Saturday, 25 July 2015

عقیدہ ختمِ نبوت: امت کے فکری وجود کا مسئلہ

عقیدۂ ختمِ نبوت: امت کے فکری وجود کا مسئلہ
تحریر: ڈاکٹر ابو احمد غلام مصطفٰی الراعی، کراچی۔
عقیدۂ ختمِ نبوت دینِ اسلام کی اساس، ایمانِ مسلم کی بنیاد اور امتِ مسلمہ کی وحدت کا مرکزی ستون ہے۔ قرآنِ مجید فرقانِ حمید نے نہایت وضاحت اور قطعیت کے ساتھ اعلان فرمایا:
“محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔”
اس آیتِ کریمہ پر چودہ سو برس سے امتِ مسلمہ کا اجماع قائم ہے اور اسی اجماع نے اسلام کے اعتقادی تشخص کو محفوظ رکھا ہے۔
دین کی تکمیل اور وحی کا اختتام
اللہ ربّ العالمین سبحانہ وتعالٰی نے دینِ اسلام کو رسول اللہ ﷺ پر مکمل فرما دیا اور وحی کے نزول کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے منقطع کر دیا۔ قرآن (وحیِ متلو) اور سنتِ رسول ﷺ (وحیِ غیر متلو) ہی قیامت تک کے لیے واحد ماخذِ ہدایت ہیں۔
قرآن کا اعلان ہے:
“آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا۔”
اس اعلان کے بعد دین میں کسی اضافے، ترمیم یا نئے ماخذِ ہدایت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔
قادیانیت اور ختمِ نبوت سے انحراف
انیسویں صدی میں برصغیر میں مرزا غلام احمد قادیانی کی جانب سے ایسے دعوے سامنے آئے جنہیں اس نے “ظلی نبوت” کا نام دیا۔ اس نے براہِ راست الٰہی ہدایت اور نبوی فیضان کا دعویٰ کیا۔
یہ دعویٰ اگرچہ الفاظ کے پردے میں پیش کیا گیا، مگر حقیقتاً یہ عقیدۂ ختمِ نبوت سے انحراف اور رسالتِ محمدی ﷺ میں ضمنی شراکت کا تصور تھا۔
برصغیر کے تمام مکاتبِ فکر کے جلیل القدر علما—اہلِ سنت، اہلِ حدیث اور فقہائے امت—نے متفقہ طور پر ان عقائد کو قرآن، سنت اور اجماعِ امت کے خلاف قرار دیا۔
ہدایت کا واحد راستہ
اسلامی اصول بالکل واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ عام انسانوں کو براہِ راست اور بلاواسطہ وحی یا نبوی ہدایت عطا نہیں فرماتا۔ ہدایت کا واحد راستہ انبیاء و رسل علیہم السلام ہیں، اور حضرت محمد ﷺ پر یہ سلسلہ ہمیشہ کے لیے مکمل ہو چکا۔
اس کے بعد نبوت یا اس کے کسی ذیلی تصور کا دعویٰ کرنا صریحاً اسلامی عقیدے کے منافی ہے۔
شناختِ مسلم اور فکری انتشار
دینِ اسلام میں مذہبی شناخت صرف “مسلم” ہے۔ قرآن و سنت کے علاوہ کسی شخصیت، جماعت یا تصنیف کو مستقل دینی اتھارٹی ماننا فکری انتشار کو جنم دیتا ہے۔
آج امتِ مسلمہ کی زبوں حالی، فرقہ واریت اور نظریاتی کمزوری کا ایک بڑا سبب یہی ہے کہ ہم نے دین کو گروہوں اور شخصیات میں تقسیم کر دیا ہے۔
معاصر چیلنجز اور فکری غفلت
موجودہ دور کا المیہ یہ ہے کہ اسلام کو محض انفرادی عبادات تک محدود کر دیا گیا ہے، حالانکہ قرآن و سنت ایک مکمل ضابطۂ حیات پیش کرتے ہیں۔
جب امت فکری طور پر کمزور ہوتی ہے تو الحادی اور باطل نظریات کو پنپنے کا موقع ملتا ہے اور ختمِ نبوت جیسے بنیادی عقائد کو چیلنج کیا جانے لگتا ہے۔
علمی دفاع کی ضرورت
وقت کا تقاضا ہے کہ عقیدۂ ختمِ نبوت کا دفاع محض جذباتی نعروں کے بجائے علمی، فکری اور دستوری سطح پر کیا جائے۔
نئی نسل کو قرآن و سنت کی روشنی میں واضح، مدلل اور غیر مبہم تعلیم دی جائے اور ہر اس فکر کا علمی محاسبہ کیا جائے جو نبوتِ محمدی ﷺ کی قطعیت پر اثر انداز ہوتی ہو۔
حاصلِ کلام
عقیدۂ ختمِ نبوت کوئی جزوی یا ثانوی مسئلہ نہیں بلکہ ایمان کی بنیاد ہے۔ اس پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ دراصل اسلام کی اساس کو متزلزل کرنے کے مترادف ہے۔
امت کی بقا، فکری سلامتی اور اخروی نجات اسی میں ہے کہ ہم قرآن و سنت سے مضبوط وابستگی اختیار کریں اور عقائدِ اسلامیہ کی حفاظت علم، بصیرت اور وحدت کے ساتھ کریی۔