا کے ذریعے عوامی شعور کو بیدار کیا جائے۔
آخر میں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ قرآن و سنت پر مبنی نظامِ عدل و معیشت کا قیام محض ایک سیاسی یا معاشی منصوبہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور ایمانی ذمہ داری بھی ہے۔ جب ایک معاشرہ عدل، دیانت اور اجتماعی خیر کے اصولوں کو اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نصرت اور برکت اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کی صحیح فہم عطا فرمائے اور ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی توفیق بخشے جو عدل، دیانت اور انسانی فلاح کے اعلٰی اصولوں پر قائم ہو۔

(الفاظ: تقریباً 1100)

بچوں کو اردو پڑھائیں

ہمیں چاہیئے کہ اپنے بچوں کو ان کی مادری زبان، اپنی قومی زبان اردو بولنا، لکھنا، پڑھنا، سمجھنا سکھائیں، اپنے گھروں، دفاتر، کام کاروبار کے مقامات اور مدارس (سکولز) میں تمام امور و معاملات کو اردو میں نمٹائیں، اردو اور دیگر مقامی و علاقائی زبانوں کو پورے عزم و استقلال کے ساتھ ہر سطح پر رائج کریں اود انہیں فخر و اعتماد سے انگریزی زبان پر ترجیح و فوقیت اور اولیت دیں، اپنے تعارف نامے، دعوت نامے، گھروں پر ناموں کی تختیاں، تمام تر خط و کتابت وغیرہ میں اردو زبان کو اختیار کریں اور بجا طور پر یہ فخر کی بات ہے۔
اس ضمن میں ہمیں مضبوط و مستحکم قوت ارادی، مستقل مزاجی اور خوداعتمادی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قومی تعمیر و ترقی کی جانب ہمارے تیزی سے قدم آگے بڑھ سکیں، ہمیں انگریزی زبان میں مہارت کو تعلیم یافتہ ہونے کا معیار سمجھنے کی روش ترک کر دینی چاہیئے کیونکہ انگریزی زبان بھی اردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی، پوٹھوہاری، کشمیری وغیرہ متعدد زبانوں میں سے محض ایک زبان ہی ہے، کوئی علم و ہنر یا امتیازی فن، عقل و شعور، فہم و فراست، علم و دانش، ذہانت و فطانت کا معیار ہر گز نہیں ہے، شکریہ!
(پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں)

تعلیمی زبون حالی

*"اُردُو زُبان کے عروج و زوال کی فکر انگیز داستان غم"*
 *اس شرمناک زوال و بتدریج انحطاط کا ذمہ دار کون ہے؟*

یہ 1971ء کی بات ہے جب مدرسہ کو اسکول بنا دیا گیا تھا۔ ۔ ۔ ۔۔
لیکن ابھی تک انگریزی زبان کی اصطلاحات دورانِ تعلیم استعمال نہیں ہوتی تھیں۔ صرف انگریزی کے چند الفاظ ہی مستعمل تھے، تمام نجی تعلیمی اداروں کو قومیا لیا تھا جسے بعد ازان نیشنلائزڈ قرار دے دیا گیا، اردو زبان میں شائڈ ہونے والے اخبارات بھی اردو لغات و اصناف ادب سے مستغنی ہونے کی روش اپنانے لگے، پھر رفتہ رفتہ اردو الفاظ کی جگہ انگریزی الفاظ مستعمل ہونے لگے، حلانکہ 1970 تک ابھی اردو کا اس طرح زوال شروع نہیں ہوا تھا
مثلا":
ہیڈ ماسٹر،
فِیس،
فیل،
پاس وغیرہ
 "گنتی" ابھی "کونٹنگ" میں تبدیل نہیں ہوئی تھی۔ اور "پہاڑے" ابھی "ٹیبل" نہیں کہلائے تھے۔

60 کی دھائی میں چھوٹے بچوں کو نام نہاد پڑھے لکھے گھروں میں "خدا حافظ" کی جگہ "ٹاٹا" سکھایا جاتا اور مہمانوں کے سامنے بڑے فخر سے معصوم بچوں سے "ٹاٹا" کہلوایا جاتا۔
زمانہ آگے بڑھا، مزاج تبدیل ہونے لگے۔
 عیسائی مشنری سکولوں کی دیکھا دیکھی کچھ نجی (پرائیوٹ) سکولوں نے انگلش میڈیم کی پیوند کاری شروع کی۔
 سالانہ امتحانات کے موقع پر کچھ نجی (پرائیویٹ) سکولوں میں پیپر جبکہ سرکاری سکول میں پرچے ہوا کرتے تھے۔ پھر کہیں کہیں استاد کو سر کہا جانے لگا- اور پھر آہستہ آہستہ سارے اساتذہ ٹیچرز بن گئے۔
 پھر عام بول چال میں غیر محسوس طریقے سے اردو کا جو زوال شروع ہوا وہ اب تو نہایت تیزی سے جاری ہے۔

اب تو یاد بھی نہیں کہ کب جماعت، کلاس میں تبدیل ہوگئی- اور جو ہم جماعت تھے وہ کب کلاس فیلوز بن گئے۔

ہمیں بخوبی یاد ہے کہ 50 اور 60 کی دھائی میں؛ اول، دوم، سوم، چہارم، پنجم، ششم، ہفتم، ہشتم، نہم اور دہم، جماعتیں ہوا کرتی تھیں، اور کمروں کے باہر لگی تختیوں پر اسی طرح لکھا ہوتا تھا۔
پھر ان کمروں نے کلاس روم کا لباس اوڑھ لیا-
اور فرسٹ سے ٹینتھ کلاس کی نیم پلیٹس لگ گئیں۔
 تفریح کی جگہ ریسیس اور بریک کے الفاظ استعمال ہونے لگے۔
گرمیوں کی چھٹیوں یا تعطیلات موسم گرما اور سردیوں کی چھٹیوں یا تعطیلات موسم سرما کی جگہ سمر ویکیشن اور وِنٹر ویکیشن آ گئیں۔
 چھٹیوں کا کام چھٹیوں کا کام نہ رہا بلکہ ہولیڈے پریکٹس ورک ہو گیا۔
 پہلے پرچے شروع ہونے کی تاریخ آتی تھی اب پیپرز کی ڈیٹ شیٹ آنے لگی۔
امتحانات کی جگہ ایگزامز ہونے لگے-
 ششماہی اور سالانہ امتحانات کی جگہ فرسٹ ٹرم، مڈ ٹرم اور فائینل ایگزامز کی اصطلاحات آگئیں-
 اب طلباء امتحان دینے کیلیے امتحانی مرکز نہیں جاتے بلکہ سٹوڈنٹس ایگزام کیلیے ایگزامینیشن سینٹر جاتے ہیں۔
قلم،
دوات،
سیاہی،
تختی، اور
سلیٹ
 جیسی اشیاء گویا میوزیم میں رکھ دی گئیں ان کی جگہ لَیڈ پنسل، جیل پین اور بال پین آگئے- کاپیوں پر نوٹ بکس کا لیبل ہوگیا-
نصاب کو کورس کہا جانے لگا
 اور اس کورس کی ساری کتابیں بستہ کے بجائے بیگ میں رکھ دی گئیں۔
ریاضی کو میتھس کہا جانے لگا۔
 اسلامیات اسلامک سٹڈی بن گئی- انگریزی کی کتاب انگلش بک بن گئی- اسی طرح طبیعیات، فزکس میں، حیاتیات بیولوجی اور معاشیات، اکنامکس میں، سماجی علوم، سوشل سائنس میں تبدیل ہوگئے-
پہلے طلبہ پڑھائی کرتے تھے اب اسٹوڈنٹس سٹڈی کرنے لگے۔
پہاڑے یاد کرنے والوں کی اولادیں ٹیبل یاد کرنے لگیں۔
 اساتذہ کیلیے میز اور کرسیاں لگانے والے، ٹیچرز کے لیے ٹیبل اور چئیرز لگانے لگے۔
داخلوں کی بجائے ایڈمشنز ہونے لگے۔.... اول، دوم، اور سوم آنے والے طلبہ؛ فرسٹ، سیکنڈ، اور تھرڈ آنے والے سٹوڈنٹس بن گئے۔
پہلے اچھی کارکردگی پر انعامات ملا کرتے تھے پھر پرائز ملنے لگے۔
بچے تالیاں پیٹنے کی جگہ چیئرز اور کلیپنگ کرنے لگے۔
 یہ سب کچھ سرکاری سکولوں میں ہوا ہے
اور تعلیمی اداروں کا رونا ہی کیوں رویا جائے، ہمارے گھروں میں بھی اردو کو یتیم اولاد کی طرح ایک کونے میں ڈال دیا گیا ہے۔
زنان خانہ اور مردانہ تو کب کے ختم ہو گئے۔ خواب گاہ کی البتہ موجودگی لازمی ہے تو اسے ہم نے بیڈ روم کا نام دے دیا۔
باورچی خانہ کچن بن گیا اور اس میں پڑے برتن کراکری کہلانے لگے۔
غسل خانہ پہلے باتھ روم ہوا پھر ترقی کر کے واش روم بن گیا۔
 مہمان خانہ یا بیٹھک کو اب ڈرائنگ روم کہتے ہوئے فخر محسوس کیا جاتا ہے۔
مکانوں میں زمینی یا فرشی منزل کو گراؤنڈ فلور ،پہلی منزل کو فرسٹ فلور کا نام دے دیا گیا اور دوسری منزل کو سیکنڈ فلور۔
 دروازہ ڈور کہلایا جانے لگا، پہلے مہمانوں کی آمد پر گھنٹی بجتی تھی اب ڈور بیل بجنے لگی۔
 کمرے روم بن گئے۔ کپڑے الماری کی بجائے کپبورڈ میں رکھے جانے لگے۔
"ابو جی" یا "ابا جان" جیسا پیارا اور ادب سے بھرپور لفظ دقیانوسی لگنے لگا، اور ہر طرف ڈیڈی، ڈیڈ، پاپا، پپّا، پاپے کی گردان لگ گئی حالانکہ پہلے تو پاپے(رس) صرف کھانے کے لئے ہوا کرتے تھے اور اب بھی کھائے ہی جاتے ہیں-
اسی طرح شہد کی طرح میٹھا لفظ "امی" یا امی جان  "ممی" اور مام میں تبدیل ہو گیا۔
سب سے زیادہ نقصان رشتوں کی پہچان کا ہوا۔
 چچا، چچی، تایا، تائی، ماموں ممانی، پھوپھا، پھوپھی، خالو خالہ سب کے سب ایک غیر ادبی اور بے احترام سے لفظ "انکل اور آنٹی" میں تبدیل ہوگئے۔
 بچوں کے لیے ریڑھی والے سے لے کر سگے رشتہ دار تک سب انکل بن گئے۔
 یعنی محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے۔
ساری عورتیں آنٹیاں، چچا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد بہنیں اور بھائی سب کے سب کزنس میں تبدیل ہوگئے، نہ رشتے کی پہچان رہی اور نہ ہی جنس کی۔
نہ جانے ایک نام تبدیلی کے زد سے کیسے بچ گیا ۔ ۔ ۔ گھروں میں کام کرنے والی خواتین پہلے بھی ماسی کہلاتی تھیں اب بھی ماسی ہی ہیں۔
گھر اور سکول میں اتنی زیادہ تبدیلیوں کے بعد بازار انگریزی کی زد سے کیسے محفوظ رہتے۔
 دکانیں شاپس میں تبدیل ہو گئیں اور ان پر گاہکوں کی بجائے کسٹمرز آنے لگے، آخر کیوں نہ ہوتا کہ دکان دار بھی تو سیلز مین بن گئے جس کی وجہ سے لوگوں نےخریداری چھوڑ دی اور شاپنگ کرنے لگے۔
سڑکیں روڈز بن گئیں۔
 کپڑے کا بازار کلاتھ مارکیٹ بن گئی، یعنی کس ڈھب سے مذکر کو مونث بنادیا گیا۔
کریانے کی دکان نے جنرل اسٹور کا روپ دھار لیا،
 نائی نے باربر بن کر حمام بند کردیا اور ہیئر کٹنگ سیلون کھول لیا۔
ایسے ماحول میں دفاتر بھلا کہاں بچتے۔ پہلے ہمارا دفتر ہوتا تھا جہاں مہینے کے مہینے تنخواہ ملا کرتی تھی، وہ اب آفس بن گیا اور منتھلی سیلری ملنے لگی ہے اور جو کبھی صاحب تھے وہ باس بن گئے ہیں،
بابو کلرک اور چپراسی پِیئون بن گئے۔
 پہلے دفتر کے نظام الاوقات لکھے ہوتے تھے اب آفس ٹائمنگ کا بورڈ لگ گیا-
سود جیسے قبیح فعل کو انٹرسٹ کہا جانے لگا۔ دلے دلال، طوائفیں، کنجر اور کنجریاں آرٹسٹ اور سٹارز بن گئے
 اور محبت کو 'لَوّ' کا نام دے کر محبت کی ساری چاشنی اور تقدس ہی چھین لیا گیا۔
 صحافی رپورٹر بن گئے اور اخبارات میں خبریں پڑھنے سننے کے بجائے ہم نیوز پیپرز کے ریڈرز بن گئے
کس کس کا اور کہاں کہاں کا رونا رویا جائے۔ آوے کا آوا ہی بگڑ گیا ہے۔
اردو زبان کے زوال کی صرف حکومت ہی ذمہ دار نہیں، عام آدمی تک نے اس میں حتی المقدور حصہ لیا ہے اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہمیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ ہم نے اپنی خوبصورت زبان اردو کا حلیہ مغرب سے مرعوب ہو کر کیسے بگاڑ لیا ہے۔
 وہ الفاظ جو اردو زبان میں پہلے سے موجود ہیں اور مستعمل بھی ہیں ان کو چھوڑ کر انگریزی زبان کے الفاظ کو استعمال کرنے میں فخر محسوس کرنے لگے ہیں
وائے ناکامیِ متاع کارواں جاتا رہا
 کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
ہم کہاں سے کہاں آگئے اورکہاں جاتے جا رہے ہیں؟
 دوسروں کا کیا رونا روئیں، ہم خود ہی اس کے ذمہ دار ہیں. دوسرا کوئی نہیں۔
 بہت سے اردو الفاظ کو ہم نے انگریزی قبرستان میں مکمل دفن کر دیا ہے اور مسلسل دفن کرتے جا رہے ہیں. اور روز بروز یہ عمل تیزتر ہوتا جا رہا ہے۔
*روکیے، لله روکیے،*
 *ارود کو مکمل زوال پزیر ہونے سے روکیے اور اسے مکمل ڈوبنے سے بچانے کی کوشش کیجئے ۔*
اگر آپ مناسب سمجھیں تو قوم کو بیدار کرنے کی خاطر اس تحریر کو شیئر کریں.
*ملاحظہ: قومیں اپنی قومی زبان کو پروان چڑھا کر ہی ترقی کرتی ہیں۔ موجودہ زمانے کا یہی سکہ بند اصول ہے۔ جرمنی، فرانس، ناروے، جاپان اور چین و روس سمیت دیگر تمام تر تروی یافتہ اقوام عالم اس کی زندہ مثال و ثبوت پیش کرتی ہیں کہ غیر ملکی زبان کو ذریعہ تعلیم بنا اور اس کی ذھنی غلامی اختیار کر کے آج تک دنیا بھر میں کسی بھی قوم و ملک اور معاشرے نے کبھی ماضی و حال میں ترقی کی ہے اور نہ مستقبل میں کبھی ایسا ہونا ممکن ہے!
(پروفیسر ڈاکٹر پرویز اقبال آرائیں, کراچی)