Saturday, 8 July 2017

تعمیل کس کی؟ حُکمِ اِلٰہ یا حکمِ الناس؟

تعمیل کس کی؟ حُکمِ اللہ یا حُکمِ الناس؟
تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی
اسلام ایک ایسا دین ہے جو اپنے ماخذ اور اساس کے اعتبار سے خالصتاً وحیِ الٰہی پر مبنی ہے۔ اس کا علم نہ کسی فلسفی کے ذہن کی پیداوار ہے اور نہ کسی قوم کے اجتماعی تجربات کا نتیجہ؛ بلکہ یہ وہ دین ہے جو براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور جسے خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے امت تک پہنچایا۔ اسی حقیقت کو قرآن کریم نے بار بار واضح کیا ہے کہ دین کا اصل معیار کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ ہیں، نہ کہ کسی فرد، جماعت یا فرقے کے اکابرین کی آراء۔
بدقسمتی سے تاریخِ امت کے بعض ادوار میں ایسا ہوا کہ فرقہ پرستی اور اکابر پرستی نے دین کے اس خالص سرچشمے پر گرد ڈالنے کی کوشش کی۔ بہت سے لوگ اپنے اپنے فرقوں کے اکابرین کی آراء کو اس حد تک مقدس سمجھنے لگے کہ اگر قرآن و سنت کی صریح نصوص بھی ان کے خلاف پیش کی جائیں تو وہ انہیں قبول کرنے کے بجائے یہ کہہ دیتے ہیں: “کیا ہمارے آباء و اجداد اور اکابر ہم سے زیادہ دیندار اور سمجھدار نہ تھے؟”۔ یہی طرزِ فکر دراصل وہ فکری بیماری ہے جسے قرآن مجید نے جاہلیت کے رویّے سے تعبیر کیا ہے۔
قرآن کا اصول: حق کا معیار وحی ہے
قرآن کریم واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ حق کی بنیاد اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا
مفہوم: جو کچھ رسول تمہیں دیں اسے لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ۔
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ
مفہوم: اپنے رب کی طرف سے نازل کردہ ہدایت کی پیروی کرو اور اس کے سوا دوسروں کی پیروی نہ کرو۔
ان آیات سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ مسلمان کے لیے اصل مرجع وحی ہے۔ کسی عالم، محدث، فقیہ یا بزرگ کی رائے اسی وقت قابلِ قبول ہے جب وہ قرآن و سنت کے مطابق ہو۔
آباء و اجداد کی اندھی تقلید کی مذمت
قرآن مجید نے بارہا اس ذہنیت کو رد کیا ہے کہ صرف اس وجہ سے کسی عمل کو صحیح سمجھ لیا جائے کہ ہمارے آباء و اجداد اسے کرتے آئے ہیں۔ مشرکینِ مکہ بھی یہی دلیل پیش کرتے تھے۔ قرآن میں ہے:
إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ
مفہوم: ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔
قرآن نے اس استدلال کو جاہلیت قرار دیتے ہوئے واضح فرمایا کہ اگر آباء و اجداد ہدایت سے محروم ہوں تو ان کی پیروی کوئی دلیل نہیں بنتی۔ اس اصول کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کسی بھی فرقے یا مکتب فکر کے اکابر کی بات حتمی معیار نہیں ہو سکتی۔
تعاملِ صحابہ: اصل معیار کی مثال
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ مقدس جماعت ہے جس نے دین کو براہِ راست رسول اللہ ﷺ سے سیکھا۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ اگر کسی مسئلے میں اختلاف ہو جاتا تو وہ فوراً قرآن اور سنت کی طرف رجوع کرتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک مشہور قول ہے:
“قریب ہے کہ تم پر آسمان سے پتھر برسیں، میں کہتا ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور تم کہتے ہو کہ فلاں اور فلاں نے کہا۔”
یہ قول اس بات کی روشن مثال ہے کہ صحابہ کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مقابلے میں کسی کی رائے کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔
ائمہ محدثین و فقہاء کا موقف
اسلامی تاریخ کے عظیم ائمہ نے بھی ہمیشہ یہی تعلیم دی کہ ان کی رائے کو قرآن و سنت پر ترجیح نہ دی جائے۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے۔”
امام مالک رحمہ اللہ نے مسجد نبوی میں فرمایا:
“ہر شخص کی بات لی بھی جا سکتی ہے اور چھوڑی بھی جا سکتی ہے، سوائے اس ہستی کے جو اس قبر میں آرام فرما ہے۔”
اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کی طرف اشارہ کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا:
“جب میری رائے حدیث کے خلاف ہو تو میری رائے کو دیوار پر مار دو۔”
یہ اقوال واضح کرتے ہیں کہ اہل سنت کے ائمہ بھی اپنی آراء کو وحی کے مقابلے میں قطعی حجت نہیں سمجھتے تھے۔
فرقہ پرستی کا نقصان
فرقہ پرستی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے امت کے اندر دین کے اصل ماخذ سے دوری پیدا ہو جاتی ہے۔ جب ہر جماعت اپنے اکابر کو معیار بنا لیتی ہے تو قرآن و سنت کی مشترک بنیاد کمزور ہو جاتی ہے اور امت مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔
قرآن مجید نے اس خطرے سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا:
وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا
مفہوم: ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور مختلف گروہ بن گئے۔
یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ فرقہ واریت دراصل دین کے اصل پیغام سے انحراف کا نتیجہ ہے۔
دین میں اصل معیار: وحی اور اسوۂ نبوی ﷺ
اسلام کا حقیقی پیغام یہی ہے کہ مسلمان اپنی زندگی کے ہر شعبے میں اسوۂ رسول ﷺ کو معیار بنائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے رسول اللہ ﷺ کی زندگی کو “اسوۂ حسنہ” قرار دیا ہے۔
صحابہ کرام نے اسی اصول کو اپنایا اور یہی وجہ تھی کہ ان کی زندگیوں میں دین کی عملی تصویر نظر آتی تھی۔ اگر آج امت دوبارہ اسی اصول کو اختیار کر لے تو فرقہ واریت کی بڑی حد تک اصلاح ممکن ہے۔
خلاصۂ کلام
اس پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان کی وفاداری کسی فرقے یا شخصیت کے ساتھ نہیں بلکہ قرآن و سنت کے ساتھ ہونی چاہیے۔ علماء اور اکابر کا احترام اپنی جگہ ضروری ہے، مگر ان کی آراء کو وحی کے مقابلے میں قطعی حجت سمجھ لینا درست نہیں۔
اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ
“حکم اللہ سب سے بلند ہے اور اسی کی اطاعت اصل دین ہے۔”
لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اپنے ایمان اور عمل کا معیار صرف قرآن، سنت اور تعاملِ صحابہ کو بنائیں، فرقہ وارانہ تعصبات سے اوپر اٹھیں اور امت کی وحدت اور اصلاح کے لیے خالص دینی فکر کو اپنائیں۔
دعا
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو سمجھنے، سنت رسول ﷺ کی سچی پیروی کرنے اور ہر قسم کی فرقہ واریت و تعصب سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے دلوں کو حق کے لیے کھول دے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کو اپنی زندگی کا حقیقی معیار بناتے ہیں۔
اللّٰہم اَرِنَا الحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا البَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ۔
اللّٰہم وَحِّدْ صُفُوفَ المُسْلِمِیْنَ وَأَصْلِحْ أَحْوَالَهُمْ وَاجْعَلْنَا مِنَ المُتَّبِعِیْنَ لِکِتَابِکَ وَسُنَّةِ نَبِیِّکَ ﷺ۔ اللّٰہم آمین ثم آمین یا رب العالمین۔