بلاسودی نظامِ معیشت اور قرآن و سنت پر مبنی نظامِ مصطفٰی ﷺ: ضرورت، اہمیت اور ناگزیریت
تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
اسلام ایک ہمہ گیر اور کامل ضابطۂ حیات ہے جو انسانی زندگی کے ہر شعبے، عقیدہ، عبادت، اخلاق، معاشرت، سیاست اور معیشت وغیرہم کے لیے واضح اور جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآن مجید اس حقیقت کو بار بار واضح کرتا ہے کہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حقیقی استحکام اسی وقت ممکن ہے جب وہ اپنے تمام معاملات میں وحیِ الٰہی کی رہنمائی کو اختیار کرے۔ ارشادِ باری تعالٰی ہے: “اور آپ ان کے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ تعالٰی نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں” (المائدہ: 49)۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ انسانی معاشرے کے نظامِ عدل، سیاست اور معیشت سمیت تمام معاملات میں اللہ تعالٰی کے نازل کردہ اصول ہی حتمی معیار ہونے چاہئیں۔
معیشت انسانی معاشرے کا بنیادی ستون ہے۔ اگر معاشی نظام عدل، دیانت اور توازن پر قائم ہو تو معاشرہ امن و خوشحالی کی طرف بڑھتا ہے، لیکن اگر معیشت ظلم، استحصال اور ناانصافی پر مبنی ہو تو اس کے اثرات پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ اسی حقیقت کے پیشِ نظر اسلام نے سود (ربا) کو قطعی طور پر حرام قرار دیا اور بلاسودی معیشت کو عدل و انصاف کے ساتھ جوڑا ہے۔
قرآن مجید سود کو محض ایک معاشی برائی قرار نہیں دیتا بلکہ اسے اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف قرار دیتا ہے۔ سورۃ البقرہ میں ارشاد ہے:
فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِن تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (البقرۃ: 279)
مفہوم:
“پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا (یعنی سود چھوڑ نہ دیا) تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔ اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لیے تمہارا اصل سرمایہ ہے، نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔” (البقرہ: 279)۔ اس آیت کا مفہوم اور اسلام کی معاشی تعلیمات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ نہ کوئی شخص دوسروں پر ظلم کرے اور نہ خود ظلم کا شکار ہو۔ بلاسودی نظامِ معیشت دراصل اسی اصولِ عدل کی عملی شکل ہے۔
اسلامی معاشی فکر میں سود اور تجارت کے درمیان ایک بنیادی فرق بیان کیا گیا ہے۔ سود دراصل محض رقم کے تبادلے سے پیدا ہونے والا اضافہ ہے، جبکہ تجارت میں منافع حقیقی معاشی سرگرمی اور اشیاء کے تبادلے سے حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا گیا۔ تجارت میں محنت، خطرہ اور ذمہ داری شامل ہوتی ہے، جب کہ سود میں بغیر کسی حقیقی معاشی سرگرمی کے دولت میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سودی نظام معیشت معاشی عدم توازن، طبقاتی تفاوت اور استحصالی ڈھانچے کو جنم دیتا ہے۔
عصر حاضر میں عالمی معاشی نظام کی حقیقت بھی اسی کی تصدیق کرتی ہے۔ دنیا کے بڑے مالیاتی ادارے اور عالمی قرضہ جاتی نظام ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کے بوجھ تلے دباتے چلے جا رہے ہیں۔ نتیجتاً معیشت کا بڑا حصہ سودی ادائیگیوں میں صرف ہو جاتا ہے اور عوامی فلاح کے منصوبے پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلامی معاشی نظام شراکت داری، منافع و نقصان کی تقسیم اور حقیقی معاشی سرگرمیوں پر مبنی ہوتا ہے، جس میں سرمایہ اور محنت دونوں کو برابر کی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
پاکستان میں بلاسودی معیشت کے قیام کے لیے علمی اور تحقیقی سطح پر قابلِ قدر کام ہو چکا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے مختلف ادوار میں سودی نظام کے خاتمے اور اس کے متبادل اسلامی مالیاتی ڈھانچے کے بارے میں مفصل سفارشات مرتب کی ہیں۔ اسی طرح عدالتِ عظمیٰ پاکستان نے بھی اپنے تاریخی فیصلوں میں سود کے خاتمے کی ضرورت اور آئینی تقاضوں کو واضح کیا ہے۔ تاہم افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان سفارشات اور فیصلوں کے باوجود عملی سطح پر پیش رفت سست اور محدود رہی ہے۔
اس تعطل کی ایک بڑی وجہ فکری اور عملی سطح پر وہ اختلافات ہیں جنہوں نے مسلم معاشروں کو کمزور کر رکھا ہے۔ فقہی اور مسلکی اختلافات علمی دنیا میں ہمیشہ موجود رہے ہیں اور ان کا وجود بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ اختلافات اجتماعی مقاصد کے حصول میں رکاوٹ بن جائیں۔ قرآن و سنت پر مبنی عادلانہ نظامِ معیشت اور نظامِ عدل کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر کے علماء اور اہلِ دانش فروعات میں اختلاف کے باوجود بنیادی اصولوں پر اتحاد پیدا کریں۔
اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان اپنے بنیادی اصولوں پر متحد ہوئے تو انہوں نے نہ صرف علمی اور تہذیبی میدان میں بلکہ معاشی اور سیاسی میدان میں بھی عظیم کامیابیاں حاصل کیں۔ لیکن جب باہمی اختلافات غالب آ گئے تو ان کی قوت منتشر ہو گئی۔ اس لیے آج کے دور میں سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ قرآن و سنت کی بنیاد پر ایک مشترکہ فکری و عملی لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔
یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ کسی بھی نظام کے نفاذ کے لیے صرف نظریاتی بحث کافی نہیں ہوتی۔ اس کے لیے عوامی شعور، تعلیمی اصلاحات اور مضبوط سیاسی ارادے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ میڈیا، تعلیمی اداروں اور مساجد کو اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ عوام کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ بلاسودی نظامِ معیشت کوئی خیالی یا غیر عملی تصور نہیں بلکہ ایک ایسا متوازن معاشی ماڈل ہے جو عدل، استحکام اور سماجی فلاح کو یقینی بنا سکتا ہے۔
اسی طرح سیاست دانوں اور پالیسی سازوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ قرآن و سنت پر مبنی معاشی اصول محض مذہبی جذبات کا اظہار نہیں بلکہ ایک ایسا عملی نظام ہے جو معاشی استحکام، سماجی انصاف اور قومی خودمختاری کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ جب تک ریاستی سطح پر سنجیدہ اور مخلصانہ سیاسی ارادہ پیدا نہیں ہوتا، اس وقت تک بلاسودی نظامِ معیشت کے قیام کی کوششیں مکمل طور پر نتیجہ خیز نہیں ہو سکتیں۔
آج پاکستان سمیت پوری دنیا شدید معاشی بحرانوں، بڑھتی ہوئی غربت اور معاشی عدم توازن کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں اسلام کی معاشی تعلیمات نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک متوازن اور عادلانہ متبادل فراہم کرتی ہیں۔ بلاسودی نظامِ معیشت دراصل اسی عادلانہ معاشی فکر کا مظہر ہے جو استحصال کے بجائے تعاون، اور ظلم کے بجائے انصاف کو فروغ دیتا ہے۔
اس مقصد کے حصول کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں: مکاتبِ فکر کے درمیان فکری ہم آہنگی اور اتحاد کو فروغ دیا جائے، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو عملی قانون سازی کی شکل دی جائے، عدالتی فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، تعلیمی نصاب میں اسلامی معاشی فکر کو شامل کیا جائے، اور میڈیا کے ذریعے عوامی شعور کو بیدار کیا جائے۔
آخر میں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ قرآن و سنت پر مبنی نظامِ عدل و معیشت کا قیام محض ایک سیاسی یا معاشی منصوبہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور ایمانی ذمہ داری بھی ہے۔ جب ایک معاشرہ عدل، دیانت اور اجتماعی خیر کے اصولوں کو اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نصرت اور برکت اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کی صحیح فہم عطا فرمائے اور ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی توفیق بخشے جو عدل، دیانت اور انسانی فلاح کے اعلٰی اصولوں پر قائم ہو۔
(الفاظ: تقریباً 1100)